کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مؤمن کی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، قدر و منزلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ الْمُؤْمِنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ، کوئی بھی چیز ، مؤمن سے زیادہ معزز نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ انتہائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ انتہائی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ : " لَقَدْ شَرَّفَكِ اللَّهُ وَكَرَّمَكِ وَعَظَّمَكِ ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھا اور یہ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تجھے شرف عطا کیا ہے ، بزرگی عطا کی ہے اور عظمت عطا کی ہے ، لیکن مؤمن کی حرمت تم سے زیادہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : یہ عمرو بن شعیب کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : یہ عمرو بن شعیب کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے منقول ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهَا بِوَجْهِهِ ، وَقَالَ : " أَنْتِ حَرَامٌ ، مَا أَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ ! وَأَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ الْمُؤْمِنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو اس کی طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا : ” تم قابل احترام ہو ، تمہاری حرمت کتنی زیادہ ہے ؟ تمہاری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مؤمن کی حرمت تم سے بھی زیادہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے اور وہ کذاب ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے اور وہ کذاب ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَالَتْ : يَا رَبَّنَا ، أَعْطَيْتَ بَنِي آدَمَ الدُّنْيَا يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَيَلْبَسُونَ ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَلَا نَأْكُلُ وَلَا نَلْهُو ، فَكَمَا جَعَلْتَ لَهُمُ الدُّنْيَا ، فَاجْعَلْ لَنَا الْآخِرَةَ ، فَقَالَ : لَا أَجْعَلُ صَالِحَ ذَرِّيَّةِ مَنْ خَلَقْتُ بِيَدِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ : كُنْ ، فَكَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ ، وَفِي سَنَدِ الْأَوْسَطِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اولاد آدم کو دنیا عطا کر دی ، وہ اس میں کھاتے ہیں ، پیتے ہیں ، لباس پہنتے ہیں ، اور ہم تیری حمد کے ہمراہ ، تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، ہم نہ کھاتے ہیں ، نہ غافل ہوتے ہیں ، مگر جس طرح تو نے اُن کے لئے دنیا بنائی ہے ، ہمارے لئے آخرت مقرر کر دے ! تو پروردگار نے فرمایا : جس ( یعنی سیدنا آدم علیہ السلام ) کو میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اُس کی نیک اولاد کو ، میں اُن کی مانند نہیں کروں گا ، جن ( فرشتوں ) سے میں نے یہ کہا: ہو جاؤ ! تو وہ ہو گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور و
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور و
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَنِي آدَمَ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الْمَلَائِكَةُ ؟ قَالَ : " وَلَا الْمَلَائِكَةُ ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ مَجْبُورُونَ ، بِمَنْزِلَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اولاد آدم سے زیادہ معزز اور کوئی چیز نہیں ہو گی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! فرشتے بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے بھی نہیں ، کیونکہ فرشتے پابند ہیں ، وہ سورج اور چاند کی طرح ( حکم کے پابند ) ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ : عَبْدِي الْمُؤْمِنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَلَائِكَتِهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا مؤمن بندہ ، میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں سے زیادہ محبوب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام ابن ماجہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کے طور پر نقل کی ہے : ” مؤمن ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، اس کے بعض فرشتوں سے زیا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام ابن ماجہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کے طور پر نقل کی ہے : ” مؤمن ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، اس کے بعض فرشتوں سے زیا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَضَنُّ بِمَوْتِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِكَرِيمَةِ مَالِهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَى فِرَاشِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَكْثَرُ النَّاسِ ، وَرَجَّحَهُ بَعْضُهُمْ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندے کی موت کے حوالے سے اس سے زیادہ الجھن ہوتی ہے ، جتنی تم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے عمدہ مال کے حوالے سے ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے بستر پر موت دے دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو امام أحمد اور زیادہ تر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم بعض حضرات نے اسے ابن لہیعہ پر ترجیح دی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو امام أحمد اور زیادہ تر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم بعض حضرات نے اسے ابن لہیعہ پر ترجیح دی ہے ۔