مضمون کے اہم نکات
سترہواں شبہ: عذاب قبر
منکرین عذاب قبر کے تین نظریات یا تین فریق ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
پہلا فریق:
ایک فرقے کے نزدیک دنیوی اور اخروی حیات کے درمیان کوئی اور حیات ہے نہ کوئی عذاب و تنعیم۔ یہ اکثر معتزلہ کا قول ہے۔ ان کی مشہور دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دو زندگیوں کا ذکر فرمایا ہے، ایک دنیوی اور دوسری اخروی جبکہ تیسری حیات کا کوئی ذکر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿٢٨﴾
”تم لوگ اللہ کا کیونکر انکار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
(2-البقرة:28)
نیز فرمایا:
قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا
”وہ کہیں گے: ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا، پس ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا۔“
(40-المؤمن:11)
نیز فرمایا:
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١﴾
”بے شک آپ کو بھی مرنا ہے اور بے شک یہ بھی مرنے والے ہیں، پھر بے شک تم سب اپنے جھگڑے روز قیامت اپنے رب کے حضور پیش کرو گے۔“
(39-الزمر:30-31)
نیز فرمایا:
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾
”پھر اس کے بعد تم نے ضرور مرنا ہے، پھر تمہیں روز قیامت اٹھایا جائے گا۔“
(23-المؤمنون:15-16)
مذکورہ بالا آیات میں صرف دو زندگیوں کا تذکرہ ہے، حیات دنیوی جو ماں کے پیٹ سے شروع ہوتی ہے اور حیات اخروی جس کی تعبیر بعث بعد الموت ہے اور وہ آخرت ہے تو جب تیسری حیات نہیں تو پھر شعور و عذاب کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
دوسرا فریق:
منکر حدیث حافظ اسلم نے کہا ہے کہ متعدد آیات سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد سے لے کر یوم حشر تک مردوں میں کسی قسم کا احساس و شعور نہیں ہوتا۔ جسم تو ویسے ہی مٹی میں گل سڑ جاتا ہے اور روح پر بھی یہ زمانہ بس ایک گھڑی کے مانند گزرتا ہے۔ بالفاظ دیگر جب کوئی مرتا ہے اس وقت ہی اس کی قیامت قائم ہوتی ہے، لہذا برزخ کا زمانہ یا برزخ کی زندگی ناممکن سی باتیں ہیں۔ قبر میں پڑے مردوں کا کسی بات کا سننا در کنار شعور و احساس تک نہیں ہوتا۔
بحوالہ آئینہ پرویزیت، ص: 374
ان کی متضاد تحریریں ملاحظہ فرمائیں۔ پہلے تو برزخ سے انکار کیا، پھر کہا برزخ کی مدت مرنے والوں کی موت سے لے کر حشر تک ہے۔
قرآنی فیصلے ، ص : 312
ایک جگہ لکھا ہے: ”موت اور حشر میں مردوں کے لیے فصل زمانی نہیں ہے۔“
قرآنی فیصلے ، ص : 318
اس فریق کی مشہور دلیل یہ آیت کریمہ ہے:
قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَٰذَا
”ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے جگا دیا۔“
(36-يس:52)
اور کہتے ہیں کہ رقاد کا معنی سونا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ
”اور تم انہیں جاگتے ہوئے خیال کرتے ہو، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔“
(18-الكهف:18)
اس فریق نے برزخ اور فصل زمانی کا انکار اس وجہ سے کیا کہ عذاب قبر اور احوال قبر سے انکار کر سکے۔
تیسرا فریق:
یہ فریق عذاب قبر کا قائل ہے اور قبر سے برزخ مراد لیتا ہے۔ وہ صرف روح کے لیے عذاب و تنعیم کا قائل ہے۔ بدن کے متعلق کسی قسم کی حیات اور عذاب و تنعیم کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ اور دنیاوی قبر میں عذاب سے بالکل منکر ہے، یعنی عذاب قبر اور عذاب فی القبر میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ یہ نظام معتزلی کا قول ہے اور موجودہ زمانہ میں بعض مدعیان توحید ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔
یہ سارے فرقے اس مسئلے میں انکار حدیث کے مرتکب ہیں، جبکہ ان کے بالمقابل اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ قبر معروف (مدفن) میں جو بدن ہے یا بدن کے ذرات جہاں بھی بکھرے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت عظیمہ سے ان کو (اگر عذاب کے مستحق ہوں) عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور اسے عذاب فی القبر (دنیاوی قبر میں عذاب) کہا جاتا ہے۔ اور روح کو بھی عذاب ہوتا ہے، لیکن روح کے لیے الگ مستقر ہے۔
