گناہوں کو معمولی سمجھنے، اعمال کی شہرت، حرص اور ریا کاری کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

گناہوں کو معمولی سمجھنے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ایسے اعمال کا ارتکاب کرتے ہو جو کہ تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم انہیں مہلکات میں سے شمار کرتے تھے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6492، مسند احمد باوقی مسند المکشرین 3/ 193، حدیث 12610۔

اپنے اعمال کی شہرت کرنے کی ممانعت

① سیدنا جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سمع سمع الله به ، ومن يرائي يرائي الله به
”جس نے سنانے کے لیے نیک کام کیا تو اللہ اس کی بدنیتی کے متعلق سب کو سنا دے گا۔ اور جس نے دکھلاوے کے لیے کام کیا تو اللہ اس کا دکھلاوا ظاہر کر دے گا“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2987/48، بخاری، کتاب الرقاق 6499۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سمع سمع الله به ، ومن راءى راءى الله به
”جس نے سنانے کے لیے کوئی نیک کام کیا تو اللہ اس کی بدنیتی کے متعلق سب کو سنا دے گا اور جس نے دکھلاوے کے لیے کام کیا تو اللہ اس کے دکھلاوے کو ظاہر کر دے گا“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2986/47۔

حرص کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يهرم ابن آدم ويكبر معه اثنتان : الحرص على المال ، والحرص على العمر
”ابن آدم بوڑھا ہوتا جاتا ہے اور دو چیزیں، مال اور عمر کی حرص اس کے ساتھ بڑی ہوتی جاتی ہے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6421۔ اس کے الفاظ ہیں : ابن آدم بڑا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دو چیزیں مال کی محبت اور درازی عمر کی محبت بڑی ہوتی جاتی ہیں۔ مسلم، کتاب الزكاة 1047/115۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
② سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ذئبان جائعان أرسلا فى غنم بأفسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه
”دو بھوکے بھیڑئیے اگر بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنی انسان کی مال کی حرص اس کے دین کے شرف کو نقصان پہنچاتی ہے“۔
ترمذی، الزهد 2376۔

ریا کاری کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها ، قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت. قال: كذبت ولكنك قاتلت لأن يقال: جريء ، فقد قيل ، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي فى النار ، ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن فأتي به فعرفه نعمه فعرفها ، قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته وقرأت القرآن فيك ، قال: كذبت ولكنك تعلمت ليقال: عالم ، وقرأت القرآن ليقال: قارئ ، فقد قيل ، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي فى النار ، ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله فأتي به فعرفه نعمه فعرفها ، قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها ذلك. قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال: هو جواد ، وقد قيل ذلك ، ثم أمر به فسحب على وجهه إلى النار
”قیامت کے دن سب سے پہلے شہید کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا اسے پیش کیا جائے گا وہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا وہ انہیں پہچانے گا ان کا اقرار کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو نے ان کے مطابق کیا کام کیا؟ وہ کہے گا میں نے تیری خاطر قتال کیا حتیٰ کہ میں شہید کر دیا گیا۔ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ تو تو اس لیے لڑا تھا کہ تجھے جری و بہادر کہا جائے وہ تو کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا آدمی وہ ہوگا جس نے علم سیکھا اور اسے سکھایا اور قرآن کی قرآت کی اسے بھی پیش کیا جائے گا وہ اسے نعمتیں یاد کرائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا تو وہ پوچھے گا، تم نے ان کے متعلق کیا کیا؟ وہ کہے گا میں نے علم سیکھا اور اسے سکھایا اور میں نے تیری خاطر قرآن کی قراءت کی۔ فرمائے گا: تم نے جھوٹ کہا، بلکہ تم نے تو اس لیے علم حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور تم نے قرآن اس لیے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے وہ تو کہہ دیا گیا، پھر اس کے متعلق بھی کہا جائے گا کہ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ پھر تیسرا شخص وہ ہوگا جس کو اللہ نے کشائش عطا کی ہوگی اور اسے مختلف اصناف کا مال دیا ہوگا۔ اسے بھی پیش کیا جائے گا وہ اسے نعمتیں یاد کرائے گا۔ وہ ان کا اقرار کر لے گا تو وہ پوچھے گا تو نے ان کے متعلق کیا کیا؟ کہے گا میں نے تو ایسی کوئی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو اور میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ فرمائے گا: تم جھوٹ کہتے ہو بلکہ تم نے تو اس لیے سب کچھ کیا تھا کہ تجھے سخی کہا جائے وہ تو کہہ دیا گیا، پھر اس کے متعلق بھی کہا جائے گا کہ اسے بھی اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے“۔
مسلم، کتاب الامارة 1905/152، نسائی، کتاب الجهاد 6/ 20۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعوذوا بالله من جب الحزن
”جب الحزن سے اللہ کی پناہ طلب کرو“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب الحزن کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
واد فى جهنم تتعوذ منه جهنم كل يوم مائة مرة
جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
القراء المراؤون بأعمالهم
”وہ اپنے اعمال کی ریا کرنے والے قراء“۔
ترمذی، کتاب الزهد 2383۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قال الله تعالى : أنا أغنى الشركاء عن الشرك ، من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه فى النار
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شریک کو جہنم میں چھوڑ دوں گا“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2985/46، ابن ماجه، کتاب الزهد 4202۔
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سمع سمع الله به ، ومن راءى راءى الله به
”جو شخص سنانے کے لیے کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کے متعلق لوگوں کو سنا دے گا اور جو شخص دکھانے کے لیے کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کے متعلق دکھا دے گا“۔
مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2986/447۔