اللہ کا قرب حاصل کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ کا قرب حاصل کرنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾
” اور آپ اپنے رب کا نام لیتے رہئے ، اور اس کی طرف ہم تن اور یکسو ہوکر متوجہ ہو جائیے۔“
(73-المزمل:8)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ اس آیت مقدسہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ہر وقت اپنے رب کی یاد میں مشغول رہے، تسبیح و تہلیل، تکبیر و حمید باری تعالی ، نماز ، تلاوت قرآنِ کریم اور لوگوں کو اسلام کی تعلیم دینے میں لگے رہیے ، اور اپنے نفس کو آلائشوں سے پاک کر کے، پورے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی یاد میں لگے رہیے، جو مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اپنے تمام امور میں صرف اس پر بھروسہ کیجیے، اس کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ مانے ، وہ آپ کے لیے کافی ہوگا، اور ہر حال میں آپ کا حامی و ناصر ہوگا، اور دعوت کی راہ میں کفار قریش کی جانب سے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو جو اذیت پہنچتی ہے، اس پر صبر کیجیے اور ان کی باتوں کا جواب نہ دیجیے ۔ (تيسير الرحمن: 2/ 1658)
یعنی کوئی بھی مسئلہ ہو، اللہ تعالیٰ سے رابطہ کریں اور اس کی قربت کے خواہاں رہیں، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب﴾
”اور آپ اپنے رب کی طرف ہی رغبت کریں ۔ “
(94-الشرح:8)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کونصیحت کی کہ جب آپ جہاد اور دیگر امور دنیا سے فارغ ہو جائیں، اور یکسوئی حاصل ہو جائے ، تو اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑے ہو جائیے ، اور نماز، دعا اور تسبیح و استغفار میں خوب محنت کیجیے، اور تمام علائق دنیا سے الگ ہو کر صرف اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگ جائیے ، اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیے ۔ جو فراغت کے اوقات لہو و لعب میں گزارتے ہیں، اور اپنے رب کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں۔ وبالله التوفيق (تيسير الرحمن: 1752/2)
بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس سے محبت کرتا ہے یا جو اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں مال و اولاد عطا فرماتا ہے کہ مال و اولاد کی وجہ سے اسے دنیا میں ایک مقام حاصل ہوتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے مقرب ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اللہ کے ہاں مال و اولاد قربت نہیں دلا سکتے ، بلکہ اعمال صالحہ اللہ کے ہاں قربت کا باعث بنتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ﴾
”اور تمہارے اموال اور تمہاری اولاد وہ چیزیں نہیں ہیں جو تمہیں ہم سے قریب کر دیں گی، بلکہ جو ایمان لائے گا اور عمل صالح کرے گا ، انہی کو ان کے نیک اعمال کا دوہرا بدلہ ملے گا۔ اور وہ لوگ جنت کے بالا خانوں میں امن و امان کے ساتھ رہیں گے ۔“
(34-سبأ:37)
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے اوصاف جن کے ذریعے قرب الہی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل آیت میں بیان ہوتے ہیں:
﴿‏ وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ‎
”اور بعض دیہاتی ایسے ہوتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اور اللہ کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں اسے اللہ سے قربت اور رسول کی نیک دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ہاں ، یقیناً یہ ان کے لیے قربت کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ “
(9-التوبة:99)
مذکورہ بالا آیت کریمہ کی روشنی میں قرب الہی کے حصول کے لیے ضروری امور یہ ہیں:
➊ اللہ تعالی پر ایمان۔
➋ یوم آخرت پر ایمان۔
➌ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا۔
اس کے علاوہ نوافل کے ذریعے بھی بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب﴾
”ہرگز نہیں ، آپ اس کی بات نہیں مانے ، اور اپنے رب کے سامنے سجدہ کیجیے اور اس کا قرب حاصل کیجیے۔ “
(96-العلق:19)
فائدہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ”اقراء باسم ربك “ اور ”اذا السماء انشقت “ میں سجدہ کیا۔
صحيح مسلم، کتاب المساجد، رقم: 1301.
اس بات کو حدیث مبارک میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد ، فاكثروا الدعاء“.
”بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے، اس لیے تم لوگ سجدہ میں کثرت سے دعا کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود، رقم: 482 .
عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ” من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ”ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا ۔“
صـحـيـح بـخـاری، کتاب الرقاق، باب من احب لقاء الله احب الله، رقم : 6507 ـ صحیح مسلم، كتاب الذكر، باب من احب لقاء الله احب الله لقاءه، رقم: 2683 .