مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْزِلَةِ الْمُؤْمِنِ عِنْدَ رَبِّهِ . باب: مؤمن کی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، قدر و منزلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَالَتْ : يَا رَبَّنَا ، أَعْطَيْتَ بَنِي آدَمَ الدُّنْيَا يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَيَلْبَسُونَ ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَلَا نَأْكُلُ وَلَا نَلْهُو ، فَكَمَا جَعَلْتَ لَهُمُ الدُّنْيَا ، فَاجْعَلْ لَنَا الْآخِرَةَ ، فَقَالَ : لَا أَجْعَلُ صَالِحَ ذَرِّيَّةِ مَنْ خَلَقْتُ بِيَدِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ : كُنْ ، فَكَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ ، وَفِي سَنَدِ الْأَوْسَطِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ أَيْضًا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اولاد آدم کو دنیا عطا کر دی ، وہ اس میں کھاتے ہیں ، پیتے ہیں ، لباس پہنتے ہیں ، اور ہم تیری حمد کے ہمراہ ، تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، ہم نہ کھاتے ہیں ، نہ غافل ہوتے ہیں ، مگر جس طرح تو نے اُن کے لئے دنیا بنائی ہے ، ہمارے لئے آخرت مقرر کر دے ! تو پروردگار نے فرمایا : جس ( یعنی سیدنا آدم علیہ السلام ) کو میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اُس کی نیک اولاد کو ، میں اُن کی مانند نہیں کروں گا ، جن ( فرشتوں ) سے میں نے یہ کہا: ہو جاؤ ! تو وہ ہو گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور و