کیا امام بخاری کے نزدیک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں تمام مروی احادیث ضعیف ہیں؟
یہ سچ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں جو روایات مروی ہیں، ان میں سے کثیر حصہ ضعیف اور موضوع ہے، مگر کچھ روایات صحیح اور حسن اسانید سے بھی مروی ہیں، اور ہم نے صرف انہی احادیث کو ذکر کیا ہے، اور یہی بات امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیان میں فرمائی ہے۔ (البدایہ والنہایہ:122/8)
اور جو احادیث ہم نے بطور استدلال پیش کی ہیں تنہا ہم نہیں بلکہ انہیں متقدمین محدثین نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے، اور پھر ان روایات کی تصحیح دور حاضر کے ان بڑے بڑے حدیث کے محققین نے بھی کر رکھی ہے جن کی علمی خدمات اور صلاحیتوں کو خود مرزا صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور انہیں دور حاضر کے محدث قرار دیتے ہیں، اور اپنی ہر پیش کردہ روایت کے بعد ان کی تحکیم نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے صحیح کہا یا حسن یا ضعیف۔ جن میں محدث ناصر الدین البانی، مولانا شیخ ارشاد الحق اثری، شیخ زبیر علی زئی، علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب سر فہرست ہیں! ان تمام نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں جو فضائل ہم نے نقل کیے ہیں کو صحیح اور حسن قرار دیا ہے، انصاف تو یہ تھا کہ مرزا صاحب جب ہر حدیث کے تحت ان کے حکم نقل کرتے ہیں، تو ان احادیث میں بھی ان کی تحکیم پر عمل کیا جاتا کہ جس پر یہ تمام متفق ہیں، مگر مرزا صاحب کا طرز عمل یہ بالکل نہیں ہے۔ اور ان تمام محققین نے جو ان احادیث پر صحت کا حکم لگایا ہے سے عوام الناس کو کبھی آگاہ نہیں کرتے، اور اگر ان سے اختلاف ہے تو وہ اختلاف کس نوعیت کا ہے، کن اصول و ضوابط کی روشنی میں ہے؟ یہ بھی کبھی ذکر نہیں کیا اور اس کے خلاف بس اِدھر اُدھر کی باتیں ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ ایک اور اشکال ہے جو ہمارے جناب صاحب ان احادیث کو مشکوک بنانے کے لیے پھیلاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
”جو اہل حدیث فرقہ ہے اس کے جو بڑے امام ہیں ابن حجر عسقلانی، انہوں نے ذکر معاویہ چیپٹر صحیح بخاری کی جو شرح لکھی ہے فتح الباری وہ ذرا پڑھ کے دیکھ لیں، انہوں نے لکھا ہے کہ امام بخاری نے یہاں جو لفظ ”ذکر معاویہ“ لکھا ہے تو انہوں نے اپنے استاد اسحاق بن راہویہ کی پیروی کی ہے، اس اعتبار سے کہ حضرت معاویہ کے لیے وہ سپیسیفیک کوئی فضیلت نہیں مانتے تھے اور امام بخاری بھی کوئی فضیلت نہیں مانتے تھے۔“
Video:Hazrat Mouviya R.A Ke Leye Jannat Ki Basharat ?
یعنی امام بخاری رحمہ اللہ نے فضائل صحابہ والے چیپٹر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت فضیلتِ معاویہ جیسے الفاظ بیان نہیں کیے بلکہ ”ذکر معاویہ“ لکھا ہے، اور پھر اس کے ضمن میں کوئی مرفوع حدیث بھی نہیں لائے جس سے جناب معاویہ کی فضیلت ثابت ہو، اور اس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی فضیلت ثابت نہیں۔
امام بخاری نے باب کس نام سے باندھا ہے، اور ذکر معاویہ کیوں لکھا ہے اسکو چھوڑیں! اگر امام صاحب سرے سے ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نا کرتے اور نا ہی فضائل کے باب میں انکے نام پر باب قائم کرتے یہ تو پھر بھی نہیں کہا جا سکتا کہ انکے نزدیک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی فضیلت مروی نہیں، اور نا ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ احادیث انکے نزدیک ضعیف ہیں۔ کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے نا تو یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں اس کتاب میں تمام کی تمام صحیح احادیث ذکر کر دوں گا، اور نا ہی یہ بیان کیا ہے کہ جو حدیث میں صحیح بخاری میں درج نہیں کروں گا وہ میرے نزدیک ضعیف ہوگی۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خود امام بخاری رحمہ اللہ سے انکا یہ قول نقل فرمایا ہے:
لم أخرج فِي هَذَا الْكتاب الا صَحِيحا وَمَا تركت من الصحيح أكثر۔
”میں نے اس کتاب میں صرف صحیح احادیث نقل کی ہیں اور جن صحیح احادیث کو میں نے ترک کیا (یعنی صحیح بخاری میں نہیں لایا) ان احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے۔“
(مقدمہ فتح الباری: ج1، ص7)
کیا اب اس بیان کے بعد کوئی بلا دلیل یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ فلاں حدیث اگر امام بخاری نے صحیح بخاری میں ذکر نہیں کی تو وہ انکے نزدیک ضعیف ہے؟ ایسا ہرگز نہیں کہا جا سکتا!
