رہا یہ دعویٰ کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے اس عمل کی مذمت کی اور نا پسند فرمایا تو یہ بھی سراسر غلط ہے اور اسکے ثبوت میں جو یہ دلیل شرح معانی الآثار کے حوالے سے پیش کرتے ہیں آیئے اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں، طحاوی لکھتے ہیں:
أَنَّ أَبَا غَسَّانَ مَالِكَ بْنَ يَحْيَى الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ نَتَحَدَّثُ حَتَّى ذَهَبَ هَزِيعٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَرَكَعَ رَكْعَةً وَاحِدَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ أَيْنَ تُرَى أَخَذَهَا الْحِمَارُ۔
”عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ہم باتیں کرتے رہے تھے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ایک رکعت وتر پڑھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس گدھے نے یہ عمل کہاں سے لیا ہے؟“
(شرح معانی الآثار:1719)
مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے (فضائل صحابہ:127) اور مولانا غلام مصطفیٰ امن پوری حفظہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا (دفاع صحابہ: 503) یہاں پر نا صرف مرزا صاحب نے صحیح بخاری کی حدیث کے خلاف ایک ضعیف روایت کو فروغ دیا بلکہ علامہ طحاوی کے نام پر جھوٹ بھی بولا ہے، مرزا صاحب نے اول تو ان کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ طحاوی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور دوسرا یہ کہ طحاوی نے فرمایا: یہ جو بخاری میں حدیث ہے نا………… یہ ابن عباس نے تقیہ کیا ہے [اصل روایت یہ ہے] (جس میں گدھے کے الفاظ ہیں)………… اور تاثر یہ دیا ہے کہ طحاوی نے جو تاویل کی ہے وہ اسی (ضعیف) روایت کی بنیاد پر کی ہے۔ جبکہ یقین جانیں ان ساری باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی سچ نہیں ہے۔ مرزا صاحب کتاب اور حوالے کے نام پر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ علامہ طحاوی حنفی المسلک ہیں اور فقہ حنفی میں ایک وتر پڑھنا درست نہیں تو اسی بحث کے ضمن میں آپ نے کہا کہ اگر کوئی ہمیں بطور دلیل یہ روایت پیش کرے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: هَلْ لَكَ فِي مُعَاوِيَةَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَعِيبَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَصَابَ مُعَاوِيَةُ قِيلَ لَهُ: قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي فِعْلِ مُعَاوِيَةَ هَذَا مَا يَدُلُّ عَلَى إِنْكَارِهِ إِيَّاهُ عَلَيْهِ۔ وَذَلِكَ:
اس میں ہے کہ جب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل کے متعلق خبر دی گئی تو آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: ”معاویہ نے درست کیا“ (شرح معانی الآثار:1718)۔
پھر طحاوی کہتے ہیں کہ ہم اسے جواباً کہیں گے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت بھی مروی ہے کہ جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر انکا انکار موجود ہے پھر آپ نے وہ روایت ذکر کی جو مرزا صاحب بطور دلیل پیش کرتے ہیں:
أَنَّ أَبَا غَسَّانَ مَالِكَ بْنَ يَحْيَى الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ نَتَحَدَّثُ حَتَّى ذَهَبَ هَزِيعٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَرَكَعَ رَكْعَةً وَاحِدَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ أَيْنَ تُرَى أَخَذَهَا الْحِمَارُ۔
اور پھر کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: ثنا عِمْرَانُ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلِ الْحِمَارُ وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَابَ مُعَاوِيَةُ عَلَى التَّقِيَّةِ لَهُ، أَيْ أَصَابَ فِي شَيْءٍ آخَرَ لِأَنَّهُ كَانَ فِي زَمَنِهِ وَلَا يَجُوزُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ مَا خَالَفَ فِعْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَدْ عَلِمَهُ عَنْهُ صَوَابًا۔
”عمران بن حدیر نے اپنی سند سے اسی جیسی روایت بیان کی مگر اس میں گدھے والی بات نہیں۔ اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابن عباس کا قول کہ ”معاویہ نے درست کیا“ بطور تقیہ ہو، یعنی معاویہ نے کوئی دوسرا کام درست کیا (تو اسکے متعلق یہ بات کہہ دی ہو)، اور ہمارے نزدیک ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے ہاں ایسا عمل درست ہو کہ جو انکے علم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے خلاف ہو۔“
