مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ . باب: حیاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 320
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ بِصَاحِبِهِمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنْ صَاحِبَنَا هَذَا قَدْ أَفْسَدَهُ الْحَيَاءُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ مِنْ لُؤْمِ الْمَرْءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ اپنے ایک ساتھی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے ساتھی کو حیاء نے خراب کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک حیاء ، اسلامی احکام کا حصہ ہے اور بے حیائی ، آدمی کی کمینگی میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ۔