لہٰذا اس بیان میں حافظ ابن حجر ہوں یا مرزا صاحب، دونوں ہی مدعی ہیں اور دلیل کیا ہے؟ کوئی بھی نہیں! اور مرزا صاحب کا یہ دھوکا کہ ”اہل حدیث کے بڑے امام حافظ ابن حجر……….“ یہ سراسر جھوٹ ہے، مرزا صاحب کی یہ عادت ہے کہ جب کسی کا قول پیش کرنا ہو (اور ہو بھی وہ بے دلیل) تو اسکے قائل کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، کہ بات میں وزن پیدا ہو۔ دیکھیں! اہل حدیث کا مقدمہ بالکل سادہ اور واضح ہے، جس میں کوئی دو آراء نہیں کہ اہل حدیث کے سب سے بڑے امام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنہیں اللہ نے امام بنا کر بھیجا، اسکے علاوہ کوئی صحابی ہو تابعی ہو بڑے سے بڑا امام، محدث اور فقیہ ہو کسی کی ہر بات قابل قبول نہیں، بلکہ سب سے غلطی ہوتی ہے، اور دلائل کی روشنی میں کسی سے بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ لہٰذا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا احترام اور انکا مقام اپنی جگہ مگر ہمیں ان سے اس مسئلہ میں اصول و ضوابط کی روشنی میں اختلاف ہے کیوں کہ انکا یہ دعویٰ بغیر کسی واضح دلیل کے ہے، جبکہ خود ابن حجر رحمہ اللہ یہ قاعدہ بیان کرتے ہیں کہ جو احادیث امام بخاری اپنی الصحیح میں درج نہیں کرتے تو اس بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ وہ انکے نزدیک ضعیف ہیں، جیسا کہ ہم انکے چند اقوال فتح الباری ہی سے پیش کریں گے۔
اس سے قبل اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں اخراجِ حدیث کے لیے بڑی اعلیٰ اور کڑی شروط لگا رکھی ہیں، جو احادیث انکی صحیح بخاری کی شروط پر پورا اتریں آپ نے بس انہی کو نقل فرمایا ہے، اس سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ باقی احادیث امام صاحب کے نزدیک ضعیف ہیں، بلکہ وہ بھی آپ کے نزدیک صحیح ہو سکتی ہیں مگر صحیح بخاری کی اعلیٰ شروط کے مطابق نا ہونے کے باعث انہیں ذکر نہیں کیا۔ اس بات کی وضاحت خود مرزا صاحب نے بھی فرمائی ہے۔
(علمی و تحقیقی مجلس نمبر 10، دورانیہ 1:02:55)
اب اس سلسلے میں خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اپنا طرز عمل ملاحظہ فرمائیں:
آپ رحمہ اللہ ایک حدیث جسے امام بخاری نے الصحیح میں ذکر نہیں فرمایا کے متعلق فرماتے ہیں:
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ أَيْضًا وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَلَمَّا لَمْ يَكُنْ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى شَرْطِ الْمُصَنِّفِ اسْتَنْبَطَ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي عَلَى شَرْطِهِ مَا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ الْمَعْنَى كعادته۔
”اس حدیث کو امام ابوداؤد نے بھی (سنن ابی داؤد میں) ذکر کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے، پس یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر نہیں تھی (اس لیے اسے نقل کرنے کی بجائے) اس حدیث سے استنباط کیا جو ان کی شرط پر صحیح تھی جو اس (سنن ابی داؤد والی حدیث) جیسے معنی بیان کرتی ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی عادت ہے۔“
(فتح الباری:334/1)
اور ایک جگہ فرمایا:
وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْرَجَهُ مَالِكٌ وَمُسْلِمٌ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ وَلَيْسَ هُوَ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ فِي صَحِيحِهِ فَاكْتَفَى فِيهِ بِالْإِشَارَةِ إِلَيْهِ وَفِي كِتَابِهِ مِنْ ذَلِكَ نَظَائِرُ۔
”اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام مالک، مسلم اور اصحاب سنن نے روایت کیا ہے، اور وہ صحیح بخاری کی شرط پر نہیں، تو امام بخاری نے صرف اسکی طرف اشارہ کرنے ہی پر اکتفا کیا، اور ان کی کتاب میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔“
