مضمون کے اہم نکات
حدیث دین ہے۔
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (110ھ) فرماتے ہیں:
إن هٰذا الحديث دين، فانظروا عمن تأخذوه.
یہ حدیث دین ہے، لہٰذا دیکھ بھال لیں کہ کس سے دین لے رہے ہیں۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 15/2، وسنده صحيح]
❀ حدیث قرآن کا بیان ہے، کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، اس لیے ان میں حقیقی تعارض نہیں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا]
کیا وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے اور اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بڑا اختلاف دیکھتے۔ [النساء: 82]
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:
إن الذي أتيتهم به من التنزيل من عند ربهم لاتساق معانيه وائتلاف أحكامه وتأييد بعضه بعضا بالتصديق وشهادة بعضه لبعض بالتحقيق؛ فإن ذٰلك لو كان من عند غير الله لاختلفت أحكامه وتناقضت معانيه وأبان بعضه عن فساد بعض.
جو وحی آپ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے لائے ہیں، تا کہ اس کے معانی کو بیان کریں، اس کے احکام کو جوڑیں، بعض آیات بعض کی تصدیق کریں اور بعض بعض کے حق ہونے کی گواہی دیں، اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتی، تو اس کے احکام مختلف ہو جاتے، اس کے معانی متناقض ہو جاتے اور ایک دوسرے کی خرابی واضح کرتے۔ [تفسير الطبري: 251/7]
❀ قرآن مجید میں حقیقی اختلاف و تعارض اس لیے نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، اس بات کی تصدیق حدیث کرتی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
لقد جلست أنا وأخي مجلسا ما أحب أن لي به حمر النعم أقبلت أنا وأخي وإذا مشيخة من صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس عند باب من أبوابه، فكرهنا أن نفرق بينهم، فجلسنا حجرة، إذ ذكروا آية من القرآن، فتماروا فيها، حتى ارتفعت أصواتهم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا، قد احمر وجهه يرميهم بالتراب، ويقول : مهلا يا قوم، بهذا أهلكت الأمم من قبلكم، باختلافهم على أنبيائهم، وضربهم الكتب بعضها ببعض، إن القرآن لم ينزل يكذب بعضه بعضا، بل يصدق بعضه بعضا، فما عرفتم منه، فاعملوا به، وما جهلتم منه، فردوه إلى عالمه.
میں اور میرا بھائی ایک مجلس میں بیٹھے، میرے لیے اگر اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی ہوں، تو میں پسند نہ کروں، میں اور میرا بھائی آئے، تو اچانک رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کئی ایک مشائخ مسجد کے ایک دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ان کے درمیان فاصلہ کرنا مناسب نہ سمجھا، ہم ایک حجرہ میں بیٹھ گئے، انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھی، پھر اس کے بارے میں اختلاف کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے، آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو چکا تھا، آپ ان پر مٹی پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے، اے قوم! آپ سے پہلی امتیں اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے اور اپنی کتابوں کے بعض حصے کو بعض کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں، قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو جھٹلائے، بلکہ اس کا بعض حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، آپ اس میں سے جو سمجھ لیں، اس پر عمل کریں اور جسے نہ سمجھ پائیں، اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دیں۔ [مسند أحمد: 181/2، ح: 6702، وسنده صحيح]،[صحيح مسلم: 2666، مختصراً]
❀ جب حدیث قرآن مجید کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے تعارض کی نفی کرتی ہے، تو خود اس کے معارض ومخالف کیسے ہو سکتی ہے؟ بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث حق ہے، حق ہمیشہ حق کی تصدیق کرتا ہے، حق کبھی حق کے مخالف ومعارض نہیں ہو سکتا، اس پر سہاگہ یہ کہ قرآن نے حدیث کی حقانیت وحجیت کی نفی نہیں کی، نہ ہی حدیث کے وحی ہونے یا منزل من اللہ ہونے کی نفی کی ہے، حدیث نے قرآن مجید کو وحی تسلیم کیا ہے، نیز یہ بھی بتایا ہے کہ اگر قرآن کریم کے مفہوم میں کوئی اشکال واشتباہ واقع ہو تو قرآن کے عالم سے پوچھ لو، علمائے حق تو قرآن وحدیث کے بارے میں کہتے ہیں:
[اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا]
ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف نازل کردہ ہے۔ (آل عمران:7)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
هذا الحديث ونحوه مما ينهى فيه عن معارضة حق بحق، فإن ذٰلك يقتضي التكذيب بأحد الحقين، أو الإشتباه والحيرة، والواجب التصديق بهٰذا الحق وهٰذا الحق، فعلى الإنسان أن يصدق بالحق الذي يقوله غيره، كما يصدق بالحق الذي يقوله هو، ليس له أن يؤمن بمعنى آية استدل بها، ويرد معنى آية استدل بها مناظره، ولا أن يقبل الحق من طائفة، ويرده من طائفة أخرىٰ.
یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث حق کو حق کے ساتھ معارض قرار دینے سے منع کرتی ہیں، کیونکہ اس معارضے سے دو حقوں میں سے ایک حق کی تکذیب یا اشتباہ کا یا پریشانی لازم آئے گی۔ بلکہ دونوں حقوں کی تصدیق واجب ہے، لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ دوسرے کے کہے گئے حق کی بھی اسی طرح تصدیق کرے، جس طرح کہ اپنے کہے گئے حق کی تصدیق کرتا ہے، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ جس آیت کے معنی سے خود استدلال کرے، اس کی تو تصدیق کرے، جبکہ اس آیت کے معنی کو رد کر دے، جس سے اس کا مقابل استدلال کرے، یہ بھی جائز نہیں کہ ایک گروہ سے حق کو قبول کرے اور دوسرے گروہ کی طرف سے آنے والے حق کو رد کر دے۔ [درء تعارض العقل والنقل: 404/8]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
صح بما ذكرنا بطلان قول من ضرب القرآن بعضه ببعض أو ضرب الحديث الصحيح بعضه ببعض أو ضرب القرآن بالحديث بعضهما ببعض.
ہم نے جو دلائل ذکر کیے ہیں، ان سے ثابت ہو گیا ہے کہ جو شخص قرآن کی آیات کا آپس میں، یا صحیح احادیث کا آپس میں یا قرآن کریم اور حدیث کا آپس میں تعارض پیدا کرتا ہے، اس کا قول باطل ہے۔ [الإحكام: 100/1]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
أصول الشرع لا يضرب بعضها ببعض، كما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أن يضرب كتاب الله بعضه ببعض، بل يجب اتباعها كلها، ويقر كل منها على أصله وموضعه، فإنها كلها من عند الله الذي أتقن شرعه وخلقه، وما عدا هٰذا فهو الخطأ الصريح.
شریعت کے اصولوں کو ایک دوسرے سے متعارض قرار نہیں دینا چاہیے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو قرآن سے متعارض قرار دینے سے منع فرمایا ہے، بلکہ سب کا اثبات واجب ہے، ہر ایک اپنی جگہ ثابت ہے، کیونکہ سب کچھ اس اللہ کی طرف سے ہے، جس نے اپنی شریعت و تخلیق بہت پختہ کی ہوئی ہے، اس کے علاوہ جو بھی (نظریہ) ہے، وہ واضح غلطی ہے۔
[إعلام الموقعين: 38/2]
❀ قرآن کو حجت ماننا اور حدیث کو نہ ماننا اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفریق ہے، بعض پر ایمان اور بعض کے ساتھ کفر کا ہے، نیز یہ ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ]
وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کے درمیان تفریق نہیں ڈالی۔ (النساء: 152)
علامہ عبدالرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:
هذا يقتضي الإيمان بكل ما أخبر الله به عن نفسه و بكل ما جاءت به الرسل من الأخبار والأحكام.
