مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً فَأُعْتِقُهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : أَتُؤَمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک انصاری کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک سیاہ فام کنیز کو لے کر آیا ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا لازم ہے ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کنیز مومن ہے ، تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : ” کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس انصاری شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