جذعہ (بھیڑ کے کھیرے) کی عمر کا بیان
جذعہ کی عمر کی تعیین کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:
① جمہور علماء کے نزدیک بھیڑ کا جذعہ وہ ہے جس کی عمر ایک سال مکمل ہو چکی ہو۔
② بھیڑ کے چھ یا سات ماہ کے بچے کو جذعہ کہا جاتا ہے۔
③ ایک قول کے مطابق بھیڑ کا آٹھ ماہ کا اور ایک دوسرے قول کے مطابق بھیڑ کا دس ماہ کا بچہ جذعہ ہے۔
فتح الباری 8،7/10۔ شرح النووی 118/13
راجح قول:
① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
والجذع من الضأن، ما له سنة تامة هو الأصح عند أصحابنا، وهو الأشهر عند أهل اللغة وغيرهم
”مکمل ایک سالہ بھیڑ کا بچہ جذعہ ہے اور ہمارے اصحاب (شافعیہ) کے نزدیک یہی قول راجح اور اہل لغت اور دیگر علماء (جمہور) کے نزدیک یہ قول زیادہ مشہور ہے۔“
شرح النووی 118/13
② حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
هو وصف لسن معين من بهيمة الأنعام، فمن الضأن ما أكمل السنة وهو قول الجمهور
(جذعہ) کھیرا بہیمۃ الانعام (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) میں سے معین عمر کے جانور کا وصف ہے اور بھیڑ کا جذعہ (کھیرا) وہ ہے جو مکمل ایک سال کا ہو چکا ہو۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے۔ (پھر جذعہ کے بارے میں باقی اقوال صیغہ تمریض سے بیان کر کے انھیں مرجوح قرار دیا ہے)۔“
فتح الباری: 10/7
③ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں:
ومن الضأن ما تمت له سنة
”بھیڑ کا کھیرا (جذعہ) وہ ہے جو پورے ایک سال کا ہو چکا ہو۔“
النهایة فی غریب الحدیث: 713/1