یہ فرمانِ الٰہی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی خبر خود اپنے بارے میں دی ہے اور جو اخبار و احکام رسول لے کر آئے ہیں، ان سب پر ایمان لایا جائے۔ [تفسير السعدي: 210/2]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ]
ہم نے آپ کی طرف ذکر اس لیے نازل کیا کہ آپ لوگوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ وحی کی وضاحت کر دیں، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ (النحل: 44)
امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
إن الله عزوجل وضع نبيه صلى الله عليه وسلم في كتابه ودينه بالموضع الذي أبان في كتابه، فالفرض على خلقه أن يكونوا عالمين بأنه لا يقول فيما أنزل عليه إلا بما أنزل عليه، وأنه لا يخالف كتاب الله، وأنه بين عن الله عز وجل معنى ما أراد الله.
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور دین میں اپنے نبی ﷺ کو وہ مرتبہ دیا ہے، جو خود قرآن میں بیان کر دیا ہے، لہٰذا مخلوق پر یہ جان لینا فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ نازل شدہ وحی (قرآن) کے بارے میں نازل شدہ وحی (حدیث) سے ہی بولتے ہیں، نیز آپ کتاب اللہ کی مخالفت نہیں فرماتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مراد کو واضح کرتے ہیں۔ [جماع العلم: ص 55]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
فيها بيان جلي ونص ظاهر أنه أنزل تعالىٰ عليه الذكر ليبينه للناس والبيان هو بالكلام فإذا تلاه النبي صلى الله عليه وسلم فقد بينه ثم إن كان مجملا لا يفهم معناه من لفظه بينه حينئذ بوحي يوحىٰ إليه إما متلوا أو غير متلو.
اس آیت کریمہ میں صریح بیان اور واضح نص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر ذکر کو نازل کیا، تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے لیے اس کا بیان کریں۔ یہ بیان کلام کے ساتھ ہوا، لہٰذا جب نبی کریم ﷺ آیت تلاوت کرتے تھے، تو اس کی وضاحت کرتے تھے۔ اگر کوئی آیت مجمل تھی کہ جس کے الفاظ سے معنی واضح نہیں ہوتا، تو اس وقت نبی کریم ﷺ اس کی وضاحت متلو یا غیر متلو وحی سے کرتے تھے۔ [الإحکام: 81/1]
❀ معلوم ہوا کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں، کیونکہ قرآن کی تفسیر و تبیین اور تشریح و توضیح نبی اکرم ﷺ کے ذمہ ہے، حدیثِ رسول ﷺ قرآن کی مراد ہے، نیز رسول کریم ﷺ کا فرمان قرآن کا بیان ہے۔
ہم پہلے بھی کئی بار عرض کر چکے ہیں کہ قرآن و حدیث میں ظاہری تعارض و مخالفت موجود ہے، حقیقت میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ حقیقت میں تعارض، تناقض ہوتا ہے، اس سے دو باتوں میں سے ایک کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے، جو لوگ صحیح حدیث کو حقیقت میں قرآن کے مخالف و معارض سمجھتے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ وہ حدیث کو کیا حیثیت دیتے ہیں؟ اگر وہ حدیث کو حق کہیں، تو سوال یہ ہو گا کہ حق حق کے ساتھ حقیقت میں متعارض ہو سکتا ہے؟ نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ صحیح حدیث کو حقیقت میں قرآن کے مخالف تسلیم کر کے درحقیقت رسول کریم ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:
أدلة الشرع لا تتعارض في نفس الأمر، ولذٰلك لا تجد البتة دليلين أجمع المسلمون عن تعارضهما، بحيث وجب عليهم الوقوف، لٰكن قد يقع التعارض في فهم الناظرين.
شریعت کے دلائل حقیقت میں باہم متعارض نہیں ہوتے، اسی لیے آپ کوئی ایسی دو دلیلیں نہیں پائیں گے، جن کے متعارض ہونے پر مسلمانوں کا اس طرح اجماع ہو گیا ہو کہ ان پر توقف واجب ہو جائے، البتہ بسا اوقات دیکھنے والوں کے فہم میں تعارض واقع ہو جاتا ہے۔
[الموافقات: 294/4]