(فتح الباری:490/13)
یہاں بھی صحیح مسلم کی حدیث کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ صحیح بخاری کی شرط پر نہیں اس لیے اسے امام بخاری نے نقل نہیں فرمایا، یہ تو نہیں فرمایا کہ ممکن ہے وہ انکے نزدیک ضعیف ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے اس طرز عمل کے متعلق حافظ رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح میں یہی بات بارہا دفعہ دہرائی ہے، ایک جگہ ہمارے مقدمے کی عین ترجمانی اور تائید کرتے ہوئے فرمایا:
أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي نَضْرَةَ عَنْهُ قِيلَ وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ بِصِيغَةِ التَّمْرِيضِ لِأَنَّ أَبَا نَضْرَةَ لَيْسَ عَلَى شَرْطِهِ لِضَعْفٍ فِيهِ وَهَذَا عِنْدِي لَيْسَ بِصَوَابٍ لِأَنَّهُ لَا يَلْزَمُ مِنْ كَوْنِهِ عَلَى غَيْرِ شَرْطِهِ أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ عِنْدَهُ لِلِاحْتِجَاجِ بِهِ بَلْ قَدْ يَكُونُ صَالِحًا لِلِاحْتِجَاجِ بِهِ عِنْدَهُ وَلَيْسَ هُوَ عَلَى شَرْطِ صَحِيحِهِ الَّذِي هُوَ أَعْلَى شُرُوطِ الصِّحَّةِ۔
”اس حدیث کو امام مسلم نے اور اصحاب سنن نے ابونضرہ کے واسطے سے نقل کیا ہے، کہا گیا ہے کہ اسے امام بخاری نے صیغہ تمریض کے ساتھ ذکر کیا ہے کیوں کہ (راوی حدیث) ابونضرہ میں پائے جانے والے ضعف کے سبب وہ امام بخاری کی شرط کا نہیں، لیکن یہ بات میرے نزدیک درست نہیں! کیونکہ اسکے امام بخاری کی شرط پر نا ہونے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ وہ انکے نزدیک قابل احتجاج راوی نہیں بلکہ وہ ان کے نزدیک قابل حجت بھی ہو سکتا ہے، مگر وہ صحیح بخاری کی شرط کا راوی نہیں جو کہ اعلیٰ شرائطِ صحت ہیں۔“
(فتح الباری:205/2)
تو ہمارا مقدمہ بھی بالکل یہی ہے کہ اگر امام بخاری نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ پر مشتمل صحیح احادیث میں سے صحیح بخاری میں کچھ بیان نہیں فرمایا تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ سب ان کے نزدیک نا قابل احتجاج اور ضعیف ہے، بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ احادیث انکے ہاں قابل حجت تو ہوں مگر صحیح بخاری کی اعلیٰ شرائط پر نا ہونے کے سبب آپ رحمہ اللہ نے انہیں ذکر نہیں فرمایا۔
صحیح بخاری کی سب سے عظیم اور مشہور شروحات میں سے ایک ”ارشاد الساری“ بھی ہے، جو امام احمد بن محمد القسطلانی رحمہ اللہ (المتوفی 923ھ) نے لکھی ہے آپ رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے اس باب کی شرح کے ضمن میں فرمایا:
قد ورد في فضل السيد معاوية رضي الله عنه أحاديث لكنها ليست على شرط المؤلف۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں احادیث مروی ہیں مگر وہ امام بخاری کی شرط پر نہیں“ (اس لیے انہیں صحیح بخاری میں درج نہیں کیا گیا۔)
(ارشاد الساری:140،141/6)
بالکل وہی بات کہی جا رہی ہے جو خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ کے اس طرز عمل پر فرمایا کرتے ہیں، اور اگر واقعی اس بات کی کوئی واضح دلیل ہوتی کہ امام بخاری نے ان روایات کو اس لیے نقل نہیں فرمایا کہ یہ انکے نزدیک ضعیف ہیں تو علامہ قسطلانی ایسا ہرگز نا کہتے، انکا یہ بیان اصول اور انصاف کے بلکہ خود امام ابن حجر رحمہ اللہ کی دیگر عبارات کے بالکل موافق ہے، لہٰذا یہی درست ہے! اور علامہ ابن حجر کا زیر بحث قول درست نہیں۔ مگر مرزا صاحب نے اپنی روایتی عادت کے مطابق اسی قول کو پکڑا ہے جو انکی خواہش کے مطابق ہے دوسری طرف جن محدثین نے صراحت کے ساتھ ان احادیث کو صحیح کہا ہے، انصاف اور اصول کیا تقاضا کرتے ہیں، ان سب باتوں سے انہیں کوئی غرض نہیں، اور ایسی بے ایمانی اور نا انصافی کے بعد بھی مرزا صاحب خود کو ایک نہایت منصف اور حق گو اسپیکر قرار دیتے ہیں۔
