کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً فَأُعْتِقُهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : أَتُؤَمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک انصاری کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک سیاہ فام کنیز کو لے کر آیا ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا لازم ہے ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کنیز مومن ہے ، تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : ” کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس انصاری شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 41
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 25 ذكره ابن كثير فى التفسير 547/1، ذكره ابن عبدالبر فى التمهيد 6113/9»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ [ عِتْقَ ] رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا السَّبَّابَةِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنَا ؟ " فَأَشَارَتْ بِأُصْبُعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِلَى السَّمَاءِ ; أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهَا : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَتْ : اللَّهُ . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنَ الطَّبَرَانِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْعِتْقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ایک سیاہ فام عجمی کنیز کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا لازم ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے شہادت کی انگلی اور سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے اپنی انگلی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آسمان کی طرف اشارہ کیا ، یعنی یہ کہا: کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو !
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تو اس نے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور بولی: اللہ تعالیٰ ہے “ ۔
اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : طبرانی کی نقل کردہ احادیث جو اس موضوع سے متعلق ہیں ، وہ غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 42
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده الامام احمد فى مسنده 291/2 ، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5523 اورده المؤلف فى زوائد المسند 26 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 13»
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَاتًا ، فَقَالَ : ¤ شَهِدْتُ بِإِذْنِ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الَّذِي فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ وَأَنَّ أَبَا يَحْيَى وَيَحْيَى كِلَاهُمَا ¤ لَهُ عَمَلٌ فِي دِينِهِ مُتَقَبَّلُ وَأَنَّ أَخَا الْأَحْقَافِ إِذْ قَامَ فِيهِمُ ¤ يَقُـومُ بِذَاتِ اللَّهِ فِيـهِمْ وَيَعْدِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اشعار سنائے : ” اللہ تعالی کے اذن کے تحت میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ، جو تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ یحییٰ اور یحییٰ کے والد ( شاید یہاں سیدنا یحیی علیہ السلام اور سیدنا زکریا علیہ السلام مراد ہیں ) ان دونوں کا عمل ، جو ان کے دین کے بارے میں ہے ، وہ مقبول ہے ، اور یہ کہ احتقاف سے تعلق رکھنے والے فرد ( یعنی جس نبی کو ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ) جب وہ اُن لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اُن کے درمیان کھڑے ہوئے ، اور عدل کرتے رہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” میں بھی “ ( یعنی میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ ” مرسل“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 43
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2645 اورده المؤلف فى المقصد العلى 34»