سودے کے عیب چھپانے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر داخل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
ما هذا يا صاحب الطعام ؟
”غلے والے! یہ کیا ہے؟“
اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ، من غشنا فليس منا
”آپ نے اس (گیلے حصے) کو غلے کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں“۔
سنن ترمذي، كتاب البيوع رقم الحديث 1336۔ ابو داؤد، كتاب البيوع 3452۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اناج فروخت کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:
”تم اناج کیسے فروخت کر رہے ہو؟“
اس نے آپ کو بتایا، تو اللہ نے وحی کی کہ آپ اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کریں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو وہ گیلا تھا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس منا من غشنا
”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حواله سابق.
③ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا ، فإن صدقا وبينا بورك لهما فى بيعهما ، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
”خرید و فروخت کرنے والے جب تک جدا نہیں ہو جاتے انہیں (سودا برقرار رکھنے یا منسوخ کرنے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔ اگر وہ سچ بولیں اور (عیب وغیرہ) واضح کریں تو ان دونوں کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر وہ (عیب) چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کی بیع سے برکت ختم کر دی جاتی ہے“۔
بخاري، كتاب البيوع 2108۔ ابو داؤد، كتاب البيوع 3459۔
ذخیرہ اندوزی کی ممانعت
① سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
احتكار الطعام فى الحرم إلحاد فيه
” (قیمت بڑھانے کے لیے) حرم میں غلہ ذخیرہ اندوزی کرنا اس میں الحاد کے مترادف ہے“۔
ابو داؤد، كتاب المناسك 220۔
② سیدنا معمر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحتكر إلا خاطئ
”صرف گناہ گار شخص ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے“۔
مسلم، كتاب المساقات 1605/130۔
آزاد آدمی کو بیچنے اور اس کی قیمت کھانے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله تعالى : ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة : رجل أعطى بي ثم غدر ، ورجل باع حرا فأكل ثمنه ، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه العمل ولم يعطه أجره
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا۔ ایک وہ آدمی جو میرا نام لے کر عہد کرے اور پھر اسے توڑ ڈالے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھا جائے، اور تیسرا وہ آدمی جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا پورا کام لے لیکن اسے اس کی مزدوری نہ دے“۔
بخاري، كتاب البيوع 2227۔ ابن ماجه، كتاب الأحكام 2442۔
شراب فروشی کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ فلاں شخص کو ہلاک کرے، کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
لعن الله اليهود ، حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
”اللہ یہود پر لعنت فرمائے، ان پر چربیاں حرام کی گئیں تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کرنا شروع کر دیا“۔
بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء 3460۔ مسلم، كتاب المساقات 1582/72۔
② سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من باع الخمر فليشقص الخنازير
”جو شخص شراب بیچے تو اسے چاہئے کہ وہ خنزیر کے ٹکڑے ٹکڑے کرے (اور انہیں بیچے)“۔
ابو داؤد، كتاب البيوع 3489۔ مسند احمد، أول مسند الكوفيين 253/4 حديث 18212۔