یہ تو تھا صحیح بخاری کا معاملہ، دوسری طرف امام بخاری رحمہ اللہ ہی کی دوسری کتاب ”التاریخ الکبیر“ بھی ہے اس میں امام صاحب رحمہ اللہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے باب کے تحت انکے فضائل میں وہی احادیث نقل فرمائی جو ہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں احادیث بیان کی ہیں: (التاریخ الکبیر-326/7)۔ تو اگر کوئی کہے کہ امام بخاری کا تاریخ الکبیر میں کوئی حدیث نقل کرنا ان کے نزدیک اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ امام بخاری کا صحیح بخاری میں کوئی حدیث ذکر نا کرنا بھی ان کے نزدیک اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل بالکل نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ امام بخاری نے اس مسئلہ میں اپنے استاد اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی پیروی کی ہے درست نہیں، بلکہ پہلے امام اسحاق سے وہ قول تو ثابت ہونا، پھر یہ ثابت کریں کہ اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا قول بخاری رحمہ اللہ کے علم میں تھا، اور پھر دلیل سے ثابت کریں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اپنے استاد اسحاق رحمہ اللہ کے قول سے متفق ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے صحیح بخاری میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث ذکر نہیں فرمائی۔ الحمدللہ مرزا صاحب نے ان میں سے کسی ایک چیز کی بھی دلیل نا تو کبھی دی ہے اور نا ہی دے سکتے ہیں، مگر اسکے باوجود آپ ان جیسے اقوال سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی فضائل کو جھٹلاتے ہیں، اور جن ائمہ محدثین نے ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے انہیں چھپاتے ہیں، جبکہ آپ الزام علماء پر عائد کرتے ہیں کہ جی ان مولویوں نے لوگوں سے حق چھپایا ہے۔
ان دلائل کے بعد اب اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ کوئی کہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ فضیلت یا منقبت جیسے الفاظ ذکر نا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انکے نزدیک معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ”فضائل اصحاب النبی“ چیپٹر میں دیگر کئی صحابہ کے نام کی ہیڈنگ کے ساتھ بھی ”ذکر“ کا لفظ ہی استعمال کیا ہے، تو ان کے متعلق مرزا صاحب کا کیا بیان ہوگا؟ حالانکہ تھوڑی سی توجہ کی جائے تو ان الفاظ کی بحث اور تفریق میں جانے کی ضرورت ہی نہیں بچتی کہ جب چیپٹر کا نام ہی ”فضائل اصحاب النبی“ ہے، تو اسکا کیا مطلب ہے؟ کہ یہ باب متقاضی ہے کہ اس میں صحابہ کے فضائل و مناقب یا ان کی صفات و محاسن بیان ہوں گے، پھر اس مطالبے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ ہر ہر صحابی کے نام کی ہیڈنگ کے ساتھ لفظ فضیلت یا منقبت ہی استعمال کیا جائے جبکہ پہلے عمومی طور پر اس باب کے تحت تمام مذکورین صحابہ کے لیے لفظ ”فضائل“ بول دیا گیا ہے؟
اور مرزا صاحب جن کا نام لے کر یہ اشکالات پیدا کر رہے ہیں خود انہوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے باب کے متعلق ”مناقب معاویہ“ جیسے الفاظ کہہ رکھے ہیں، چنانچہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ہی ایک مقام پر فرماتے ہیں:
وَسَيَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ أَوْتَرَ بِرَكْعَة وَأَن ابن عَبَّاسٍ اسْتَصْوَبَهُ۔
”اور عنقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں آئے گا کہ انہوں نے ایک وتر پڑھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں درست قرار دیا۔“
