غیبت کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتدرون ما الغيبة؟
”کیا تم جانتے ہو غیبت کیا چیز ہے؟“
انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:
ذكرك أخاك بما يكره
”تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو۔“
عرض کیا گیا: آپ بتائیں کہ جو میں کہوں وہ چیز میرے بھائی میں موجود ہو (کیا یہ پھر بھی غیبت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته
”تم جو کہہ رہے ہو اگر تو وہ اس میں ہے تو پھر تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان طرازی کی۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2589/70، ترمذی، کتاب البر والصلة 1934، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 2/508، حدیث 9008۔
② مطلب بن عبد اللہ بن خطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: غیبت کیا چیز ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن تذكر من المرء ما يكره أن يسمع
”یہ کہ تم کسی کے متعلق ایسی بات کرو کہ اگر وہ سنے تو اسے ناگوار گزرے۔“
اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! خواہ وہ بات حق سچ ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قلت باطلا فذلك البهتان
”اگر تم نے جھوٹ اور باطل کہا تو پھر یہ بہتان ہے۔“
موطأ الجامع 2/987، حدیث 10۔
غصہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے وصیت فرمائیں، لیکن وہ زیادہ نہ ہو۔ یا اس نے کہا: مجھے کوئی مختصر سا حکم فرمائیں تاکہ میں بھولنے نہ پاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تغضب
”غصہ نہ کیا کرو۔“
بخاری، کتاب الأدب 6116، ترمذی، کتاب البر والصلة 2020۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 613/2۔
② سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الغضب من الشيطان، وإن الشيطان خلق من النار، وإنما تطفأ النار بالماء، فإذا غضب أحدكم فليتوضأ
”غصہ شیطان کی طرف سے ہے، شیطان آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4784، کشف الخفاء، حدیث 1806۔
③ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا غضب أحدكم وهو قائم فليجلس، فإن ذهب عنه الغضب وإلا فليضطجع
”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، اگر غصہ جاتا رہے تو ٹھیک ورنہ اسے لیٹ جانا چاہیے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4782، مسند احمد، مسند الأنصار 182/5 حدیث 21406۔
④ سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑنے لگے جبکہ ہم بھی آپ کے پاس تھے۔ ان دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی کو برا بھلا کہہ رہا تھا، غصے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه ما يجد، لو قال: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، ذهب عنه ما يجد
”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، اگر وہ اسے کہے تو اس کی یہ کیفیت ختم ہو جائے، اگر وہ کہے: میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، تو اس کا سارا غصہ جاتا رہے گا۔“
پس ایک آدمی اس کے پاس گیا تو اسے کہا: شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ اس نے کہا: مجھے کوئی تکلیف یا کوئی دیوانگی ہے؟ تم جاؤ۔
بخاری، کتاب الأدب 6115، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2610/109۔
مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی ممانعت
① حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن سیار المزنی رضی اللہ عنہ کی مرض الموت میں عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی ہے:
ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة
”جس بندے کو اللہ کسی رعیت کی سربراہی عطا کر دے اور وہ اپنی رعیت کی بدخواہی پر فوت ہو جائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“
بخاری، کتاب الأحکام 7150، مسلم، کتاب الإیمان 142/227۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کر دیا، اسے نمی لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما هذا يا صاحب الطعام؟
”غلے والے! یہ کیا ہے؟“
اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غشنا فليس منا
”تو نے اسے غلے کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
مسلم، کتاب الإیمان 102/164، ترمذی، کتاب البيوع 1315، ابن ماجه، کتاب التجارات 2224۔