کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ . وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان ، جنت میں ہو گا ، اور بے حیائی ، جفاء کا حصہ ہے ، اور جفاء جہنم میں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” حیاء ، ایمان کا حصہ ہے “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 317
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 501 اورده المؤلف فى زوائد المسند 122»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حیاء ایمان کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور کسی نے بھی اُس کی توثیق نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 318
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 7463»
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ . وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ، وَرَوَاهُمَا جَمِيعًا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِي مُسْنَدِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدُ اللَّهِ عَنِ الْمَأْمُونِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عَبْدَ الْجَبَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حیاء ، ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان ، جنت میں ہو گا ، بے حیائی ، جفاء کا حصہ ہے اور جفاء جہنم میں ہو گی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ان دونوں روایات کو امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی نے مامون کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو عبدالجبار نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 319
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5055 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 115/2»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ بِصَاحِبِهِمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنْ صَاحِبَنَا هَذَا قَدْ أَفْسَدَهُ الْحَيَاءُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ مِنْ لُؤْمِ الْمَرْءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ اپنے ایک ساتھی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے ساتھی کو حیاء نے خراب کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک حیاء ، اسلامی احکام کا حصہ ہے اور بے حیائی ، آدمی کی کمینگی میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعِيَّ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ النَّارِ . وَالْفُحْشَ وَالْبَذَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ النَّارِ ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ لِأَبِي أُمَامَةَ : إِنَّا لَنَقُولُ فِي الشِّعْرِ : إِنَّ الْعِيَّ مِنَ الْحُمْقِ . قَالَ : إِنِّي أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجِيئُنِي بِشِعْرِكَ الْمُنْتِنِ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک حیا اور عی ( یعنی بات کرتے ہوئے جھجک کا شکار ہونا ) ایمان کا حصہ ہیں ، اور یہ دونوں جنت کے قریب کر دیتے ہیں ، اور جہنم سے دور کر دیتے ہیں ، جبکہ فحش کلامی اور بے حیائی ، شیطان کی طرف سے ہیں ، یہ دونوں جہنم کے قریب کر دیتے ہیں ، اور جنت سے دور کر دیتے ہیں “ ایک دیہاتی شخص نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم تو شاعری میں یہ کہتے ہیں : عی ، حماقت کا حصہ ہے ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ، اور تم ( اُس کے مقابلے میں ) میرے سامنے اپنا بدبودار شعر پیش کر رہے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 321
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7481»
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ لَا يَفْتَرِقَانِ إِلَّا جَمِيعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقَوْمَسِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حیاء اور ایمان ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ، اور یہ دونوں ( اگر کسی شخص سے جدا ہوں گے ) تو ایک ساتھ جدا ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں محمد بن عبیدہ قومسی نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 322
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4471 اخرجه الأمام الطبراني فى معجمه الصغير 223/1»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ فِي قَرْنٍ ، فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ الْآخَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ كَذَّابٌ خَبِيثٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حیاء اور ایمان ملے ہوئے ہیں ، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک سلب کیا جاتا ہے ، تو دوسرا بھی ، اُس کے پیچھے رخصت ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جو کذاب اور خبیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 323
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني في. معجمه الاوسط 8313»