(فتح الباری:482/2)
تو جب خود ابن حجر رحمہ اللہ بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں اس کے باوجود بھی مرزا صاحب ان کے ایک ایسے قول کو لے کر بیٹھے ہیں جس میں ان سے خطا ہوئی ہے مگر اسی ابن حجر کا ایسا قول بھی موجود ہے جس میں وہ درستگی پر ہیں مگر مرزا صاحب کو انکے اس قول سے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ تھے مرزا صاحب کے بہانے جو کہ آپ فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلانے کے لیے بناتے ہیں، کبھی تو ان صحیح احادیث کو جھٹلانے کے لیے غیر ثابت اقوال کا سہارا لیتے ہیں، یا کبھی کسی کے قول سے غلط مطلب کریدتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں امام بخاری رحمہ اللہ نے فلاں حدیث سے یہ استدلال کیوں نہیں کیا، یا انہوں نے صحیح بخاری میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے باب کے تحت فضائل پر مبنی احادیث کیوں ذکر نہیں کیں، اور کبھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ایک شاذ اور خطا پر مبنی قول کو بنیاد بناتے ہیں، مگر کبھی بھی کسی دلیل سے یہ بات نہیں کریں گے کہ آپ کی فلاں پیش کردہ روایت میں یہ علت ہے اور فلاں میں یہ ضعف، اور پھر آپ دعوے دار بھی ہیں کہ ہم ہیں مسلم علمی کتابی اور ہم بابی نہیں، آپ کی تو بنیادی دعوت ہے کہ بابوں کو چھوڑ و خود علم کی بنیاد پر مقدمہ قائم کرو، مگر یہ محض لفظوں کا جال اور دھوکے بازی ہے، آپ خود جب چاہیں بابی بن جاتے ہیں اور کسی کے غلط قول کو بنیاد بنا کر بضد اس پر جم جاتے ہیں اور اسکی آڑ میں حق کو جھٹلاتے چلے جاتے ہیں اور بیچاری عوام کو اس دھوکے میں رکھا گیا ہے کہ آپ ہر بات دلیل اور حوالے سے کرتے ہیں۔
مرزا صاحب کسی برتن کا ڈھکن نہیں ہیں یہاں امام بخاری رحمہ اللہ کا نام لے رہے ہیں کہ انہوں نے فلاں حدیث سے فضیلت پر استدلال کیوں نا کیا فلاں احادیث صحیح بخاری میں درج کیوں نا کیں؟ مگر جس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اخذ کی اور جس سے آپ نے استدلال کیا ہے تو اس استدلال کے ساتھ مرزا صاحب کا کیا طرز عمل ہے، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، کہ جن کے نام پر یہ ساری عمارت مرزا صاحب نے کھڑی کی ہے کی تشریح کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے وہ بھی ذرا دیکھ لیں:
امام بخاری کا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال اور مرزا صاحب کا طرز عمل:
پیچھے آپ پڑھ آئے کہ کس طرح مرزا صاحب نے بغیر دلیل کے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کو جھٹلانے کی ناکام کوششیں کی ہیں، کبھی کسی کا نام لے کر پیچھا چھڑاتے ہیں تو کبھی امام بخاری رحمہ اللہ کے نام پر ٹال مٹول، کبھی یہ مطالبہ اور اشکال کہ امام بخاری نے ”اول جیش“ والی حدیث سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال کیوں نا کیا، تو کبھی یہ عذر کہ بخاری نے جناب معاویہ کے نام کی ہیڈنگ پر ذکر معاویہ لکھا، فضیلت یا منقبت جیسے الفاظ نہیں لکھے اور اس سے یہ باور کرایا گیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی فضیلت ثابت نہیں، ان اعتراضات کی حقیقت تو آپ ملاحظہ فرما چکے، اب اس باب میں یہ بتانا مقصود ہے کہ جناب مرزا صاحب خالص اور پکے مطلب پرست اور دوغلے انسان ہیں، بس اپنے مفاد کی حد تک کسی کے نام کو استعمال کرتے ہیں اور اس سے اپنے نظریات کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب اس سے مطلب پورا ہوگیا تو آپ کون اور ہم کون۔
