کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سچائی کے ایمان کا حصہ ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 324
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " الصِّدْقُ ، وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ ، وَإِذَا بَرَّ آمَنَ ، وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي ذَمِّ الْكَذِبِ مِنْ كِتَابِ الْعِلْمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: یا رسول اللہ ! جنت کا عمل کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : سچ بولنا ، جب آدمی سچ بولتا ہے ، تو نیکی کرتا ہے ، اور جب وہ نیکی کرتا ہے ، تو وہ ایمان والا ہوتا ہے ، اور جب وہ ایمان والا ہوتا ہے ، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب العلم میں ، جھوٹ کی مذمت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 325
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ ، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ أُذَيْنٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ ، بَعْضُهَا فِي الْعِلْمِ ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی اُس وقت تک مکمل طور پر مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک وہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا ، اور جھگڑا کرنا ترک نہیں کر دیتا خواہ وہ سچا ہی ( یعنی جھگڑا کرنے میں حق پر ہی ) کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن اذین ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے آئیں گی ، جن میں سے کچھ علم سے متعلق باب میں آئیں گی اور کچھ ادب سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن اذین ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے آئیں گی ، جن میں سے کچھ علم سے متعلق باب میں آئیں گی اور کچھ ادب سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 326
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَدَعَ الْمِزَاحَ وَالْكَذِبَ ، وَيَدَعَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی صریح ایمان تک ، اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ مزاح اور جھوٹ کو ترک نہیں کر دیتا ، اور جھگڑا کرنے کو ترک نہیں کر دیتا ، اگرچہ ( جھگڑا کرنے میں ) وہ حق پر ہی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” کبیر “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عثمان نے ، سلیمان بن داؤد سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” کبیر “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عثمان نے ، سلیمان بن داؤد سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 327
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا ، إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ الْأَعْمَشِ وَأَبِي أُمَامَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن میں ہر عادت ہو سکتی ہے ، صرف خیانت اور جھوٹ نہیں ہو سکتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اعمش اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے درمیان میں یہ منقطع ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اعمش اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے درمیان میں یہ منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 328
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلَّةٍ غَيْرِ الْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مؤمن میں ہر عادت ہو سکتی ہے ، سوائے خیانت اور جھوٹ کے ( یعنی اس میں خیانت اور جھوٹ کبھی نہیں ہو سکتے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 329
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلُقٍ ، لَيْسَ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن میں ، ہر اخلاق ( یعنی ہر عادت ) ہو سکتی ہے ، لیکن خیانت اور جھوٹ بولنا نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 330
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ الْكُفْرُ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا ، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کفر اور ایمان کسی ایک شخص کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ، اور سچ اور جھوٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ، اور خیانت اور امانت دونوں ( کسی ایک شخص کے دل میں ) اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 331
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُلُّ الْخِلَالِ يُطْوَى عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” مؤمن ، ہر عادت میں مبتلا ہو سکتا ہے ، لیکن خیانت اور جھوٹ بولنے میں ( مبتلا نہیں ہو سکتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 332
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَهُمَا فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سچائی کو تم ( لازمی ) اختیار کرو ! کیونکہ وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ، اور وہ دونوں ( یعنی سچائی اور نیکی ) جنت میں ہوں گی اور جھوٹ سے بچنا تم پر لازم ہے ! کیونکہ وہ گناہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اور وہ دونوں ( یعنی جھوٹ اور گناہ ) جہنم میں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 333
وَعَنْ مَازِنِ بْنِ الْغَضُوبَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ; فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم پر سچ کو اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ وہ جنت کی طرف لے جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے اور وہ متروک ہے ۔