مسئله مستقر أرواح، شرح عقيدة طحاوية اور مجموعة الفتاوى مولانا عبدالحي لكهنوي اور دیگر کتب میں بالتفصیل موجود ہے۔
اور اس مستقر میں اللہ تعالیٰ ارواح کو بعض متشکلہ جسم دیتا ہے اور اس کے ذریعے سے انہیں عذاب و تنعیم میں مبتلا کرتا ہے اور اس عقیدے کے مطابق عذاب و تنعیم کا تعلق بدن اور روح دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن قبر میں سوال و جواب کے علاوہ اوقات میں روح بدن میں نہیں ہوتی۔ اس کو برزخی حیات کہتے ہیں۔
اس مسئلے میں آیات اور احادیث پیش کی جاتی ہیں جو عذاب قبر اور عذاب فی القبر کے اثبات پر دلالت کرتی ہیں اور ان سے تینوں فریقوں کے شبہات کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
احوال قبر سے متعلق آیات
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ﴿١﴾ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴿٢﴾ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٣﴾ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٤﴾
”بہتات کی حرص نے تمہیں غفلت میں رکھا۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ہاں ہاں تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا، پھر سن رکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔“
(102-التكاثر:1-4)
آخری دو آیات میں عذاب قبر کا ڈراوا دیا گیا ہے، کیونکہ اخروی عذاب تو اس کے بعد والی آیات میں مذکور ہے۔ اس سے عذاب فی القبر اور عذاب قبر دونوں ثابت ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿٩٧﴾
”جن لوگوں کی اس حالت میں فرشتے جان قبض کرتے ہیں کہ وہ (جان بوجھ کر کافروں میں رہ کر) اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہوں، پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم دنیا میں بے بس اور کمزور تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔“
(4-النساء:97)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ وفات کے وقت یا اس کے بعد قبر ہی میں فرشتے ایسے لوگوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں جنہوں نے فریضہ ہجرت ترک کر دیا تھا تو یہ حالت قبر یا حالت برزخ ہے جس میں ان پر یہ عذاب مقرر کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ ﴿٩٣﴾
”اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ وہ ظالم موت کی تکلیفوں میں ہوں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلا رہے ہوں کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے۔“
(6-الأنعام:93)
یہ آیت صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے کہ وفات کے وقت اور وفات کے بعد فرشتے ظالم لوگوں کو ملامت کے ساتھ ذلت کے عذاب کا ڈراوا دیتے ہیں۔ اور لفظ ”اليوم“ (آج) واضح دلیل ہے کہ یہ عذاب موت کے وقت سے شروع ہوتا ہے۔ یہ عذاب قبر اور عذاب برزخ کے لیے بالکل صریح دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص تاویل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ قیامت کے دن کا معاملہ ہے تو یہ تاویل لفظ اليوم ”آج“ کے بالکل خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ
”کاش کہ آپ اس وقت دیکھیں جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں، وہ ان کے چہروں پر اور ان کی پشت پر مارتے ہیں اور (کہتے ہیں!) جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔“
(8-الأنفال:50)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ
”پس ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کریں گے اور وہ ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جائیں گے۔“
(47-محمد:27)
ان دونوں آیات میں تصریح ہے کہ وفات کے بعد فرشتے کافروں اور منافقوں کے چہروں اور پشت پر مار مار کر کہیں گے کہ اس عذاب کا مزہ چکھو۔ اگر یہ عذاب قبر اور عذاب برزخ نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ ﴿٥٠﴾ أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنتُم بِهِ ۚ آلْآنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴿٥١﴾ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ﴿٥٢﴾
”فرمادیجیے: بھلا دیکھو تو سہی، اگر تم پر اس کا عذاب رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا بچاؤ کر لو گے؟ آخر) ان مجرموں کو کس بات کی جلدی ہے، کیا پھر جب (عذاب) آ پڑے گا (تب) اس پر ایمان لاؤ گے؟ (اس وقت کہا جائے گا) کیا اب ایمان لاتے ہو؟ اور اس سے پہلے تو تم نے اس کے متعلق جلدی مچا رکھی تھی، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم کیا کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو، تم انہی اعمال کا بدلہ پاؤ گے جو تم کرتے رہے ہو۔“
(10-يونس:50-52)
ان آیات میں رات یا دن میں عذاب آنا مرنے کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی مرنے کے وقت ایمان لائیں گے جبکہ وہ ایمان قبول نہیں ہوگا بلکہ کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو اور اس عذاب سے مراد عذاب قبر اور عذاب برزخ ہے جو مرنے کے بعد متصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ﴿١٥﴾ مِّن وَرَائِهِ جَهَنَّمُ
”ہر سرکش و متکبر نامراد ہوا اور اس کے آگے جہنم ہے۔“
(14-إبراهيم:15-16)
لفظ وخاب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبر اور برزخ میں اسے نا امیدی ظاہر ہو گئی ہے کیونکہ وہ عذاب میں گرفتار ہو چکا ہے جبکہ من ورائه اس کے آگے سے معلوم ہوا کہ جہنم کا عذاب اس کے بعد ہے۔
نیز فرمایا:
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٢٨﴾ فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا
”وہ لوگ جن کی روحیں فرشتوں نے قبض کی تھیں اس حال میں کہ وہ لوگ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، تو وہ (یہ کہتے ہوئے) سر تسلیم خم کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو کوئی برا کام نہیں کیا تھا، کیوں نہیں، اللہ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے، لہذا تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔“
(16-النحل:28-29)
نیز فرمایا:
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
”جب فرشتے پاک باز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، اپنے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ۔“
(16-النحل:32)
ان آیات میں مشرکین اور موحدین کی وفات اور وفات کے بعد کے احوال کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ پہلی آیات میں مشرکین کی وفات اور بعد الوفات (قبر و برزخ) کا بیان ہے جس میں فرشتوں کے ساتھ مکالمہ، سلام اور شرک سے انکار کا مسئلہ ہے، پھر انہیں کہا جائے گا کہ جہنم میں داخل ہو جاؤ، یعنی ان کی روحیں جہنم میں داخل کی جائیں گی کیونکہ آخرت کی رسوائی کا بیان اس سے قبل آیت 27 میں ہو چکا ہے جبکہ آیت 32 میں موحدین کی نعمتوں کا بیان ہے کہ ان کی روحیں جنت میں جائیں گی۔
نیز فرمایا:
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں دنیا و آخرت کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے۔“
(14-إبراهيم:27)
امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے یہ آیت عذاب قبر کے اثبات کے لیے بیان کی ہے۔ اور اس کی تفسیر میں ایک صحیح حدیث روایت کی ہے جس میں صراحت ہے کہ وفي الآخرة سے قبر مراد ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انسان کے لیے دنیوی اور برزخی حیات میں ثابت قدمی ضروری ہے کیونکہ ان دونوں جگہوں میں انسان پر آزمائشیں آتی ہیں اور ثابت قدمی کی ضرورت آزمائشوں کے وقت ہی ہوتی ہے تو اس آیت کی تفسیر میں جو حدیث ہے، اس میں قبر میں مومن کے ساتھ سوال و جواب کا تذکرہ ہے۔
نیز فرمایا:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ
”اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا تو بلاشبہ اس کی زندگی تنگ ہو گئی۔ اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔“
(20-طه:124)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ معيشة ضنكا سے مراد عذاب قبر ہے۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ کافروں اور قرآن سے منہ موڑنے والوں کی دنیوی زندگی اکثر لذتوں اور فراوانی میں گزر جاتی ہے۔ اور قیامت کی حالت تحشر میں بیان کی گئی ہے تو پھر معيشة ضنكا سے قبر کی حالت مراد ہے۔
