سولہواں شبہ: حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کے متعلق حدیث
منکرین نے حدیث رد کرنے کے لیے اس روایت پر اعتماد کیا ہے جسے علمائے اصول فقہ نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا روي عني حديث فأعرضوه على كتاب الله فإن وافقه فاقبلوه وإن خالفه فردوه
”جب مجھ سے کوئی حدیث روایت کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو، پس اگر وہ اس کے موافق ہو تو اسے قبول کر لو اور اگر اس کے مخالف ہو تو اسے رد کر دو۔“
تذكرة المحتاج إلى أحاديث المنهاج : 27/1، حديث: 22
اس سے ثابت ہوا کہ جب حدیث قرآن کریم کے مطابق ہو تب قابل قبول ہے۔
جواب :
اس حوالے سے درج ذیل نکات ذہن نشین رہیں:
➊ کسی حدیث سے استدلال کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ حدیث ثابت ہو جبکہ مذکورہ حدیث ثابت ہی نہیں ہے۔ اس حدیث کے متعلق امام خطابی نے معالم السنن میں نقل کیا ہے: ”اس حدیث کو زندیقوں نے وضع کیا ہے۔“ اور نور الانوار کے حاشیے میں بھی اسی طرح لکھا ہے، نیز فیروز آبادی اور صنعانی وغیرہ نے کہا ہے کہ اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ اور مولانا عبد الحی لکھنوی نے اس قسم کی تفصیل نقل کی ہے۔
ظفر الأماني، ص:462
امام سیوطی نے بھی اس روایت کی تردید کی ہے۔
مفتاح الجنة في الاحتجاج بالسنة ، ص : 21,10
➋ مطابقت کے دو مصداق ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن و حدیث کے مضمون میں کوئی فرق نہ ہو، ایسی صورت ہو تو پھر حدیث کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے؟
دوسری صورت یہ ہے کہ حدیث قرآن کریم کے مخالف نہ ہو، اس صورت میں ہمارا موقف یہی ہے کہ صحیح و مقبول حدیث کبھی بھی قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ قرآن و حدیث کے درمیان بظاہر جو اختلاف و تعارض نظر آتا ہے علمائے محققین نے اس کا حل پیش کیا ہوتا ہے، لہذا قرآن اور ثابت احادیث کے درمیان کوئی تعارض موجود نہیں ہے۔