اب ساری عبارت آپ کے سامنے ہے بتایئے طحاوی نے کہاں کہا ہے کہ بخاری کی روایت یا جس میں ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے درست کیا اس روایت کے مقابلہ میں اصل روایت انکار والی ہے؟ یا انہوں نے کہاں اس روایت کو صحیح لکھا ہے؟ اور کیا ایسے اسلوب سے اس روایت کی تصحیح مانی جا سکتی ہے؟ اگر بالفرض انہوں نے صحیح کہا بھی ہو پھر بھی اسکی کوئی حیثیت نہیں۔ کیوں کہ اس فن کے محدثین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے جن میں امام بخاری بھی شامل ہیں مگر طحاوی کوئی جرح و تعدیل کے امام نہیں اور نا یہ ان کی فیلڈ ہے، اور پھر کیا ضعیف حدیث کسی کے صحیح کہہ دینے سے صحیح ہو جاتی ہے؟ جبکہ وہ صحیح بخاری کی حدیث کے خلاف ہو، ہاں! مرزا صاحب کے نزدیک ہو سکتی ہے کہ جب انہیں اس سے کوئی مفاد ہو۔ جبکہ صاف ظاہر ہے کہ علامہ طحاوی حنفی مسلک کی حمیت میں یہ ساری کاوشیں کر رہے ہیں۔
مرزا صاحب کی فقہ حنفی کے متعلق کیا رائے ہے اور آپ کس طرح فقہ حنفی کا رد کرتے اور اس پر طعن کرتے ہیں یہ آپ یوٹیوب پر Fiqah e hanafi and engineer muhammad ali mirza جیسے ملتے جلتے کوئی بھی الفاظ لکھ کر دیکھ سکتے ہیں، فقہ حنفی کے رد اور مذمت میں کئی ویڈیوز سامنے آ جائیں گی۔ تعجب ہے کل تک آپ جس فقہ اور انکی اس جیسی باطل تاویلات کا رد کرتے اور مذاق اڑاتے آئے ہیں، کہ بالکل واضح حدیث یا سنت کے خلاف دیکھیں ایسی اور ایسی تاویلات کر رہے ہیں۔ تو آج اسی فقہ کا قول بطور حجت ہم پر پیش کر رہے ہیں، کیا یہ زیادتی نہیں؟ بہر حال ہمارا مقدمہ بالکل واضح روایت پر کھڑا ہے تو ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ ہم طحاوی کی اس عبارت کا جواب لکھنے میں وقت ضائع کریں۔ فقہ حنفی میں ”ممکن ہے“ اور ”ہو سکتا ہے“ کہہ کر بہت کچھ ہو جایا کرتا ہے۔ حلالہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔
(سنن ترمذی:1120)
مگر فقہ حنفی میں حلالہ جائز ہے اور وہ اس مسئلہ میں بھی کافی تاویلات پیش کیا کرتے ہیں فقہ حنفی کی کتاب ”کنزالدقائق“ کی شرح (مستخلص الحقائق ص:126) میں ہے کہ اس حدیث میں یہ احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت سے مراد رحمت لی ہو (یعنی حدیث میں حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت کی بجائے رحمت مراد ہے)۔ خود احناف کے امام ابن ابی العز رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
وَقد انحرف فِي شَأْن أبي حنيفة رَحمَه الله طَائِفَتَانِ فطائفة قد غلت فِي تَقْلِيده فَلم تتْرك لَهُ قولا وأنزلوه منزلَة الرَّسُول صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَإِن أورد عَلَيْهِم نَص مُخَالف قَوْله تأولوه على غير تَأْوِيله ليدفعوه عَنْهُم ۔
”ایک گروہ (حنفیہ) نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید میں اس قدر غلو کیا کہ انہوں نے امام صاحب کے کسی قول کو ترک نہیں کیا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا، اگر انہیں کوئی حدیث پیش کی جائے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے خلاف ہو تو وہ اس میں بے جا تاویلیں کرتے ہیں۔“ (الاتباع:30)
اسی طرح حنفیوں کے مولانا اشرف علی تھانوی اپنے گھر کی خبر دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اکثر مقلدین عوام بلکہ خواص اس قدر جامد ہوتے ہیں کہ اگر قولِ مجتہد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث کان میں پڑتی ہے تو ان کے دل میں کشادگی اور فرحت نہیں رہتی اور پھر تاویل کی فکر پڑ جاتی ہے، خواہ کتنی ہی بعید ہو……“ (تذکرۃ الرشید:131/1)
اس زیر بحث مسئلے (یعنی ایک وتر کے جواز) کے متعلق مروی روایات پر بھی بہت سی تاویلات موجود ہیں جن کے بیان کا یہ مناسب وقت تو نہیں مگر بطور لطف عرض ہے کہ انجینئر صاحب ایک وتر کے جواز کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کے لیے حدیث بھی بطور دلیل ذکر کی ہے کہ: جو چاہے وتر پانچ پڑھے جو چاہے تین یا جو چاہے ایک پڑھ لے۔ مگر آیئے دیکھ لیں کہ اس روایت کا طحاوی حنفی نے کیا جواب لکھا ہے، چنانچہ اسی شرح معانی الآثار میں اس روایت کے بعد لکھتے ہیں: ”وَقَدْ أَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت اسکے خلاف جمع ہوگئی (یعنی ایک رکعت وتر کے خلاف اجماع ہوگیا) (شرح معانی الآثار:1753)۔ آپ شرح معانی الآثار کی بات کر رہے ہیں تو اسی کا ”باب الوتر“ کھول کر مشاہدہ کر لیں کہ ہر حدیث اور ایک رکعت وتر کے جواز پر مبنی روایت کے بعد لکھا گیا ہے کہ اس میں یہ احتمال موجود ہے اور ہر کسی کی تاویل کی گئی ہے، یعنی یہاں کچھ بھی احتمال سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک رکعت وتر کے جواز میں مروی ایک روایت کے متعلق احناف کے امام العصر انور شاہ کاشمیری صاحب لکھتے ہیں کہ: میں نے اس روایت میں تقریباً چودہ سال تفکر کیا ہے پھر میں نے ایک کافی وشافی جواب نکالا………… (العرف الشذی:442/1)
