کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نجات دلانے والی چیزوں اور ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 313
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ ، وَثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ ; فَأَمَّا الْمُهْلِكَاتٌ : فَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ . وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ . وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں ، تین چیزیں کفارہ بنے والی ہیں ، تین چیزیں درجات ( میں اضافہ کا باعث ) ہیں ، جہاں تک ہلاکت کا شکر کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ ایسی کنجوسی ہے ، جس کی اطاعت کی جائے ، اور ایسی نفسانی خواہش ہے ، جس کی پیروی کی جائے اور آدمی کا اپنے بارے میں خود پسندی کا شکار ہونا ہے ، جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ غضب یا رضامندی کے عالم میں ( یعنی ہر حال میں ) عدل کرنا ، تنگی یا خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا ، پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے ، جہاں تک کفارہ بنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، اور قدم اُٹھا کر ( یعنی زیادہ دور سے چل کے ) باجماعت نماز کے لیے جانا ہے ، جہاں تک درجات ( میں اضافہ کا باعث بننے ) والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک تو ابن لہیعہ ہے اور دوسرا ایک ایسا راوی ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 313
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5754»
حدیث نمبر: 314
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثٌ كَفَّارَاتٌ ، وَثَلَاثٌ دَرَجَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ ; فَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَوَاتِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ . وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَخَشْيَةُ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ : فَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ ، وَقَالَ : " إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ مِنَ الْخُيَلَاءِ " ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ وَزِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں کفارہ ہیں ، تین چیزیں درجات میں اضافہ کا باعث ہیں ، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاکت کا شکار کرنے والی ہیں ، جہاں تک کفارہ بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ سخت سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، قدم اُٹھا کر ( یعنی دور سے چل کے ) جمعہ ( یا با جماعت نماز ) کی ادائیگی کے لئے جانا ہے ، جہاں تک درجات میں اضافہ کا باعث بننے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ، اور رات میں اُس وقت ( نفل ) نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، جہاں تک نجات دلانے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو وہ غصہ اور رضامندی ( ہر حال میں ) عدل کرنا ، تنگی اور خوشحالی ( ہر حال میں ) میانہ روی اختیار کرنا اور پوشیدہ و علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ہے ، جہاں تک ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزوں کا تعلق ہے ، تو ایسی کنجوسی ، جس کی اطاعت کی بجائے ، ایسی نفسانی خواہش ، جس کی پیروی کی جائے ، اور آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ، تکبر کا حصہ ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ، ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے ، اور ایک راوی زیاد نمیری ہے ، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 314
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5452 اورده المؤلف فى كشف الاستار 80 اورده المنذري فى الترغيب والترهيب 161/1»
حدیث نمبر: 315
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُهْلِكَاتُ ثَلَاثٌ : إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ ، وَشُحٌّ مُطَاعٌ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہلاکت کا شکار کرنے والی چیزیں تین ہیں ، آدمی کا خود پسندی کا شکار ہونا ، بخل کی اطاعت کیا جانا ، اور نفسانی خواہش کی پیروی کی جانا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 315
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 82 اورده ابونعيم فى الحلية 2193 اورده المؤلف فى كشف الاستار 83»
حدیث نمبر: 316
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي سَنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى كِلَاهُمَا : مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول روایت اور سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول روایت دونوں کی سند میں ، ایک راوی محمد بن عون خراسانی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 316
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 9/2501»