نیز فرمایا:
فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ﴿٤٥﴾ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ﴿٤٦﴾
”اور آل فرعون کو بہت برے عذاب نے آ گھیرا، وہ صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت آئے گی تو کہا جائے گا: آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں ڈال دو۔“
(40-المؤمن:45-46)
ان آیات میں فرعون اور اس کی قوم پر تین قسم کے عذاب آنے کا ذکر ہے۔
➊ دنیوی عذاب: آل فرعون کو بہت برے عذاب نے آ گھیرا۔
➋ برزخی عذاب: وہ صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
➌ اخروی عذاب: جس دن قیامت آئے گی تو کہا جائے گا: آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں ڈال دو۔
دوسری قسم کا عذاب یقیناً برزخی حالت میں ہے کیونکہ قیامت کا ذکر مستقل طور پر الگ کیا ہے۔ اور ان دونوں کو اخروی عذاب سمجھنا جیسا کہ حافظ اسلم نے لکھا ہے، محض جہالت ہے۔
نیز فرمایا:
سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ
”اور عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے، پھر انہیں عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جائے گا۔“
(9-التوبة:101)
اس آیت میں مرتين (دو مرتبہ) میں سے، پہلی مرتبہ سے دنیوی عذاب اور دوسری مرتبہ سے برزخی عذاب مراد ہے جبکہ عذاب عظیم اخروی عذاب ہے۔ اس پر تمام مفسرین نے اتفاق کیا ہے۔
نیز فرمایا:
مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا
”ان کی خطاؤں کی وجہ سے انہیں غرق کر دیا گیا، پھر انہیں آگ میں ڈال دیا گیا۔“
(71-نوح:25)
آیت میں فأدخلوا نارا سے برزخی عذاب مراد ہے۔ یہاں آگ سے جہنم مراد نہیں کیونکہ فأدخلوا نارا میں فا تعقیب مع الوصل پر دلالت کرتا ہے، یعنی انہیں غرق کرنے کے بعد متصل طور پر آگ میں داخل کر دیا گیا تو یہ قبر اور برزخ کا عذاب ہے۔
نیز فرمایا:
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔“
(2-البقرة:154)
نیز فرمایا:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾ ۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٧١﴾
”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ خیال کرو بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کی طرف سے روزی مل رہی ہے۔ اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دیا ہے اس پر خوش ہیں اور ان (مومن) لوگوں کی نسبت خوش ہو رہے ہیں جو ابھی ان سے ملے نہیں، ان کے پیچھے رہ گئے ہیں کہ نہ تو ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ کسی طرح کا غم کھائیں گے۔ وہ اللہ کی نعمت اور اس کا فضل عطا ہونے پر خوشی محسوس کرتے ہیں اور بے شک اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔“
(3-آل عمران:169-171)
ان آیات کریمہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے برزخی زندگی اور اس میں رزق، خوشیوں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضل کی بشارت کا تذکرہ ہے۔ اس سے دنیوی زندگی مراد لینا عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے کیونکہ وہ شہید کر دیے گئے ہیں۔ ان کے بدن سے روح نکل چکی ہے۔ ان پر اموات کے احکام شرعیہ نافذ کر دیے گئے، لہذا ان پر حیات دنیوی کا اطلاق کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے۔ اس سے حیات اخروی بھی مراد نہیں لی جا سکتی (جیسا کہ معتزلہ کا مسلک ہے) کیونکہ اخروی زندگی تو سب انسانوں کے لیے حق اور یقینی ہے جسے بعث بعد الموت کہا جاتا ہے تو پھر شہداء کے لیے کون سی خصوصیت ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”لیکن تم نہیں سمجھتے۔“ جبکہ مومن تو حیات اخروی کو مانتے اور سمجھتے ہیں، لہذا معلوم ہوا کہ اس سے برزخی زندگی مراد ہے لیکن اس کا احساس و شعور زندہ لوگوں کے علم سے باہر ہے۔ اس حیات کا احساس نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ اس حیات کے آثار بدن اور روح دونوں پر ہوتے ہیں لیکن یہ حیات تفصیل کے لحاظ سے متشابہات میں سے ہے اور اس کی کیفیت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولٰكن لا تشعرون ”لیکن تم نہیں سمجھتے۔“
