کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جس چیز کے بارے میں شک ہو اُس کے بارے میں سوال کرنا
حدیث نمبر: 703
عَنِ الْمِقْدَادِ - يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ - قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ . قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ " . قَالَ : قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ : " إِنِّي لَا أَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ " . قَالَ : " وَمَنْ تَعُدُّونَ الصِّدِّيقِينَ ؟ " ، فَقُلْنَا : أَوْلَادُنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا ؟ قَالَ : " لَا ، الصِّدِّيقُونَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ " ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ ، إِلَّا أَنَّ قُرَيْبَةَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : تَفَرَّدَ عَنْهَا ابْنُ أَخِيهَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِي بَابِ السُّؤَالِ عَنِ الْفِقْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گذارش کی : ایک چیز جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوتی ہے ، اُس کے بارے میں مجھے شک ہو جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی معاملے کے بارے میں ، تم میں سے کسی ایک کو شک ہو جائے ، تو اُسے اس معاملے کے بارے میں مجھ سے پوچھ لینا چاہیے ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اپنے بعد مجھے ان کے بارے میں صدیقین کی امید نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ صدیقین کے شمار کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہماری اولاد ، جو کمسنی میں فوت ہو گئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! صدیقین سے مراد ، صدقہ کرنے والے لوگ ہیں ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ، البتہ قریبہ نامی خاتون کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں : اس خاتون کا بھتیجا موسیٰ بن یعقوب زمعی ، اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق احادیث فقہ کے بارے میں سوال کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ، البتہ قریبہ نامی خاتون کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں : اس خاتون کا بھتیجا موسیٰ بن یعقوب زمعی ، اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق احادیث فقہ کے بارے میں سوال کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