یتیم کے مال سے تجارت کرنا
① سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
ألا من ولي يتيما له مال فليتجر به ، ولا يتركه حتى تأكله الصدقة
”سن لو! جو شخص کسی ایسے یتیم کی کفالت کرتا ہو جس کے پاس مال ہو تو وہ اس کے مال کے ذریعے تجارت کرے، اسے یوں ہی نہ چھوڑے رکھے کہ زکوۃ (صدقہ) ہی اسے ختم کر دے“۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ ترمذی، کتاب الزكاة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 641. اس کی سند میں مثنی بن صباح راوی ضعیف ہے۔
② سیدنا مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں خبر پہنچی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”یتیم کے مال سے تجارت کرو، ایسا نہ ہو کہ اسے زکوۃ (صدقہ) کھا جائے“۔
روایت صحیح ہے۔ موطأ 251/1۔
شفعہ کے متعلق احکامات
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر غیر تقسیم شدہ مال میں حقِ شفعہ رکھا ہے، لیکن جب (تقسیم ہونے کے بعد) حدیں قائم ہو جائیں اور راستے بدل جائیں تو پھر شفعہ ساقط ہو جاتا ہے۔
بخاري، كتاب الشفعة 2257۔ ابو داؤد، كتاب البيوع 3514۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجار أحق بشفعة جاره ، ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهم واحدا
”پڑوسی اپنے پڑوسی کی زمین پر شفعہ کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اس کا انتظار کیا جائے گا اگرچہ وہ غائب ہو، بشرطیکہ ان کا راستہ ایک ہی ہو“۔
ابو داؤد، كتاب البيوع 3514۔ ترمذي، كتاب الأحكام 1369۔روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشريك شفيع ، والشفعة فى كل شيء
”شریک شفیع (حقِ شفعہ والا) ہوتا ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے“۔
ترمذی، کتاب الاحکام 1371. روایت ضعیف ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے برقرار رکھا۔ الفتح 436/4۔ درست بات یہ ہے کہ یہ مرسل روایت ہے۔
④ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جار الدار أحق بالدار
”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حق دار ہے“۔
ابو داؤد، كتاب البيوع 3517۔روایت حسن ہے۔
وکالت (نمائندگی/نیابت) کے احکامات
① سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا۔ پس انہوں نے ایک دینار کا ایک مینڈھا خریدا اور اسے دو دینار کا بیچ دیا۔ پھر ایک دینار سے قربانی کا جانور خریدا اور اسے لے آئے اور ساتھ وہ منافع والا ایک دینار بھی لے آئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار صدقہ کر دیا اور ان کے لیے دعا فرمائی کہ ان کی تجارت میں برکت ہو۔
ابو داؤد، كتاب البيوع 3386۔ ترمذي، كتاب البيوع 1257۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی قربانی کی اور دینار صدقہ کر دیا۔