قیامت کی نشانی : نیک لوگ معدوم ہو جائیں گے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : نیک لوگ معدوم ہو جائیں گے

عن مرداس الأسلمي رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : يذهب الصالحون الأول فالأول ويبقى حفالة كحفالة الشعير أو التمر ، لا يباليهم الله بالة
حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نیک لوگ یکے بعد دیگرے رخصت (فوت) ہوتے جائیں گے اور فضول لوگ باقی رہ جائیں گے جس طرح جو کا بھوسہ یا ردی کھجور باقی رہ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان (فضول لوگوں) کی کچھ پرواہ نہیں کریں گے۔
بخاری : کتاب الرقاق : باب ذهاب الصالحین (6434)
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : يأتى على الناس زمان يغربلون فيه غربلة يبقى منهم حثالة قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فكانوا هكذا وشبك بين أصابعه
”حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان کی خوب چھانٹی ، صفائی (Purification) کی جائے گی تو فضول لوگ باقی رہ جائیں گے (جبکہ نیک لوگ معدوم ہو جائیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر فرمایا : اس طرح ان کے وعدے اور امانتیں خلط ملط ہو کر رہ جائیں گے اور وہ اختلافات کا شکار ہو جائیں گے۔“
احمد (289/2 – 291) ابو داود : كتاب الفتن و الملاحم (4342) ابن ماجہ (4005) حاکم (481/4) الترغیب (124/1) مشکل الآثار (219/3)
اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : یا رسول اللہ ! پھر ایسے وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ سے ڈرو، نیکی کا کام کرو، برائی سے دور رہو اور لوگوں کو چھوڑ کر بالخصوص اپنی فکر کرو۔
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ نے لا اله الا الله (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں) پڑھ کر فرمایا : عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آن پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جب کہ ہمارے درمیان صالح لوگ بھی موجود ہوں گے؟ فرمایا: ہاں ! جب خباثت بہت بڑھ جائے گی۔
بخاری : کتاب الفتن : باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ويل للعرب من شر قد اقترب (7059)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دنیا پر ذلیل ابن ذلیل (لوگوں) کا غلبہ ہو جائے گا۔
احمد (535/5) مجمع الزوائد (630/7) عبد الرزاق (316/11) السلسلة الصحيحة (9/4)
عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة إلا على شرار الناس
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی مگر صرف بد ترین لوگوں پر۔ (قائم ہوگی کہ جب نیک لوگ معدوم ہوں گے)
مسلم : كتاب الفتن : باب قرب الساعة (2949) احمد (492/1) شرح السنہ (461/7) ابن حبان (6836)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ سب سے بدتر ہیں جن کی زندگی میں قیامت برپا ہوگی ۔
بخاری: کتاب الفتن : باب ظهور الفتن (7067) احمد (506/1)

فوائد :

➊ نیک لوگوں کا معدوم (Unseen) ہو جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ موجودہ حالات میں قیامت کی مذکورہ نشانی خوب واضح ہو چکی ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق میں سے نیک صالح لوگ ہی پسند ہیں اور جب رفتہ رفتہ صلحاء و شرفا کا اختتام ہو جائے گا تو قیامت قائم ہو جائے گی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔
سورۃ الانفال : 33
➍ کاروبارِ دنیا نیک لوگوں کی بدولت قائم ہے۔
➎ فضول لوگوں کی نشانی یہ ذکر کی گئی ہے کہ وہ دیانت و امانت ، عہد و وفا ، سچائی اور راست گوئی جیسے اوصافِ کریمہ و اخلاقِ حسنہ سے محروم ہوں گے۔
➏ موجودہ دور میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دینا تو کجا، اسلام پر عمل کرنا بھی خاصا مشکل ہو چکا ہے۔
➐ جب لوگوں میں فتنہ فساد، اختلافات اور عملی بے راہ روی کی جڑیں مضبوط ہو جائیں تو ایسے حالات میں اپنے دین و ایمان کی فکر کرنا دوسروں کی اصلاح کی بنسبت زیادہ ضروری ہے۔
➑ اگر حالات اجازت دیں تو بقدرِ استطاعت تبلیغِ دین کی خدمت سر انجام دینا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
➒ نیک لوگ یکدم معاشرے (دنیا) سے غائب نہیں ہوں گے بلکہ یہ افسوسناک حالت رفتہ رفتہ نمودار ہوگی اور تجربہ شاہد ہے کہ دینی خاندان بڑی سرعت سے اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔
➓ قیامت کی مذکورہ نشانی برحق ہے مگر ہمیں اپنے رویئے سے نیک صالح افراد کا نمونہ پیش کرنا چاہیے اور نیکی کا نام و نشان زندہ رکھنے کے لئے ہمیں چاہیے کہ اپنی نسلِ نو کو دینی تعلیم و تربیت کی سعادت سے بہرہ مند ہونے کے تمام مواقع فراہم کریں۔