تو عرض ہے کہ مرزا صاحب بار بار جس بخاری کا نام لے کر چوڑے ہو رہے تھے آپ ان کے بھی سگے بالکل نہیں ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں فضائل صحابہ کے تحت جہاں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر باب باندھا تو اس کے ضمن میں یہ اثر ذکر فرمایا:
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
”ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد ایک وتر پڑھا اور انکے پاس حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام تھا، تو وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا (اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے بارے میں بتایا) تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔“
(صحیح بخاری:3764)
(وعنه) قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ۔
”ابن ابی ملیکہ ہی سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: آپ کا امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے کہ انہوں نے تو صرف ایک رکعت وتر پڑھا ہے؟ تو جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک وہ فقیہ ہیں۔“
(صحیح بخاری:3765)
اسے بہت سے محدثین نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں ذکر کیا ہے اور ظاہری بات ہے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود بھی یہی ہے جب وہ اس اثر کو فضائل کے باب میں نقل فرما رہے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کو یہ بات بھی بالکل ہضم نا ہوسکی، انکا مشن عوام الناس کے درمیان جنابِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق منفی تاثرات ہی پھیلانا ہے، اب بخاری بخاری کرنے والے کو تو چاہیے تھا کہ جب امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال کیا ہے اور فضائل صحابہ میں اسے درج فرمایا ہے تو اسے سر آنکھوں پر رکھا جاتا لیکن افسوس کہ اسے بھی نہیں بخشا۔ اور امام ابن حجر رحمہ اللہ – جن کا نام لے کر مرزا صاحب نے اپنا الو سیدھا کیا ہے – نے صحیح بخاری کی شرح میں اس اثر پر کیا تبصرہ فرمایا ہے وہ بھی دیکھ لیں:
وَقَوْلُهُ دَعْهُ أَيِ اتْرُكِ الْقَوْلَ فِيهِ وَالْإِنْكَارَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ أَيْ فَلَمْ يَفْعَلْ شَيْئًا إِلَّا بِمُسْتَنَدٍ وَفِي قَوْلِهِ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ مَا يُؤَيِّدُ ذَلِكَ۔
”جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دو! سے مراد یہ ہے کہ اس پر بات اور انکار کرنا چھوڑ دو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ ہیں، یعنی وہ کوئی ایسا کام ہی کریں گے جو مستند (یعنی سنت یا حدیث سے ثابت) ہو، اور دوسری روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ ”معاویہ رضی اللہ عنہ نے درست کیا اور وہ فقیہ ہیں“ (ہماری) اس بات کا مؤید ہے۔“
(فتح الباری:104/7)
یاد رہے مرزا صاحب نے صحیح بخاری کے باب ”ذکر معاویہ“ کے متعلق حافظ ابن حجر کا تبصرہ لفظ بلفظ پیش کیا ہے بلکہ جگہ جگہ اسے بیان کرتے رہتے ہیں، کیوں کہ اس میں مرزا صاحب کے مفاد کی باتیں ہیں، مگر یقین جانیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ قول بھی اسی صفحے پر موجود ہے جس سے آپ اپنے مطلب کا قول نقل فرمایا کرتے ہیں، اور مرزا صاحب بالکل مطمئن ہوکر کہتے ہیں کہ میں ایک ایماندار، منصف اور حق گو انسان ہوں، حق بات چھپاتا نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:
لَكِنْ بدقيق نظره استنبط مَا يَدْفع بِهِ رُؤُوس الرَّوَافِضِ۔
”لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی گہری نظر سے ایسا استنباط کیا جو روافض کا قلع قمع کرتا ہے۔“ (ایضاً)
یعنی روافض اہل بیت کی محبت اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے دعوے دار ہیں، جبکہ یہاں اہل بیت میں سے ایک عظیم ہستی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی ورڈنگ دے رہے ہیں، مگر روافض کا معاملہ تو اسکے بالکل برعکس ہے۔
