فضائلِ ذکر
① سیدنا ابو مسلم اغر بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقعد قوم يذكرون الله تعالى إلا حفتهم الملائكة وغشيتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة وذكرهم الله فيمن عنده
”جب کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس فرشتوں میں کرتا ہے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2700؛ ترمذی، کتاب القراءات 3378۔
② سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: قیامت کے دن کون سی عبادت اللہ کے ہاں افضل اور ارفع درجے پر ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذكر الله
”اللہ کا ذکر“۔
کتاب کے مولف نے صحیحین کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن محقق کتاب نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مجھے یہ حدیث صحیحین میں نہیں ملی۔ بلکہ یہ سید نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مسند احمد 3/ 75 اور ترمذی ، کتاب الدعوات 3436 میں مروی ہے۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قال الله تعالى : أنا عند ظن عبدي بي ، وأنا معه إذا ذكرني ، فإن ذكرني فى نفسه ذكرته فى نفسي ، وإن ذكرني فى ملإ ذكرته فى ملإ خير منهم ، وإن تقرب إلى شبرا تقربت إليه ذراعا ، وإن تقرب إلى ذراعا تقربت إليه باعا ، وإن أتاني يمشي أتيته هرولة
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، اگر وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر اس نے مجھے اپنے نفس میں یاد کیا تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری جانب ایک بالشت آتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ نزدیک ہوتا ہوں، اگر وہ ایک ہاتھ مجھ سے قریب ہو تو میں دو ہاتھ اس سے نزدیک ہو جاتا ہوں، اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آئے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں“۔
بخاری، کتاب التوحيد 7405؛ مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2675۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن لله تعالى ملائكة يطوفون فى الطريق يلتمسون أهل الذكر ، فإذا وجدوا قوما يذكرون الله عز وجل تنادوا : هلموا إلى حاجتكم . قال : فيحفونهم بأجنحتهم إلى السماء الدنيا . قال : فيسألهم ربهم وهو أعلم بهم : ما يقول عبادي؟ قال : يقولون : يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك ويمجدونك . قال : فيقول : هل رأوني؟ قال : فيقولون : لا والله ما رأوك . قال : فيقول : كيف لو رأوني؟ قال : يقولون : لو رأوك كانوا أشد لك عبادة وأشد تمجيدا وأكثر لك تسبيحا . قال : فيقول : فماذا يسألون؟ قال : يقولون : يسألونك الجنة . قال : فيقول : وهل رأوها؟ قال : فيقولون : لا والله يا رب ما رأوها . قال : فيقول : كيف لو رأوها؟ قال : يقولون : لو أنهم رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا وأعظم فيها رغبة . قال : فمم يتعوذون؟ قال : يقولون : يتعوذون من النار . قال : فيقول : وهل رأوها؟ قال : فيقولون : لا والله ما رأوها . قال : فيقول : كيف لو رأوها؟ قال : يقولون : لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة . قال : فيقول : فأشهدكم أني قد غفرت لهم . قال : يقول ملك من الملائكة : فيهم فلان ليس منهم إنما جاء لحاجة . قال : هم الجلساء لا يشقى منهم جليسهم
”اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں گشت کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں، جب اللہ کے ذکر میں مشغول لوگ انہیں ملتے ہیں تو وہ اپنے ساتھیوں کو پکارتے ہیں: ادھر آؤ تمہارا مطلوب مل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ان کا رب ان سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ خود ان سے زیادہ واقف ہے کہ میرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: وہ تیری تسبیح و تکبیر اور حمد و ثناء میں مصروف تھے۔ وہ ان سے دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں! اللہ کی قسم! انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟ وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو پھر اس سے بھی زیادہ تیری عبادت کرتے، اور اس سے بھی زیادہ تیری حمد و ثناء اور تسبیح بیان کرتے۔ پھر اللہ فرماتا ہے: وہ کیا چیز مانگ رہے تھے؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تجھ سے جنت طلب کر رہے تھے۔ اللہ پوچھتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں! اللہ کی قسم! پروردگارا! انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کی کیفیت کیا ہوتی؟ وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے اس سے بھی زیادہ اس کی خواہش کرتے، اس میں رغبت رکھتے ہوئے اس کے حصول کے لیے مزید کمر بستہ ہو جاتے۔ پھر اللہ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں: آگ سے۔ وہ پوچھتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: نہیں! اللہ کی قسم! انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ پھر پوچھتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کی کیفیت کیا ہوتی؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے دور بھاگتے، اس سے بہت زیادہ ڈرتے۔ اللہ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔ ان میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: ان میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو ان میں سے نہیں تھا، وہ تو محض کسی ضرورت کے تحت وہاں آیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے: وہ ایسی مجلس ہے کہ اس میں شریک اور ہم نشین کوئی شخص محروم نہیں رہ سکتا“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6708؛ مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2689۔