لہٰذا یہاں اتنا عرض کرنا مقصود ہے کہ احناف تاویل کے بادشاہ ہیں، آپ خود امام مالک رحمہ اللہ کا قول بیان کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق فرمایا: اگر یہ چاہے تو کسی لکڑی کے تخت کو (تاویلات کر کے) سونے کا ثابت کر دے۔ لہٰذا مرزا صاحب! صحیح بخاری کی بالکل واضح حدیث کے خلاف ہمیں فقہ حنفی کے اقوال نا پیش کریں۔ اور پھر جب آپ بھی فقہ حنفی اور ان کے اس طرز عمل سے راضی نہیں تو آپ کی یہ کوششیں فضول ہیں۔
اپنے مطلب کی بات ہے تو طحاوی طحاوی کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب امام ابو بکر البیہقی رحمہ اللہ نے طحاوی رحمہ اللہ کی تاویل کو سراسر باطل قرار دیا ہے، آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو تقیہ پر محمول کرے…………“ (معرفۃ السنن والآثار:5472) کیا کبھی یہ قول ہمارے حق گو صاحب بیان کرتے ہیں؟
اب آتے ہیں اس روایت کی تحقیق کی طرف کہ جو مرزا صاحب نے صحیح بخاری کی روایت کے خلاف پیش کر کے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو فقیہ کہنا بطور تقیہ تھا انکی اصل میں مراد یہ نہیں تھی اور اصل روایت یہ ہے:
أَنَّ أَبَا غَسَّانَ مَالِكَ بْنَ يَحْيَى الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ نَتَحَدَّثُ حَتَّى ذَهَبَ هَزِيعٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَرَكَعَ رَكْعَةً وَاحِدَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ أَيْنَ تُرَى أَخَذَهَا الْحِمَارُ ۔
”عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ہم باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر (وتر کی نماز) ایک رکعت پڑھی تو ابن عباس نے فرمایا: اس گدھے نے یہ عمل کہاں سے اخذ کر لیا؟“ (شرح معانی الآثار:1719)
اس میں ایک راوی ”عبدالوہاب بن عطاء“ ہے اس کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال ملاحظہ ہوں:
امام بخاری نے اسے الضعفاء الکبیر یعنی ضعیف راویوں پر مشتمل کتاب میں ذکر فرمایا (الضعفاء الکبیر:1824)، اور الضعفاء الصغیر میں ذکر کر کے فرمایا ”یہ راوی محدثین کے نزدیک قوی نہیں“ (الضعفاء الصغیر:233)، امام احمد بن حنبل نے ضعیف الحدیث اور مضطرب قرار دیا (الضعفاء الکبیر للعقیلی: 1043)، امام ابوحاتم الرازی نے گو توثیق بھی کی مگر ساتھ ہی فرمایا ”یہ راوی محدثین کے نزدیک قوی نہیں“ (الجرح والتعدیل:72/6)، امام ابن شاہین نے عثمان بن ابی شیبہ کا قول نقل کیا کہ ”یہ کذاب تو نہیں مگر یہ ایسا بھی نہیں کہ (حدیث کے معاملے میں) اس پر بھروسہ کیا جائے“ (تاریخ اسماء الثقات:984)، امام ابوجعفر العقیلی نے ضعفاء میں ذکر کیا۔ (الضعفاء الکبیر :1043)، اور امام ابوبکر البزار نے کہا ”عبدالوہاب حدیث کے معاملے میں قوی نہیں“ (مسند بزار:7098)، امام نسائی نے ”لیس بالقوی“ (غیر قوی) قرار دیا۔ (الضعفاء والمتروکون:374)، امام ابن الجوزی نے بھی اسے ضعیف راویوں میں ذکر کیا۔ (الضعفاء والمتروکون:2211)، اور حافظ ابن حجر نے کہا ”صدوق ربما أخطأ“ یعنی سچا ہے مگر کبھی کبھار روایتِ حدیث میں غلطی کر دیتا ہے۔ (تقریب:4262)
نوٹ: صحیح مسلم میں اس راوی کی اصول میں کوئی روایت نہیں بلکہ تمام روایات متابعات میں ہیں۔ لہٰذا ایسے راوی کو صحیح مسلم کی شرط کا راوی کہنا یا اس کی روایات کو مسلم کی شرط پر صحیح کہنا خطا ہے۔
اگرچہ اس راوی کی توثیق بھی کی گئی ہے مگر بہر حال اس میں ضعف بھی موجود ہے، لہٰذا جرح کے اقوال کو سرے سے رد کر دینا درست نہیں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی وضاحت فرمائی کہ یہ راوی غلطیاں کرتا ہے، تو جب ایسا راوی جس میں ضعف ہو اگرچہ وہ حسن الحدیث ہی کیوں نا ہو اس کی روایت جب ثقہ ثبت راوی یا ثقات کی جماعت کے خلاف ہو تو روایت مردود اور ضعیف ہوتی ہے اور یہاں اس کی یہ روایت جسے مرزا صاحب اصل روایت بتا رہے ہیں صحیح بخاری کی بالکل واضح روایت اور دیگر ثقہ راویوں کی جماعت کے خلاف ہے کیوں کہ اس کے علاوہ تمام ثقہ راوی جو حدیث اور حافظہ کے معاملے میں اس سے بڑے ہیں اس کے خلاف بات بیان کرتے ہیں، مرزا انجینئر صاحب صحیح مسلم کے مقدمے کی تشریح والی ویڈیو میں منکر وشاذ روایت کے بیان میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اصول حدیث کی اصطلاح میں منکر اس شخص کی حدیث کو کہتے ہیں جو ثقہ اور کامل الحفظ راویوں کی روایت کے خلاف روایت بیان کرے یا اس کی احادیث کی کسی اور نے موافقت نا کی ہو پس جب ایسی صورتحال ہو تو راوی متروک الحدیث ہوگا اور اس کی احادیث محدثین کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوں گی، یعنی امام مسلم کے اگر 50 شاگرد ہیں 49 شاگرد ایک حدیث ان سے سن کر ایک طریقے سے بیان کر رہے ہیں [اور ایک شاگرد بالکل اس کے opposite الفاظ کے ساتھ بیان کر رہا ہے یا اس میں ایسے الفاظ ہیں جو اس کی تفہیم کے خلاف ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ راوی کی روایت منکر ہے اس کا انکار کیا جائے گا]، [49 کو غلطی نہیں لگی ایک کو لگ گئی!] …………اور اس کی مثال دیتے ہیں کہ اسی طرح کہ اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ امام زہری جیسے بزرگ شخص یا ہشام بن عروہ جیسے عظیم شخصیت سے کوئی ایسی روایت بیان کرے جس روایت کو ان کے مشہور شاگردوں میں سے کسی نے بیان نا کیا ہو اور یہ راوی صحیح روایات میں ان کے مشہور شاگردوں کا شریک بھی نا رہا ہو [تو ایسے راوی کی حدیث قبول نہیں ہوگی، چاہے وہ راوی ثقہ بھی ہو کہ اس نے اپنے سے ثقہ لوگوں کی مخالفت کر دی“]۔
