❮
❯
حدیث نمبر: 43
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَاتًا ، فَقَالَ :
شَهِدْتُ بِإِذْنِ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الَّذِي فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ وَأَنَّ أَبَا يَحْيَى وَيَحْيَى كِلَاهُمَا
لَهُ عَمَلٌ فِي دِينِهِ مُتَقَبَّلُ وَأَنَّ أَخَا الْأَحْقَافِ إِذْ قَامَ فِيهِمُ
يَقُـومُ بِذَاتِ اللَّهِ فِيـهِمْ وَيَعْدِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَهُوَ مُرْسَلٌ .
محمد محی الدین

حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اشعار سنائے : ” اللہ تعالی کے اذن کے تحت میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ، جو تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ یحییٰ اور یحییٰ کے والد ( شاید یہاں سیدنا یحیی علیہ السلام اور سیدنا زکریا علیہ السلام مراد ہیں ) ان دونوں کا عمل ، جو ان کے دین کے بارے میں ہے ، وہ مقبول ہے ، اور یہ کہ احتقاف سے تعلق رکھنے والے فرد ( یعنی جس نبی کو ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ) جب وہ اُن لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اُن کے درمیان کھڑے ہوئے ، اور عدل کرتے رہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” میں بھی “ ( یعنی میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ ” مرسل“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 43
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2645 اورده المؤلف فى المقصد العلى 34 ، أخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 3017، 4017، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 29، 6827»