حدیث نمبر: 696
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ ، فَيَقُولُ : اتْلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا . مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْلَمْ أَقُلْهُ فَأَنَا أَقُولُهُ ، وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ فَإِنِّي لَا أَقُولُ الشَّرَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ عِنْدَ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس کے پاس میرے حوالے سے کوئی حدیث آئے اور وہ تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے : اس کی بجائے میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) میرے حوالے سے بھلائی کی جو بھی بات تم تک پہنچتی ہے ، خواہ وہ میں نے کہی ہو ، یا میں نے نہ کہی ہو ، تم یہی سمجھنا کہ میں نے وہ کہی ہے ، اور تمہارے پاس جو بری بات آتی ہے ، تو میں بری بات نہیں کرتا ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جبکہ یہ مکمل روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحشر نجیح ہے ، جس کو امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جبکہ یہ مکمل روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحشر نجیح ہے ، جس کو امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 697
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " عَسَى أَنْ يُكَذِّبَنِي رَجُلٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ ، يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ عَنِّي فَيَقُولُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعْ هَذَا ، وَهَاتِ مَا فِي الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص مجھے جھٹلائے گا ، وہ اپنے تکیہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو گا ، میرے حوالے سے کوئی حدیث اس تک پہنچے گی ، تو وہ یہ کہے گا : اللہ کے رسول نے جو فرمایا ہے ، تم اسے چھوڑو ! اور وہ چیز پیش کرو ! جو قرآن میں ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 698
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ وَهُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعْضُهُمْ يُقْبِلُ عَلَى بَعْضٍ يَتَحَدَّثُونَ ، فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ : انْظُرْ إِلَيْهِمْ ، أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا رَأَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ ، وَبَعْضُهُمْ يُقْبِلُ عَلَى بَعْضٍ ، أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ وَلَا أَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا . قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ تَذْهَبُ ؟ قَالَ : أَذْهَبُ فَأُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قُلْتُ : مَالَكَ جِهَادٌ ، وَمَا تَسْتَمْسِكُ عَلَى الْفَرَسِ ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَضْرِبَ بِالسَّيْفِ ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَطْعَنَ بِالرُّمْحِ . قَالَ : يَا أَبَا حَازِمٍ ، أَذْهَبُ فَأَكُونُ فِي الصَّفِّ ، فَيَأْتِينِي سَهْمٌ عَائِرٌ أَوْ حَجَرٌ ، فَيَرْزُقُنِي اللَّهُ الشَّهَادَةَ . [ قَالَ : فَذَهَبَ لَعَمْرِي فَمَا رَجَعَ إِلَّا مَطْعُونًا ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحازم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک مرتبہ وہ اپنی قوم کے افراد کی محفل میں موجود تھے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کر رہے تھے ، اسی دوران وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں بات چیت کرنے لگے ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : تم ان لوگوں کو دیکھو ! میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کر رہا ہوں ، وہ چیز جو میری آنکھوں نے دیکھی اور میرے کانوں نے سنی ہے ، اور یہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کے درمیان سے نکل جاؤں گا اور کبھی تمہاری طرف واپس نہیں آؤں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے کہا: آپ کہاں جائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : میں جا کر اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لوں گا ، میں نے کہا: آپ جہاد میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں جبکہ آپ نہ تو گھوڑے پر جم کر بیٹھ سکتے ہیں ، نہ ہی تلوار کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں ، نہ ہی نیزے کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : اے ابوحازم ! میں جا کر صف میں شامل ہو جاؤں گا اور پھر کوئی انجان تیر یا پتھر مجھے لگے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کر دے گا ، راوی کہتے ہیں : وہ چلے گئے ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! وہ اس وقت واپس آئے ، جب زخمی ہو چکے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 699
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِالْهَاجِرَةِ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ : " مَا أُحِلُّ أَمْوَالَ الْمُعَاهِدِينَ بِغَيْرِ حَقِّهَا ، عَسَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ يَقُولُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ : مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ حَلَالٍ أَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا وَجَدْنَا مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ ، أَلَا وَإِنِّي أُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ أَمْوَالَ الْمُعَاهِدِينَ بِغَيْرِ حَقِّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے خالد ! لوگوں میں اعلان کرو کہ وہ اکٹھے ہو جائیں ! اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دوپہر کی نماز پڑھائی پھر آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : میں ذمیوں کے اموال کو ناحق طور پر حاصل کرنے کو حلال قرار نہیں دیتا ہوں ، عنقریب ایسا ہو گا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا : جس چیز کو ہم اللہ کی کتاب میں حلال پائیں گے ، اُسے حلال قرار دیں گے اور جسے حرام پائیں گے ، اُسے حرام قرار دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خبردار ! میں ذمیوں کے اموال کو ناحق طور پر حاصل کرنے کو تم پر حرام کر دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