کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پیچیدہ اور مشکل مسائل کا بیان
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مُشْكِلٍ حَرَامٌ ، وَلَيْسَ فِي الدِّينِ إِشْكَالٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر مشکل حرام ہے اور دین میں اشکال نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1259»
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " " سَيَكُونُ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَتَعَاطَوْنَ فِقْهًا وَهُوَ عَضَلُ الْمَسَائِلِ ، أُولَئِكَ شِرَارُ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت میں عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے ، جو ایک دوسرے کو فقہ کی تعلیم دیں گے اور وہ صرف پیچیدہ مسائل کا نام ہو گا ، وہ لوگ میری اُمت کے بدترین لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1431»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوَدِدْتُ أَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِ نَجْرَانَ حِجَابًا مِنْ شِدَّةِ مَا كَانُوا يُجَادِلُونَهُ ". ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری یہ خواہش ہے کہ کاش میرے اور اہل نجران کے درمیان کوئی حجاب ہوتا ۔ “ ( شاید راوی یہ کہتے ہیں : ) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ بحث بہت زیادہ کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 171»