حدیث نمبر: 274
عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ . فَعَظَّمَ الرَّبَّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَالَ : " إِنَّ كُرْسِيَّهُ وَسِعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ لَهُ أَطِيطًا كَأَطِيطِ الرَّحْلِ الْجَدِيدِ إِذَا رُكِبَ مِنْ ثِقَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اُس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے ، اور اُس میں سے یوں آواز آتی ہے ، جس طرح کسی نئے پالان پر سوار ہوا جائے ، تو بوجھ کی وجہ سے ( اس پالان میں سے ) آواز آتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 275
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ - وَقَبَضَ يَدَهُ ، وَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا - ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ " . قَالَ : وَيَمِيلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ : أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ غَيْرُهُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) ” جبار “ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے گا ، اور پھر ہاتھ کو بند کر لے گا ، وہ اُسے بند کرے گا ، کھولے گا اور پھر یہ فرمائے گا : میں زبردست ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست کہنے والے کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں ؟ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ ارشاد فرماتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ، بائیں ہلنے لگے ، یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے حرکت کر رہا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ منبر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گر تو نہیں جائے گا ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جبکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جبکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 276
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - السَّمَاوَاتِ فَيَأْخُذُهُنَّ بِيَمِينِهِ ، وَيَطْوِي الْأَرْضَ فَيَأْخُذُهَا بِيَدِهِ الْأُخْرَى ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْمُلُوكُ ؟ " قَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عِكْرِمَةَ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سَالِمٍ هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو لپیٹے گا اور پھر انہیں دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا ، وہ زمین کو لپیٹے گا اور اُسے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لے گا پھر وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ( دنیا کے ) بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ ۔
عمر بن حمزہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ حدیث عکرمہ کو بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، اُس کے بعد انہوں نے اس روایت کی مانند حدیث بیان کی ، جو سالم نامی راوی کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی رضی اللہ عنہما سے منقول اس حدیث کی مانند ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
عمر بن حمزہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ حدیث عکرمہ کو بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، اُس کے بعد انہوں نے اس روایت کی مانند حدیث بیان کی ، جو سالم نامی راوی کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی رضی اللہ عنہما سے منقول اس حدیث کی مانند ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 277
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ آخَرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زان ، رحمن کے ہاتھ میں ہے ، وہ کچھ قوموں کو سر بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ کو پستی دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 278
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ مِنْ يَأْسِ عِبَادِهِ وَقُنُوطِهِمْ وَقُرْبِ الرَّحْمَةِ مِنْهُمْ " ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَيَضْحَكُ رَبُّنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيَضْحَكُ ! " . قُلْتُ : فَلَا يُعْدِمُنَا خَيْرًا إِذَا ضَحِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَارِحَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس بات پر ہنس پڑتا ہے کہ اس کے بندے مایوس اور ناامید ہو جاتے ہیں ، اور رحمت اُن کے کتنے قریب ہوتی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا ہمارا پروردگار ہنستا بھی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ ہنستا بھی ہے ، تو میں نے عرض کی : اگر وہ ہنستا ہے ، تو پھر وہ ہمیں بھلائی سے محروم نہیں رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن مصعب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن مصعب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 279
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُغْلَبُ وَلَا يُخْلَبُ ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ مغلوب نہیں ہوتا ، اور اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، اور اسے کسی ایسی چیز کے بارے میں خبر نہیں دی جاتی ، جو وہ نہ جانتا ہو ( یعنی وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن یوسف سنانی ہے ، وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن یوسف سنانی ہے ، وہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 280