Imam MUSLIM r.a ka Muqaddimah & Aqeedah ??? Saheh AHADITH hi Kewn ??? 21:40
مرزا صاحب نے اصول کس ڈھنگ سے بیان کیا ہے یا کیسی مثالیں دی ہیں یا ہم شاذ اور منکر روایت میں فرق کی بحث میں نہیں جاتے، مرزا صاحب کے کلام میں بریکٹ لگے الفاظ غور سے پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ مرزا صاحب کی یہ پیش کردہ اصل روایت ضعیف ہے کہ نہیں؟ مرزا صاحب نے تو یہ بھی اصول بیان کیا ہے کہ اگرچہ وہ راوی ثقہ ہی کیوں نا ہو تو جب وہ اپنے سے زیادہ ثقات کی مخالفت میں روایت بیان کرے گا تو روایت نا قابل قبول ہوگی! تو کیا یہاں ایک متکلم فیہ راوی صحیح بخاری کے راویوں کے خلاف روایت نہیں کر رہا؟ اور کیا اس نے دیگر ثقات کی مخالفت نہیں کی؟ جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جو روایت اس نے اپنے استاد سے بیان کی ہے اسکے علاوہ دوسرے ثقہ راوی اسکے خلاف بات بیان کرتے ہیں، وہ سب تو یہ بات بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا کہ انہیں چھوڑ دو کیوں کہ وہ صحابی ہیں، اور وہ فقیہ ہیں اور بعض ثقہ راوی یہ اضافہ بھی بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس نے اس پر فرمایا: ”أصاب معاوية“ یا ”أصاب السنة“ یعنی معاویہ نے درست عمل کیا اور سنت پر عمل کیا ہے۔ تو اگر زیر بحث راوی کو ثقہ بھی کہہ لیں مگر اس کے حافظہ میں کمزوری اور دیگر ثقہ ثبت راویوں کی مخالفت کی وجہ سے اس کی یہ بیان کردہ روایت خود مرزا صاحب کے بیان کردہ اصول کے مطابق ضعیف ہوگی۔
اور انجینئر صاحب نے جب صحیح مسلم کے اس مقدمے کو بیان کیا، تو اسکے بعد ان کی ایک ویڈیو آئی: ”امام بخاری اور امام مسلم کا اختلاف؟“ اس کے شروع میں سائل نے سوال کیا (جو کہ سب scripted ہوتا ہے) اور مرزا صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ”آپ نے صحیح مسلم کا یہ مقدمہ بیان کر کے امت پر احسان کیا ہے…………“۔
تو ہماری مرزا صاحب سے گزارش ہے کہ جو بیان کر کے احسان کیا ہے تو تھوڑا سا احسان ان اصولوں پر عمل کر کے بھی کر دیتے۔ مگر نہیں! یہی تو مرزا صاحب کی خاصیت ہے کہ اصول بیان کر کے بھی آپ سچے اور جب یہ اصول ان کے راستے میں رکاوٹ بنیں تو ان اصولوں کو ٹھکرا کر بھی آپ سچے بن جاتے ہیں۔
اب انتہائی اختصار سے ان راویوں کی روایات پیش کی جاتی ہیں کہ جن کی مخالفت میں اس راوی (عبدالوہاب بن عطاء) نے روایت بیان کی ہے:
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ (صحیح بخاری:3764)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ ۔ (صحیح بخاری:3765)
ان روایات میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سائل سے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو وہ صحابی ہیں اور فقیہ ہیں۔
اور یہی بخاری کا راوی ”نافع بن عمر“ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتا ہے کہ:
حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ، وَاللهِ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِرَكْعَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ ۔ (الاوسط فی السنن والاجماع:2642)
اس میں ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”(معاویہ نے) درست کیا بے شک وہ فقیہ ہیں“، نیز دیکھیے: (مصنف عبدالرزاق:4641)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ…… فَقُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَمَا رَأَيْتَ مَا صَنَعَ؟ قَالَ: وَمَا صَنَعَ؟ قُلْتُ: أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ۔ (فضائل الصحابۃ لأحمد بن حنبل:1950)
اس میں ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سوال کرنے والے کو جواب میں کہا ”معاویہ تم سے زیادہ علم والے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا ، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَصَابَ، أَيْ بُنَيَّ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، هِيَ وَاحِدَةٌ أَوْ خَمْسٌ أَوْ سَبْعٌ إِلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، الْوِتْرُ مَا شَاءَ ۔ (السنن الکبری للبیہقی:4794)
اس میں ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: معاویہ نے درست کیا، ہم میں سے کوئی بھی معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر علم والا نہیں ہے۔ اور مزید فرمایا کہ: وتر ایک بھی پڑھا جا سکتا ہے، پانچ بھی، سات یا اس سے زیادہ بھی!
