مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ باب: جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے وہ مؤمن ہے
حدیث نمبر: 285
عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا ، وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ يُدَلِّسُ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي مُوسَى ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کوئی نیکی کرے اور پھر اس پر خوش ہو ، یا کوئی برائی کرے ، اور وہ اُسے بری لگے ، تو وہ مومن ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مطلب بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ، اور اُس نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہوا ، تو یہ روایت منقطع ہے ۔