⑤ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبق المفردون
”مفردون سبقت لے گئے“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! مفردون کون لوگ ہیں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذاكرون الله كثيرا والذاكرات
”اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء 2676؛ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 323/2۔
⑥ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل الذى يذكر ربه والذي لا يذكر ربه مثل الحي والميت
”جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ان کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6407؛ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 779۔
⑦ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا:
”اللہ کے رسول! شرائع اسلام مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، مجھے کوئی ایسی چیز (عمل )بتائیں جس پر میں عمل پیرا ہو جاؤں“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله
”تمہاری زبان ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3375؛ ابن ماجه، کتاب الدعوات 3793 روایت صحیح ہے۔
⑧ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أنبئكم بخير أعمالكم وأزكاها عند مليككم وأرفعها فى درجاتكم وخير لكم من إنفاق الذهب والفضة وخير لكم من أن تلقوا عدوكم فتضربوا أعناقهم ويضربوا أعناقكم
”کیا میں تمہیں، تمہارے سب سے بہتر، تمہارے بادشاہ کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے بلند، تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر اور تمہارے لیے دشمن سے مقابلہ کرنے اور انہیں قتل کرنے یا ان کے تمہیں قتل کرنے سے بہتر عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”کیوں نہیں! ضرور بتائیں“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذكر الله تعالى
”اللہ تعالیٰ کا ذکر“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3377؛ ابن ماجه، کتاب الأدب 3790 روایت حسن ہے۔
امید اور اس کے متعلق احکامات
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قال الله تعالى : يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا أبالي ، يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي ، يا ابن آدم إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے اور مجھ سے امید وابستہ رکھے گا تو میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا خواہ تیرے گناہ کس قدر بھی ہوں، اور اس کی مجھے کوئی پروا نہیں۔ ابن آدم! اگر تیرے گناہ بلندیِ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آ جائے پھر تو مجھ سے اس حالت میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں اتنی مغفرت لے کر تیرے پاس آؤں گا“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3540 روایت حسن ہے۔
اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سلوا الله من فضله فإن الله يحب أن يسأل ، وأفضل العبادة انتظار الفرج
”اللہ سے اس کا فضل طلب کرو اس لیے کہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے، اور کشادگی و فراخی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3571 روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں حماد بن واقد ضعیف الحدیث ہے۔ دیکھئے الكامل 248/6، 249۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع
”تمہیں اپنی تمام حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگنی چاہئیں حتیٰ کہ اگر کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اسی سے مانگنا چاہیے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3604 روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے سلسلة الضعيفة للألباني 1362۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لم يسأل الله يغضب عليه
”جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا تو وہ اس پر ناراض ہوتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3373۔
④ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو يا ذا الجلال والإكرام کہتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد استجيب لك فسل
”تمہاری دعا قبول ہو گئی، پس سوال کرو“۔
اور ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سألت البلاء فسله العافية
”تم نے بلاء کا سوال کیا ہے، پس اس سے عافیت طلب کرو“۔
ترمذی، صحیح و ضعیف سنن الترمذی، کتاب الدعوات 3650؛ مسند احمد 231/5 روایت حسن ہے۔
⑤ سیدنا مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سألتم الله عز وجل فاسألوه ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها
”جب تم اللہ عزوجل سے دعا کرو تو سیدھے ہاتھوں سے دعا کیا کرو، اس سے الٹے ہاتھوں سے نہ مانگا کرو“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1486 روایت حسن ہے۔