عتبہ بن حارث کو امام ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے (الثقات:4700)، اور امام ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ میں ان سے روایت لی (صحیح ابن خزیمہ:1033)، امام بیہقی نے ان کی ایک روایت کے متعلق لکھا: هَذَا الْإِسْنَادُ لَا بَأْسَ بِهِ (السنن:3821) اور امام ضیاء المقدسی نے بھی ”الاحادیث المختارۃ (182/9)“ میں ان کی روایت لی ہے جس کتاب میں انہوں نے اپنے نزدیک وہ صحیح روایات ذکر کی ہیں جو صحیح بخاری و مسلم میں موجود نہیں۔ نیز شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ان کی روایت کی تحسین کی ہے (سنن ابی داود تحت الحدیث:1033)
ان تمام روایات اور خصوصاً اس روایت میں علامہ طحاوی کی باطل تاویل کا بھی رد ہے کہ ممکن ہے ابن عباس نے معاویہ کے کسی دوسرے کام کے متعلق ”أصاب معاوية“ (معاویہ نے درست کیا) کہا ہوگا، اور اسی طرح مرزا صاحب کی خود ساختہ کہانیوں کا بھی اس میں رد ہے کہ جو انہوں نے گھڑی ہیں کیونکہ اس میں واضح بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے جہاں کہا کہ معاویہ نے درست کیا تو ساتھ یہ بھی فرمایا کہ وتر ایک بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
ہماری نظر میں اس کے علاوہ راویوں کی بھی مثالیں موجود ہیں جن میں انہی جیسے الفاظ مروی ہیں، خود علامہ طحاوی رحمہ اللہ نے اس سے متصل بعد یہ روایت ایک دوسری سند سے بیان کی ہے جس میں عمران بن حدیر سے عبدالوہاب کی بجائے عثمان بن عمر (ثقہ) روایت کرتا ہے اور اس میں بھی گدھے والی بات نہیں ہے۔ اور زیر بحث راوی (عبدالوہاب) نے ان تمام ثقہ ثبت راویوں کی مخالفت میں وہ روایت بیان کر رکھی ہے جسے ہمارے جناب انجینئر صاحب ”اصل“ کا درجہ دے رہے ہیں اور اس سے صحیح بخاری کی روایت کے خلاف معنی اخذ کرتے ہیں۔
مزید عرض ہے کہ مرزا صاحب کی پیش کردہ روایت کی سند میں پہلا راوی ”ابو غسان مالک بن یحییٰ“ ہے، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ امام ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اسکی توثیق نہیں کی۔ (فضائل صحابہ:127)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو فقیہ قرار دیا تو اسے جھٹلانے کے لیے جو دوسرا منطق انجینئر صاحب پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس کا تو انداز یہ ہوتا تھا کہ جب ان سے کسی کے عمل کے متعلق پوچھا جاتا تو اگر وہ درست ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ یہ تو سنت ہے! حالانکہ اس سے بھی واضح ہے کہ مرزا صاحب بات کو جھٹلانے کے لیے بس بہانے بنا رہے ہیں، کہ جب واضح طور پر انہوں نے کہہ دیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دو وہ صحابی ہیں اور فقیہ ہیں، پھر دیگر روایات میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں، اور ساتھ ہی ”أصاب معاوية“ (معاویہ نے درست کیا) کہہ کر ان کے عمل کی تصدیق بھی کی اور یہی نہیں بلکہ بعض روایات کے مطابق مکمل وضاحت کے ساتھ فرمایا کہ وتر ایک بھی پڑھا جا سکتا ہے، تو اس قدر واضح جواب کے باوجود یہ مطالبہ کرنا کہ ابن عباس نے یہ کیوں نہیں فرمایا وہ کیوں نہیں کہا؟ یہ سب بہانے نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ کا یہ کہنا کہ عبداللہ بن عباس کا طریقہ جواب یہی ہوا کرتا تھا کہ………… تو عرض ہے کہ یہاں بھی آپ غلط ہیں کیوں کہ اگر عبداللہ بن عباس کے طریقے اور اندازِ جواب ہی کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ جب انہیں کسی کے ایسے فعل کے متعلق خبر ملتی کہ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوتا تو بالکل واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس کی مذمت کرتے اور اسکے مقابلے میں حدیث یا سنت کا حوالہ بھی دیتے کہ شریعت میں اس کے متعلق تو یہ احکامات ہیں نا کہ آپ رضی اللہ عنہ تقیہ کرتے:
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مرتدین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں جلوا دیا، جب یہ خبر جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو انہیں نا جلاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کے سبب، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اللہ کے عذاب سے عذاب مت دو“ (آگ اللہ کا عذاب ہے)، اور انہیں قتل کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کہ جو مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔ (صحیح بخاری:6922)
ابوطفیل (عامر بن واثلہ) بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ جس رکن کے بھی قریب سے گزرتے اس کا استلام کرتے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ہے۔ (صحیح بخاری:1608، سنن ترمذی:858)
