حدیث نمبر: 287
قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا حَكَّ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ " . قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَإِنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

انہی کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ روایت میں منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے من میں کھٹکے ، تم اُسے چھوڑ دو ! اُس شخص نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو اُس کی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے ، وہ مؤمن ہو گا ۔
اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوکثیر ہے ، وہ تدلیس کرتا ہے ، اگرچہ وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 287
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 2993»