مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْزِلَةِ الْمُؤْمِنِ عِنْدَ رَبِّهِ . باب: مؤمن کی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، قدر و منزلت کا بیان
حدیث نمبر: 268
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَضَنُّ بِمَوْتِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِكَرِيمَةِ مَالِهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَى فِرَاشِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَكْثَرُ النَّاسِ ، وَرَجَّحَهُ بَعْضُهُمْ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندے کی موت کے حوالے سے اس سے زیادہ الجھن ہوتی ہے ، جتنی تم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے عمدہ مال کے حوالے سے ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے بستر پر موت دے دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو امام أحمد اور زیادہ تر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم بعض حضرات نے اسے ابن لہیعہ پر ترجیح دی ہے ۔