معلوم ہوا کہ ان کی عادت تقیہ کرنے کی بالکل نہیں تھی بلکہ وہ واضح طور پر بغیر کنایہ کیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے، اور اگر انکے نزدیک یہ عمل غلط تھا تو چاہیے تو تھا کہ کہتے کہ نبی کی سنت تو ایسے ہے اور حدیث میں تو یہ حکم ہے، مگر یہاں آپ نے کیا کہا؟ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے درست کیا وہ فقیہ ہیں لہٰذا مرزا صاحب کا انکے اندازِ جواب کا حوالہ دینا بھی ہمارے حق میں ہے اور مرزا صاحب کے خلاف، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو فقیہ کہنا حقیقت پر مبنی ہے اور یہ انکے لیے فضیلت ہے۔ والحمد للہ اب اختصار کے ساتھ ہماری پیش کردہ صحیح بخاری کی روایت کے متعلق محدثین کا نکتہ نظر بھی دیکھ لیں:
امام شافعی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایک وتر پڑھنا جائز ہے، کہ جب اس سے قبل کوئی بھی نفلی نماز نا پڑھی ہو؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: جی ہاں! اور پھر آپ نے جو دلائل بیان کیے ان میں یہ بھی ہے کہ ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک وتر پڑھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے درست کیا۔“ (کتاب الام:165/1)
امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے ”کتاب الرد علی ابی حنیفہ“ میں جو کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ان مسائل کے رد میں لکھا ہے جس میں انہوں نے حدیث و سنت کی مخالفت کی ہے، تو اس میں ایک وتر کو غلط قرار دینے پر ان کے رد میں جہاں دیگر دلائل ذکر کیے ان میں بطور حجت یہ روایت بھی ذکر کی ہے۔ (المصنف:36406)
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ روایت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بیان فرمائی ہے، مرزا صاحب کا یہ کہنا باطل ہے کہ امام بخاری نے اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت نہیں بلکہ صحابیت ثابت کی ہے، اگر یہی بات تھی تو انہیں چیپٹر کا نام ”فضائل أصحاب النبي“ کی بجائے ”معرفة أصحاب النبي“ رکھنا چاہیے تھا کہ جی اس باب میں صحابہ کی صحابیت ثابت ہوگی، جبکہ باب فضائل اصحاب النبی سے بالکل واضح ہے کہ اس میں جن اصحاب کا ذکر ہوگا ان کی فضیلت اور محاسن بیان ہوں گے اور مرزا صاحب! اس کے متعلق انہوں نے دو روایات ذکر فرمائی ہیں، پہلی میں ذکر ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو کیونکہ وہ صحابی رسول ہیں، مگر اسکے بعد دوسری روایت بھی ذکر فرمائی کہ جس میں عبداللہ بن عباس کے الفاظ ”معاویہ تو فقیہ ہیں“ بھی موجود ہیں، تو سوال یہ ہے کہ جب پہلی روایت سے وہ صحابیت ثابت کر چکے تھے تو یہ دوسری روایت بیان کرنے کا مطلب کیا ہے؟
امام ابوبکر البیہقی رحمہ اللہ نے ایک وتر کے جواز میں یہ روایت بھی بطور حجت پیش کی اور فرمایا ”کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس بات کو انکی طرف سے تقیہ پر محمول کرے کیوں کہ…………“ اور علامہ طحاوی کے رد میں مزید فرمایا کہ جو اپنے مذہب کے موافق (ضعیف) روایات کو صحیح ثابت کرنا چاہتا ہے وہ تو معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو تقیہ پر ہی محمول کرے گا۔ (معرفۃ السنن والآثار:61،60/4)۔ مگر مرزا صاحب امام بیہقی کے قول سے انجان ہیں حالانکہ آپ فقہ حنفی کے رد پر مشتمل ویڈیوز میں فرماتے ہیں کہ فقہ شافعی قرآن و سنت کے قریب ہے، لیکن اس مقام پر انہیں طحاوی حنفی کے قول کی اشد ضرورت تھی اس لیے اسی کی مشہوری کراتے ہیں کیونکہ اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف انہیں مواد مل رہا تھا۔
امام جورقانی رحمہ اللہ نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں یہ روایت نقل کر کے آپ کی فضیلت ثابت کی۔ (الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر:343/1)
امام ابوالقاسم البغوی رحمہ اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے ذکر خیر میں اسے نقل کیا۔ (معجم الصحابۃ:2200)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت ذکر کیا ہے۔ (منہاج السنۃ النبویۃ:235/6)
امام صلاح الدین العلائی رحمہ اللہ نے بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کے بیان میں اس روایت کو بیان کیا اور فرمایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمل کی تصدیق فرمائی اور انہیں فقیہ قرار دیا۔ (تحقیق منیف الرتبۃ لمن ثبت لہ شریف الصحبۃ:89/1)
اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ (البدایہ والنہایہ:122/8)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اقوال بھی پیچھے ذکر کر دیئے گئے ہیں۔
ان ائمہ کرام کی تصریحات سے یہ واضح ہوا کہ ان کے نزدیک اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے اور یہ کہ اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمل کی تائید اور تصدیق فرمائی ہے تو جب معاملہ انکے نزدیک ایسا ہے تو جس (ضعیف) روایت میں آتا ہے کہ عبداللہ بن عباس نے انکے اس عمل پر انکار کیا وہ ان محدثین کے ہاں کیا درجہ رکھتی ہوگی؟
اور علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے بھی صحیح بخاری کی شرح ”عمدۃ القاری“ میں اس حدیث کو ظاہر ہی پر محمول کیا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے لفظ ”دعه (معاویہ کو چھوڑ دو)“ کے متعلق فرمایا: ”یعنی ان کے اس عمل پر انکار کرنا چھوڑ دو کیوں کہ وہ صحابی رسول ہیں اور فقہ کو اچھی طرح جانتے ہیں“ اور ”أصاب معاوية“ کے متعلق کہا: ”یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنت پر عمل کیا“ (عمدۃ القاری:249،248/16)
