پندرہواں شبہ: تمام راویان حدیث کا مطعون ہونا
سوال :
منکرین حدیث کا ایک اعتراض یہ ہے کہ حجیت حدیث ثبوت حدیث پر مبنی ہے اور ثبوت حدیث کی بنیاد سند کے راویوں پر ہے جبکہ راوی تو سارے متکلم فیہم ہیں، یعنی کسی نہ کسی نے ہر ایک پر اعتراض کیا ہے حتیٰ کہ ائمہ رجال نے بھی ایک دوسرے پر طعن کیا ہے۔
جواب :
پہلی بات تو یہ کہنا کہ تمام راوی متکلم فیہم ہیں، یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں کیونکہ ایسے راوی بھی ہیں جو کہ متکلم فیہم نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بعض راویوں کے بارے میں ائمہ کرام سے منقول جرح سنداً ثابت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں ائمہ حدیث نے دلائل کی بنیاد پر جرح و تعدیل کے قواعد وضوابط وضع کیے ہیں جن میں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ جرح تب قبول ہے جب وہ مفسر ہو، یعنی اس کا سبب واضح کیا گیا ہو۔ جرح مبہم قبول نہیں۔
سوال :
اصول حدیث میں مشہور قاعدہ ہے کہ الجرح مقدم على التعديل (جرح تعديل پر مقدم ہے) تو پھر جس راوی پر جرح اور تعدیل کی گئی ہو اس کی روایت کیسے مقبول ہوگی؟
جواب :
اس کا جواب تاج الدین سبکی رحمہ اللہ نے دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: محدثین کے قاعدے ”جرح، تعديل پر مقدم ہے“ کو مطلق سمجھ لینے سے مکمل طور پر احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ درست بات یہ ہے کہ جس شخص کی امامت و عدالت ثابت ہو، اس کی مدح کرنے والے زیادہ اور جرح کرنے والے نادر ہوں اور وہاں یہ قرینہ بھی موجود ہو کہ مذہبی تعصب وغیرہ اس جرح کا سبب ہے تو پھر اس صورت میں جرح کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔
طبقات السبكي بحواله ظفر الأماني في مصطلح الحديث از عبدالحي لكهنوي ، ص : 496
پھر لکھتے ہیں: ”ہم نے آپ کو بتایا ہے کہ جرح کرنے والے کی ایسے شخص کے متعلق جرح قبول نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ جرح مفسر ہو، جس کی نیکیاں اس کے معاصی سے، اس کی مدح کرنے والے اس کی مذمت کرنے والوں اور اس کی صفائی پیش کرنے والے اس کی جرح کرنے والوں سے زیادہ ہوں جبکہ وہاں اس بات کا قرینہ بھی ہو کہ جرح کرنے کا سبب مذہبی تعصب یا کوئی دنیوی مقابلہ ہے جیسا کہ ہم عصر میں ہوتا ہے، امام مالک رحمہ اللہ کے متعلق ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے متعلق ابن معین رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نسائی رحمہ اللہ کے کلام کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہم اس قاعدے ”جرح تعديل پر مقدم ہے“ کا مطلق طور پر اطلاق کر دیں تو پھر کوئی بھی امام نہیں بچتا کیونکہ کوئی بھی ایسا امام نہیں جس کے متعلق طعن کرنے والوں نے طعن نہ کیا ہو۔“
ضوابط الجرح والتعديل، تدريب الراوي
اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ کسی راوی کے متعلق صرف کلام اور جرح کی وجہ سے فی الفور فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس راوی کی وجہ سے یہ روایت ضعیف یا موضوع ہے اور یہ قانون بھی مطلق طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا کہ ”جرح تعديل پر مقدم ہے۔“
تیسری بات یہ ہے کہ کبھی کسی حدیث کی اسناد ضعیف ہوتی ہیں لیکن راوی پر جھوٹ یا وضع (احادیث گھڑنے) کی تہمت نہیں ہوتی بلکہ ضعف کا کوئی خفیف سبب ہوتا ہے تو یہاں کثرت اسانید میں سے بعض دوسری اسناد حدیث کو تقویت پہنچاتی ہیں جس کی وجہ سے حدیث صحیح لغیرہ یا حسن لغیرہ ہو کر قابل عمل بن جاتی ہے۔
امام ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حدیث میں ضعف کی دو قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک ضعف وہ ہے جو سند کے بہت زیادہ طرق ہونے کی وجہ سے زائل ہو جاتا ہے اور یہ تب ہے کہ اس کا ضعف اس کے سوء حفظ کی وجہ سے ہو جبکہ راوی اہل صدق و دیانت میں سے ہو۔ جب ہم اس سے مروی حدیث کو دیکھیں کہ اسے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے تو ہم جان لیں گے کہ اس نے اسے حفظ کیا اور اس میں اس کے ضبط میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اور اس طرح جب ضعف ارسال کے باعث ہو تو یہ بھی زائل ہو جاتا ہے۔ اور ایک ضعف وہ ہے جو زائل نہیں ہوتا کیونکہ یہ ضعف بہت قوی ہوتا ہے جسے زائل کرنے والا کوئی سبب نہیں پایا جاتا۔ اور یہ وہ ضعف ہے جو راوی کے جھوٹ سے مطعون ہونے یا حدیث کے شاذ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔“
مقدمة ابن الصلاح بحواله ظفر الأماني في مصطلح الحديث، ص : 171
اس عبارت سے ثابت ہوا کہ راوی کا مطلق ضعف، حدیث کے ضعیف ہونے کا باعث نہیں بنتا بلکہ اس میں مراتب و درجات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ اثبات حدیث صرف سند پر موقوف نہیں اور سند میں صرف مطلق ضعف سے حدیث ضعیف نہیں بنتی، لہذا اس بہانے سے حجیت احادیث کا انکار کرنا کہ حدیث کا دارو مدار راویوں پر ہے اور راوی سارے متکلم فیہم (مطعون) ہیں، غلط اور باطل ہے۔