البتہ اس قسم کی حیات عام ایمان والوں کے لیے بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے جسے ابن کثیر رحمہ اللہ اور دیگر مفسرین نے روایت کیا ہے اگرچہ اس زندگی کے درجات میں تفاوت ہے۔ انبیاء علیہم السلام سب سے اعلیٰ درجے پر ہیں، پھر شہداء اور پھر عام مومنوں کا درجہ ہوگا۔
خلاصہ بحث یہ ہے کہ مندرجہ بالا اکثر آیات ایسی ہیں کہ وہ اپنے عموم کی دلالت کی وجہ سے قبر کے عذاب، اس کی نعمتوں اور قبر کے علاوہ اس حالت کو بھی شامل ہیں جو موت سے لے کر قیامت تک ہے اور انہی عمومی حالات پر قرآن کریم نے برزخ کا اطلاق کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
”اور ان کے پیچھے قیامت کے روز تک ایک برزخ (پردہ) ہے۔“
(23-المؤمنون:100)
یعنی انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن ہو یا اس کے بدن کے ذرات دنیا کے کسی حصے میں بھی ہوں اور روح جس مستقر میں بھی ہو تو وہ برزخ ہے اور برزخ کسی مکان کا نام نہیں بلکہ زمانے اور وقت کا نام ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ ان آیات میں ان تینوں عقیدوں کی تردید ہے جو عذاب قبر اور عذاب فی القبر (دنیاوی قبر میں عذاب) کا کسی طریقے سے بھی انکار کرتے ہیں۔
ان تمام مذکورہ آیات کے مقابلے میں صرف ایک آیت
يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا
”ہائے افسوس! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے جگا دیا۔“
(36-يس:52)
سے استدلال کرنا کہ قبر میں کوئی عذاب نہیں بلکہ وہاں سونا اور آرام کرنا ہے، غلط ہے کیونکہ یہی لوگ جب حشر کی ہولناکیاں دیکھیں گے تو وہ قبر انہیں حشر کے مقابلے میں خواب گاہ معلوم ہوگی۔ انسانی فطرت ہے کہ جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے اور پھر اس کے بعد کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے تو وہ پہلی مصیبت کو بھی نعمت سمجھتا ہے۔
اس کی مثال قرآن کریم میں موجود ہے کہ جب لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے دنیا اور قبر میں کتنی مدت گزاری تو وہ اپنے احساسات کے تفاوت کی وجہ سے مختلف جواب دیں گے، چنانچہ ان کے جواب کے متعلق ارشاد فرمایا گیا:
يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا ﴿١٠٣﴾ نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ﴿١٠٤﴾
”وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں گے کہ تم محض دس دن (دنیا میں) رہے ہو۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں جبکہ ان کا بہترین رائے والا کہے گا: تم تو محض ایک دن وہاں رہے ہو۔“
(20-طه:103-104)
نیز فرمایا:
وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا
”اور تم خیال کرو گے کہ تم دنیا میں بہت ہی کم عرصہ ٹھہرے ہو۔“
(17-الإسراء:52)
نیز فرمایا:
قُلْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا
”کہے گا: تم نے بہت تھوڑی مدت قیام کیا۔“
(23-المؤمنون:114)
نیز فرمایا:
يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ
”گناہ گار قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ دنیا میں نہیں رہے۔“
(30-الروم:55)
نیز فرمایا:
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ
”اور جس دن وہ (اللہ تعالیٰ) ان کو جمع کرے گا (تو وہ سمجھیں گے کہ) گویا وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہے تھے اور وہ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔“
(10-يونس:45)
نیز فرمایا:
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ
”گویا کہ وہ (کافر) جس دن اس (عذاب) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (تو سمجھیں گے کہ) وہ تو (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی بھر ہی رہے تھے۔“
(46-الأحقاف:35)
نیز فرمایا:
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا
”جس دن وہ قیامت کو دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ گویا وہ دنیا میں صرف ایک شام یا ایک صبح ہی رہے ہیں۔“
(79-النازعات:46)
نیز فرمایا:
لَقَد لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ
”تم اللہ کی کتاب کی رو سے روز قیامت تک ٹھہرے ہو۔“
(30-الروم:56)
نیز فرمایا:
قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ
”وہ کہیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہیں۔“
(23-المؤمنون:113)
گناہ گاروں کے یہ مختلف گمان روز حشر کی ہولناکی کی وجہ سے ہوں گے۔ جس پر زیادہ خوف ہوگا اس کے نزدیک یہ ٹھہرنا اور قیام بہت کم ہوگا اور جس کو سمجھ کم ہے اس کے نزدیک یہ قیام دس دن رات ہے، پھر ان کے اندر بھی مختلف درجات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ہے:
لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ
”تم اللہ کی کتاب کی رو سے روز قیامت تک ٹھہرے ہو۔“
(30-الروم:56)
اور یہ ٹھہرنا حشر کی نسبت تھوڑا ہے، اسی لیے فرمایا:
قُلْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
”اللہ فرمائے گا: واقعی تم نے (وہاں) بہت کم مدت قیام کیا ہے، کاش! تم (دنیا میں یہ بات جانتے ہوتے۔“
(23-المؤمنون:114)
یہ قیام دنیوی زندگی اور برزخی حالات دونوں کو شامل ہے جو قیامت کی نسبت بہت کم ہے۔ پس ان آیات سے ثابت ہوا کہ انسان کو بڑی مصیبت آنے پر چھوٹی مصیبت محسوس نہیں ہوتی، اسی لیے گناہ گار قیامت کی ہولناکیاں دیکھ کر قبر کی حالت کو مرقد (خواب گاہ) کہیں گے اور قبر کو مرقد کہنے کے متعلق مفسرین کے اور اقوال بھی ہیں۔
اثبات عذاب قبر اور احوال برزخ کی
منکرین حدیث کے اس سوال کا جواب پیش خدمت ہے جس میں انہوں نے مندرجہ ذیل آیات سے استدلال کیا ہے۔ فرمان الہی ہے:
”تم لوگ اللہ کا کیونکر انکار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر تم پر موت طاری کرے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
(2-البقرة:28)
نیز فرمایا:
”وہ کہیں گے: ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا، ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔“
(40-المؤمن:11)
❀ مفصل جواب: اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ حیات حقیقی عطا فرمائی۔ سورۂ بقرہ میں اس قسم کے پانچ واقعات مذکور ہیں۔
ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٥٦﴾
”پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں زندہ کیا تا کہ تم شکر بجا لاؤ۔“
(2-البقرة:56)
اس واقعے میں ان پر عقوبتی موت نازل ہوئی، پھر نبی موسیٰ علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا، پھر اس کے بعد انہوں نے موت مؤجل سے وفات پائی۔
نیز فرمایا:
فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٧٣﴾
”پس ہم نے کہا: اس (مقتول) کو اس کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔“
(2-البقرة:73)
اس واقعے میں مقتول اپنی موت مؤجل سے فوت ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ وقت کے لیے زندہ کیا، اس نے اپنے قاتل کے بارے میں بتا دیا اور پھر مر گیا۔
نیز فرمایا:
فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ
”پس اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مر جاؤ۔ (وہ مر گئے تو) پھر انہیں زندہ کیا۔“
(2-البقرة:243)
اس واقعے میں وہ قوم عقوبتی (سزا والی) موت مری تھی، پھر ان کے نبی نے دعا کی تو اللہ نے انہیں زندہ کر دیا۔
نیز فرمایا:
فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ
”پس اللہ نے اسے سو سال تک مردہ رکھا، پھر اسے زندہ کیا اور پوچھا کہ تم اس حالت میں کتنا عرصہ رہے، اس نے کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا نہیں، بلکہ تم سو سال تک رہے ہو۔“
(2-البقرة:259)
اس قصے میں اس شخص کا واقعہ نقل کیا گیا ہے جسے اکثر روایات میں عزیر علیہ السلام کہا گیا ہے۔ وہ خرق عادت فوت ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سو سال تک اسے محفوظ رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کر دیا لیکن اسے اس مدت کا علم نہیں تھا۔ اس نے اپنے علم کے مطابق کہا کہ وہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا کہ تم سو سال تک اس حالت میں ٹھہرے ہو اور اسی طرح اس واقعے میں گدھے کے مرنے اور اس کے دوبارہ زندہ کرنے کا تذکرہ ہے۔
اور ایک جگہ ارشاد ہے:
قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا
”فرمایا: کوئی سے چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے آپ سے مانوس کر لو اور پھر ان میں سے ایک ایک ٹکڑا پہاڑوں پر رکھ دو، پھر انہیں بلاؤ تو وہ تمہاری طرف بھاگتے چلے آئیں گے۔“
(2-البقرة:260)
اس واقعے میں بھی چار پرندوں کو ذبح کرنا، ان کے ٹکڑوں کو پہاڑوں پر رکھنا، ابراہیم علیہ السلام کی پکار پر ان کا زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے ان کی طرف آنا مذکور ہے۔
اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ہیں۔
فرمایا:
وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ
”میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں۔“
(3-آل عمران:49)
نیز فرمایا:
وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي
”اور جب میرے حکم سے تم مردوں کو (قبروں سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔“
(5-المائدة:110)
ان تمام آیات سے صراحتاً ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے استثنائی صورت میں بعض لوگوں اور بعض حیوانوں کو دنیا میں فوت کر دینے کے بعد دوبارہ زندہ کیا۔ ان آیات کی دور از کار تاویل کرنے والے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے منکر معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ منکرین حدیث نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں۔
❀ ایک واقعہ : ایک دفعہ رشکئی مردان میں میرا درس قرآن رکھا گیا۔ وہاں کسی شخص نے سوال کیا کہ قانون الہی کے مطابق ایک مرتبہ موت اور پھر بعث بعد الموت حق ہے تو یہ مذکورہ بالا واقعات کیسے مان لیے جائیں جو اس قانون الہی کے خلاف ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ آپ بعث بعد الموت کو قرآن کریم کی آیات سے تسلیم کرتے ہیں یا کسی اور چیز سے؟ اس نے کہا: میں یہ عقیدہ (بعث بعد الموت) قرآن کریم سے مانتا ہوں تو میں نے کہا: یہ قصے بھی تو قرآن کریم کی آیات ہیں، انہیں کیوں نہیں مانتے، تو یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا۔
مذکورہ بالا منکرین عذاب قبر میں سے تیسرا فریق عذاب قبر کو عذاب برزخ کی تعبیر کر کے مانتا ہے جبکہ وہ عذاب فی القبر (دنیاوی قبر میں عذاب) کو بالکل نہیں مانتا۔ وہ اپنے موقف میں کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتا۔ اسے چاہیے کہ وہ مذکورہ آیات پر غور و فکر کرے وہ عذاب فی القبر اور عذاب قبر (بمعنی برزخ) دونوں کو شامل ہیں جبکہ عذاب فی القبر (دنیاوی قبر میں عذاب) کے بارے میں صحیح احادیث میں تصریح موجود ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ یا مکہ کے کسی باغ کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يعذبان وما يعذبان فى كبير
”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔“
صحيح البخاري، الوضوء، باب من الكبائر أن لا يستتر من بوله، حديث: 216
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقعد المؤمن فى قبره
”جب مومن کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے۔“
صحيح البخاري، الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، حديث: 1369
ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خرج النبى صلى الله عليه وسلم وقد وجبت الشمس فسمع صوتا فقال يهود تعذب فى قبورها
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سورج غروب ہو چکا تھا، آپ نے کوئی آواز سنی تو فرمایا: ’یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“
صحيح البخاري، الجنائز، باب التعوذ من عذاب القبر، حديث: 1375
اس قسم کی اور بھی احادیث صحیحہ موجود ہیں اور ان احادیث میں لفظ في قبورهما، فى قبره اور فى قبورها اس بات کی صریح دلیل ہے کہ عذاب قبر کے اندر ہو رہا ہے۔ جو لوگ عذاب فی القبر کا انکار کرتے ہیں، وہ ان احادیث کی بلا ضرورت تاویل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہاں فى القبر سے فى البرزخ مراد ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی ایک حدیث میں ”في البرزخ“ کے الفاظ ہوتے تو پھر باقی احادیث میں لفظ فى القبر کی تاویل کرنے کی گنجائش تھی۔