اس سے مرزا صاحب کی لاسٹ ویڈیو میں موجود جھوٹ بھی پکڑا جاتا ہے کہ ”باقی آپ حنفیوں کی ساری کتابیں اٹھا کے دیکھ لیں، حنفی تو ہم سے بات ہی نا کریں ان کی تو فقہ کی کتابوں میں اس کی explanation موجود ہے کہ…………“ یہ مرزا صاحب کی ایک عام سی عادت ہے کہ جب اپنے باطل نظریات کو فروغ دینا ہو تو اسے بہت بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، حالانکہ علامہ طحاوی کی تاویل کو خود احناف نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے، اس مقام پر علامہ عینی کے قول کو ذکر کرنے کا صرف مقصد مرزا صاحب کے اسی جھوٹ کو واضح کرنا تھا، لہٰذا بہت کچھ ذکر کرنے کی بجائے صرف عینی حنفی کے قول پر ہی اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ انجینئر صاحب امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بعد علامہ عینی کو احناف کے چند بڑے ائمہ و محدثین میں شمار کرتے ہیں۔
آخری ویڈیو میں مرزا صاحب نے ساری باتیں بالکل بے بنیاد اور عنوان سے ہٹ کر کی ہیں، حالانکہ عنوان یہ ہے کہ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی جو کہ اہل بیت میں سے بھی ہیں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو فقیہ کہا اور یہ انکے لیے فضیلت کی بات ہے، اب اسکے علاوہ ایک رکعت وتر پر بحث تو ہمارا موضوع ہی نہیں، اور پھر ایک رکعت وتر کو آپ بھی جائز کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی پیش فرماتے ہیں جس میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا جواز موجود ہے، پھر آپ لاکھ کوششیں کرتے پھریں سب بے کار ہیں۔ کیوں کہ ایک رکعت وتر سے نا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا نا ہی آپ سے کچھ ایسا منقول ہے جس سے ایک وتر کو خطرناک اور کراہت والا کہا جا سکے۔ اور آپ کا کہنا کہ سعد بن ابی وقاص صرف ایک رکعت وتر پڑھتے تھے تو کیا ہم بھی لوگوں کو یہی ترغیب دلائیں کہ بس فرض پڑھو اور ایک وتر پڑھو، یہ ایک فضول سی بات ہے بھلا ہم اس بات کی کب ترغیب دلا رہے ہیں کہ نوافل نا پڑھے جائیں بس ایک وتر ہی پڑھنا چاہیے؟ یا ہم کب کہہ رہے ہیں کہ صرف ایک وتر پڑھ لینا زیادہ افضل ہے بجائے اس کے کہ تمام نوافل پڑھ کر ایک وتر پڑھا جائے؟ ہم تو ایسی کسی بھی بات کا دعویٰ کرتے ہی نہیں۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ صحیح بخاری میں محمد بن قاسم بن ابی بکر جو حضرت ابوبکر کے پوتے ہیں ان کا قول امام بخاری نے نقل کیا صحیح بخاری میں کہ میں نے صحابہ کو تین وتر پر پایا اور ایک میں بھی حرج نہیں ہے، خود اسی میں آپ کے اعتراضات کا جواب ہے۔ اول تو وہ ایک ایسا عمل بیان کر رہے ہیں جو انہوں نے مشاہدہ کیا مگر اس سے اس چیز کی نفی نہیں ہوتی کہ صحابہ ایک وتر نہیں پڑھتے تھے کیونکہ ایک چیز ان کے علم میں نہیں تو اس سے ایسا کوئی رزلٹ نہیں نکالا جا سکتا، اگر انہوں نے صحابہ کو تین وتر پر پایا ہے تو دیگر تابعین نے صحابہ کو ایک وتر پر بھی پایا ہے جیسا کہ آگے ذکر کیا جائے گا، اگر انکی اس خبر سے ایک رکعت وتر کی نفی نکلتی ہے تو پھر پانچ اور سات رکعت وتر کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام پانچ یا سات وتر نہیں پڑھتے تھے؟ لہٰذا یہ دونوں خطرناک عمل ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایک رکعت وتر کے متعلق بھی یہ کہنا بالکل غلط ہوگا! یہاں قاسم بن محمد رحمہ اللہ جہاں تین رکعت وتر کی خبر دے رہے ہیں وہاں وہ ساتھ تصریح بھی فرما رہے ہیں کہ ایک وتر بھی جائز ہے جیسا کہ مرزا صاحب نے خود انکے حوالے سے نقل کیا، تو اگر صحابہ ایک رکعت کو برا سمجھتے تھے تو یہ کیوں درست کہہ رہے ہیں؟
حیرت ہے کہ اچھی طرح کیڑے نکالنے کے بعد بھی بار بار کہے جا رہے ہیں کہ ہم نے طعن نہیں کیا، پتہ نہیں کہ اگر یہ طعن نہیں تو پھر طعن کس شے کا نام ہے؟ اور پھر ساتھ ایک رکعت کو جائز بھی بتلا رہے ہیں اور خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی بیان کی جا رہی ہے، مگر تعصب ہے کہ انسان سے بہت کچھ کرواتا ہے، اور مرزا صاحب بھی بغض اور تعصب جیسی بیماریوں کے ہی شکار ہیں اور کچھ نہیں۔
اور ”صحابہ کا ایک رکعت وتر پر عمل نہیں“ یہ بھی انجینئر صاحب کی غلط بیانی ہے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک رکعت وتر پڑھنا بھی ثابت ہے:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک وتر پڑھا اور فرمایا ”یہ میرا وتر ہے۔“ (السنن الکبریٰ للبیہقی:4783)۔ شیخ زبیر علی زئی نے اسے حسن قرار دیا: (مقالات-6 ص23)
حضرت ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”وتر حق ہے جو شخص پانچ پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھ لے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھ لے۔“ (سنن نسائی:1713)، شیخ البانی نے سنن نسائی کی تخریج میں اسے صحیح اور زبیر علی زئی نے حسن کہا۔
جناب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی ایک رکعت وتر پڑھا کرتے۔ (صحیح بخاری:6356، مسند احمد:23665)
اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک وتر پڑھنے پر جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی تائید فرمائی اور اسے درست اور سنت عمل قرار دیا۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ صحابہ کا عمل اس کو سپورٹ نہیں محض جھوٹ پر مبنی دعوی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اُسی فتح الباری میں لکھا ہے:
وَصَحَّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُمْ أَوْتَرُوا بِوَاحِدَةٍ مِنْ غَيْرِ تَقَدُّمِ نَفْلِ قَبْلَهَا…
”صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے کہ انہوں نے بغیر کسی نفل نماز پڑھے ایک رکعت وتر پڑھا ہے۔“ (فتح الباری:482/2)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا صاحب جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق انتہائی غیر منصفانہ روش کا شکار ہیں، اور اسی کا نام بغض معاویہ ہے۔ جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کے حق میں ہو اسکے متعلق آپ کے اصول کچھ ہوتے ہیں اور جو انکے خلاف مروی ہو اس کے متعلق کچھ، جو بھی ان کی فضیلت میں آتا ہے وہ سب ان کے نزدیک جعلی غیر ثابت اور ضعیف ہے اور جو کچھ ان کے خلاف ملتا ہے وہ سب صحیح ہے اگرچہ وہ صحیح روایات کے خلاف ہی کیوں نا ہو۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں مروی کچھ روایات کو تو انجینئر صاحب نے بغیر کسی دلیل کے ضعیف ثابت کرنے کی کوششیں کیں اور اس کے لیے کچھ ایسے اقوال پیش کیے جو غیر واضح بھی ہیں اور غیر ثابت بھی۔ جبکہ اس کے برعکس محدثین سے ان احادیث کی تصحیح و تحسین منقول ہے، اور پھر دور حاضر کے وہ عظیم اہل علم جن کی تحکیم پر مرزا صاحب اعتماد کرتے ہیں نے بھی ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی وہ سب روایات مرزا صاحب کے نزدیک ضعیف ہیں، اور پھر انہیں ضعیف ثابت کرنے کے لیے آپ نے کبھی کوئی اصولی بات بھی نہیں کی کہ جس سے انکا مقدمہ ثابت ہو سکے۔ ویسے تو آپ اس بات کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ بابے تے شے ہی کوئی نئی، اور اپنے متعلق یہی کہتے ہیں کہ ہم بابی نہیں علمی کتابی ہیں۔ مگر آپ جہاں چاہیں بابی بھی بن جاتے ہیں اور اس مسئلے میں بھی آپ بابی اور مقلد ہی ہیں کہ بغیر کسی دلیل کے بابوں کا نام لے کر فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کو کلی طور پر ضعیف بنا رہے ہیں حالانکہ اول تو وہ اقوال صحیح سند سے آپ ثابت نہیں کر سکے اور پھر دوسری طرف جن محدثین نے ان احادیث کو صحیح قرار دیا ہے ان کی طرف آپ نظر تک نہیں دوڑاتے۔
اور آپ نے امام بخاری کے نام سے بھی دھوکے دیئے کبھی تو بغیر دلیل کے ان کی طرف یہ بات منسوب کرنے کی کوشش کی کہ ان کے نزدیک بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی فضیلت ثابت نہیں جسکا جواب آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں، اور کسی حدیث کے متعلق یہ بہانہ بنایا کہ اگر اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت تھی تو امام بخاری نے اس سے ان کی فضیلت پر استدلال کیوں نہیں کیا؟ پھر جب ہم نے امام بخاری کا استدلال پیش کیا تو اسکے ساتھ مرزا صاحب نے کیا سلوک کیا وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ اور پھر آپ امام بخاری رحمہ اللہ کو چھوڑ کر طحاوی حنفی کی طرف ہو گئے، اور طحاوی کی پیش کردہ ”ضعیف“ روایت کو کس طرح مرزا صاحب نے صحیح بنا کر پیش کیا۔ تو جب ایک چیز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ہو، اصولِ حدیث کے مطابق صحیح بھی ہو اور محدثین نے اس کی تصحیح بھی کی ہو وہ سب تو انجینئر صاحب کے ہاں ضعیف اور من گھڑت اور جو چیز ان کے خلاف ہو اور اصولِ حدیث کے مطابق ضعیف بھی ہو بلکہ صحیح روایات کے خلاف ہو اور خود مرزا صاحب کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق بھی ضعیف ہو مگر ایسی تمام روایات ہمارے جناب مرزا صاحب کے نزدیک صحیح بلکہ ”اصل“ کا درجہ رکھتی ہیں! آپ مرزا صاحب کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے پورشن میں دیکھیں گے کہ ضعیف سے ضعیف روایات انکے خلاف لے کر آئیں گے اور اس وقت وہ یہ لحاظ نہیں رکھیں گے کہ یہ تو ضعیف اور غیر ثابت ہے، اور اسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے بلکہ اس وقت آنکھوں سے اندھے اور کانوں سے بہرے ہو جائیں گے کہ میں اچھی طرح جانچ پڑتال ہی کر لوں کہ اسے ایک صحابی کے خلاف بیان کرنا ہے تو کیا یہ صحیح بھی ہے یا نہیں؟ تو ایسے طرزِ عمل سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کا مقصد کوئی حق بیان کرنا نہیں بلکہ حق جھٹلانا ہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق صرف منفی تاثر دینا ہے اور کچھ نہیں، اگر واقعی آپ منصف اور حق گو ہیں تو دونوں پہلو بیان کریں جبکہ آپ مثبت پہلو کبھی بیان نہیں کرتے بلکہ مثبت پہلو کے متعلق طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں، اور ہمارا مقصد مرزا صاحب کی انہی دھوکے بازیوں اور جھوٹوں کو واضح کرنا اور انکے بدلتے رنگ نمایاں کرنا ہے۔
❀❀❀