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رَبُّنَا سَمِيعٌ بَصِيرٌ " وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي سُورَةِ النُّورِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہمارا پروردگار سنے والا اور دیکھنے والا ہے “۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے مختلف طرق سورہ نور سے متعلق باب میں آئیں گے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے مختلف طرق سورہ نور سے متعلق باب میں آئیں گے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 281
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ؟ قَالَ : " أَوَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ مَحْلًا ، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا ، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ مَحْلًا ، ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا ؟ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا کبھی تمہارا گزر اپنی قوم کے علاقے میں کسی ایسی بنجر جگہ سے ہوا ہے ؟ کہ جب تم بعد میں اُس کے پاس سے گزرے ہو ، تو وہ سرسبز ہو چکی ہو ، پھر جب تم اُس کے پاس سے گزرو ، تو وہ بنجر ہو چکی ہو ، پھر تم اُس کے پاس سے گزرو ، تو وہ سرسبز ہو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 282
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ - تَعَالَى - لَيْسَ عِنْدَهُ لَيْلٌ وَلَا نَهَارٌ ، نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ نُورِ وَجْهِهِ ، وَإِنَّ مِقْدَارَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِكُمْ عِنْدَهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَاعَةً ، وَتُعْرَضُ عَلَيْهِ أَعْمَالُكُمْ بِالْأَمْسِ أَوَّلَ النَّهَارِ الْيَوْمَ ، فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَيَطَّلِعُ فِيهَا عَلَى مَا يَكْرَهُ فَيُغْضِبُهُ ذَلِكَ ، فَأَوَّلُ مَنْ يَعْلَمُ غَضَبَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، يَجِدُونَهُ ثَقُلَ عَلَيْهِمْ ، فَتَسْجُدُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ وَسُرَادِقَاتِ الْعَرْشِ وَالْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَسَائِرُ الْمَلَائِكَةِ ، ثُمَّ يَنْفُخُ جِبْرِيلُ بِالْقَرْنِ ، فَلَا يَبْقَى شَيْءٌ إِلَّا سَمِعَ صَوْتَهُ ، فَيُسَبِّحُونَ الرَّحْمَنَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، حَتَّى يَمْتَلِئَ الرَّحْمَنُ رَحْمَةً ، فَتِلْكَ سِتُّ سَاعَاتٍ ، ثُمَّ تُؤْتَى بِالْأَرْحَامِ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي كِتَابِهِ " هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ " ، " يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ " فَتِلْكَ تِسْعُ سَاعَاتٍ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْأَرْزَاقِ فَيُنْظَرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ " يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ " ، " كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ " . قَالَ : هَذَا مِنْ شَأْنِكُمْ وَشَأْنِ رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِكْرَزٍ - أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ عَلَى الشَّكِّ - لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمہارے پروردگار کے پاس رات اور دن نہیں ہوتے ہیں ، آسمانوں اور زمین کا نور ، اس کی ذات کے نور کے فیض کی وجہ سے ہے ، اور تمہارے دنوں کے حوالے سے ، ایک دن اُس کی بارگاہ میں بارہ گھڑیوں کا ہوتا ہے ، گزشتہ دن کے تمہارے اعمال ، آج کے دن کے ابتدائی حصے میں اُس کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ، تو وہ تین گھڑیوں میں اُن کا جائزہ لیتا ہے اور جب وہ ان اعمال میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے ، جو اسے ناپسند ہو ، تو یہ چیز اسے غضبناک کر دیتی ہے ، اس کے غضب کے بارے میں سب سے پہلے عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں کو علم ہوتا ہے ، وہ اپنے اوپر اس کا بوجھ پاتے ہیں ، تو عرش کو اٹھانے والے عرش کے پردوں کو اٹھانے والے ، دیگر مقرب فرشتے ، اور تمام فرشتے سجدہ میں چلے جاتے ہیں ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام سینگ میں پھونک مارتے ہیں ، تو ہر چیز اُن کی آواز سنتی ہے ، پھر وہ سب تین گھڑیوں تک رحمن کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، یہاں تک کہ رحمان ، رحمت سے بھر جاتا ہے ، تو یہ چھ گھڑیاں ہو گئیں ، پھر ” ارحام “ کو بلایا جاتا ہے ، تو وہ تین گھڑیوں تک ان کا جائزہ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود اس آیت سے یہی مراد ہے : ” وہی وہ ذات ہے ، جو ارحام میں ، تمہاری صورت بناتی ہے ، جیسے وہ چاہتا ہے “ ۔
( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ جسے چاہتا ہے ، بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، بیٹے دیتا ہے یا وہ مذکر اور مؤنث کے جوڑے بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے بانجھ رکھتا ہے ، بے شک وہ علم والا ، قدرت والا ہے “ ۔
( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) تو یہ نو گھڑیاں ہو گئیں ، پھر رزق لائے جاتے ہیں تو وہ تین گھڑیوں تک اُن کا جائزہ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” وہ جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق عطا کرتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، تنگی کا شکار کر دیتا ہے “ ۔ ” ہر دن میں اُس کی الگ شان ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یہ تمہارا اور تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبد السلام ہے ، امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ مجہول ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور عبداللہ بن مکرز نامی راوی کا ذکر شک کے ساتھ ہوا ہے ، کہ شاید اس کا نام عبیداللہ ہے ، تاہم میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ جسے چاہتا ہے ، بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، بیٹے دیتا ہے یا وہ مذکر اور مؤنث کے جوڑے بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے بانجھ رکھتا ہے ، بے شک وہ علم والا ، قدرت والا ہے “ ۔
( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) تو یہ نو گھڑیاں ہو گئیں ، پھر رزق لائے جاتے ہیں تو وہ تین گھڑیوں تک اُن کا جائزہ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” وہ جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق عطا کرتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، تنگی کا شکار کر دیتا ہے “ ۔ ” ہر دن میں اُس کی الگ شان ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یہ تمہارا اور تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبد السلام ہے ، امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ مجہول ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور عبداللہ بن مکرز نامی راوی کا ذکر شک کے ساتھ ہوا ہے ، کہ شاید اس کا نام عبیداللہ ہے ، تاہم میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 283
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْعَنَانُ وَزَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الرَّقِيعُ ، مَوْجٌ مَكْفُوفٌ ، وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " سَمَاءٌ أُخْرَى . أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ " . قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْعَرْشُ " . قَالَ : تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ تَحْتَكُمْ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَرْضٌ ، أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَرْضٌ أُخْرَى ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ " ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ " ، ثُمَّ قَرَأَ : " هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ : بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ وَأَرْضٍ خَمْسَمِائَةِ عَامٍ ، وَهُنَا سَبْعُمِائَةِ عَامٍ ، وَعِنْدَهُ أَيْضًا : " لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ " ، وَهُنَا لَمْ يَذْكُرِ الْجَلَالَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اس دوران بادل گزرا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ، یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ عنان ہے اور یہ زمین کے دور دراز کے گوشوں تک جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے اُن لوگوں کی طرف بھی بھیج دیتا ہے کہ اُس کے بندوں میں سے جو لوگ اُس کا شکر نہیں کرتے ہیں ، اور اُس کی عبادت نہیں کرتے ہیں ، کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ( اس سے اوپر ) رقیع ہے ، جو ایک مکفوف موج ہے اور محفوظ چھت ہے ، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ تمہارے اور اُس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اُس سے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : دوسرا آسان ہے ، کیا تم جانتے ہو ؟ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، یہاں تک کہ آپ نے سات آسمانوں کو شمار کروایا ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اس سے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرش ہے ، آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اُس ( یعنی عرش ) اور ساتویں آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : زمین ہے ، کیا تم جانتے ہو ؟ اُس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ بہتر جانتا ہے ، آپ نے فرمایا : ایک اور زمین ہے ، کیا تم جانتے ہو ؟ دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : سات سو سال کی مسافت کا ، یہاں تک کہ آپ نے سات زمینیں شمار کروائیں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم کوئی رسی لٹکاؤ گے تو وہ نیچے جائے گی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہی اول ہے ، آخر ہے ، ظاہر ہے ، باطن ہے ، اور وہ ہر چیز کے بارے میں علم رکھنے والا ہے “۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے “ جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہے ، اسی طرح امام ترمذی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، اگر تم کوئی رسی لٹکاؤ گے تو وہ اللہ تعالیٰ پر جائے گی “ ۔ اور یہاں اسم جلالت ذکر نہیں ہوا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے “ جبکہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہے ، اسی طرح امام ترمذی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، اگر تم کوئی رسی لٹکاؤ گے تو وہ اللہ تعالیٰ پر جائے گی “ ۔ اور یہاں اسم جلالت ذکر نہیں ہوا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 284
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ : مَا بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ وَالْمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ ، وَاللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - عَلَى الْعَرْشِ ، يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ بَقِيَّةُ هَذَا فِي بَابِ التَّفَكُّرِ فِي اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آسمان دنیا اور اس کے بعد والے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ، ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور عرش ، پانی کے اوپر ہے ، اور اللہ تعالیٰ عرش پر ہے ، اور پھر بھی وہ تمہارے بارے میں ( ہر چیز کا ) علم رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا بقیہ حصہ ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں غور و فکر کرنے سے متعلق باب میں ، پہلے گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا بقیہ حصہ ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں غور و فکر کرنے سے متعلق باب میں ، پہلے گزر چکا ہے ۔