اور یہ تھا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس واقعہ کے متعلق مؤقف! مگر یقین کیجیے کہ اس حوالے سے مرزا صاحب کے بیانات امام بخاری اور امام ابن حجر رحمہما اللہ سے بالکل ہٹ کر ہیں، بلکہ سو فیصد ان کے برعکس ہیں۔ وہ دونوں تو اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذکر خیر میں لے رہے ہیں مگر جناب انجینئر صاحب اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مذمت میں پیش کرتے ہیں اور اپنی رسم و ریت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس سے بھی منفی تاثر ہی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
انجینئر صاحب کے اشکالات سے پہلے عرض ہے کہ یوٹیوب پر انکے ایک وتر پڑھنے کے جواز کے متعلق اقوال سن لیں، کہ آپ خود اس عمل کو بالکل درست قرار دیتے ہیں، ایک جگہ آپ سے سوال کیا گیا تو آپ نے اسے بالکل جائز کہا بلکہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا عمل بحوالہ مؤطا امام مالک پیش بھی کیا کہ وہ ہمیشہ اکیلا وتر پڑھا کرتے تھے۔
Ask Questions With Engineer Muhammad Ali Mirza on Live Video Call | Shahid & Bilal.Episode: 023- Last Question
اس کے علاوہ بھی آپ کی کئی جواز پر مبنی ویڈیوز موجود ہیں۔ ایک وتر پڑھنا صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے اور انہی میں خلیفہ راشد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جیسا کہ آگے بحوالہ ذکر کیا جائے گا، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ شریعت میں بھی اور خود انجینئر صاحب کے نزدیک بھی ایک وتر جائز عمل ہے، مگر جناب معاویہ سے بغض اور تعصب کا نتیجہ ہے کہ جب بات ان کے ایک وتر پڑھنے پر آتی ہے تو چونکہ اس میں انکی فضیلت موجود ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں فقیہ صحابی قرار دیا لہٰذا یہاں آپ کا انداز ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
”ایک وتر پڑھنا اتنا خطرناک عمل ہے کہ میں آپ کو یہ بخاری سے حدیث بتاتا ہوں، خطرناک اس حوالے سے کہ جائز ضرور ہے لیکن پسندیدہ نہیں ہے! یہ سن لیں آپ حدیث – بخاری میں 3764 اور 3765 – کہ [لوگوں] نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو شکایت کی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صرف ایک رکعت وتر ہی پڑھتے ہیں، یہ شکایت کی گئی ابن عباس کو تو انہوں نے فرمایا کہ ”معاویہ کو چھوڑ دو وہ خود فقیہ اور سمجھدار ہیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے، یعنی ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے وہ صحابی ہیں اگر وہ یہ کر رہے ہیں عمل اس کو جائز سمجھتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ایک رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہے“، لیکن دیکھیں [اس کو معیوب کتنا سمجھا] [صحابہ نے] شکایت کی کہ یہ دیکھیں حضرت معاویہ، [یعنی اس کا مطلب کوئی اور پڑھتا ہی نہیں تھا ایک وتر]۔ اور ویسے میں نے جب سے یہ حدیث پڑھی ہے نا اس کے بعد میں نے پھر! کبھی کبھار پہلے میں ایک وتر پڑھتا تھا ہون میں کدی وی نہیں، کدی وی ایک وتر نہیں پڑھیا، میں کیا ہون تے میں پڑھنا ہی نہیں، کیونکہ معیوب سمجھا جاتا تھا نا، دوسری بات میں کرنا نہیں چاہتا۔“ (پھر مرزا صاحب اور انکے سامنے بیٹھے سٹوڈنٹس ہنسنے لگے۔)
130-Mas’alah : Namaz-e-WITER kay 8-SUNNAT TAREEQAY aur Saheh FIQAHAI Ahkam-o-Masa’il (3-ILMI Poins)-1:14:03
عبارت میں بعض لفظوں کو بریکٹ میں لکھنے سے انکی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو انجینئر صاحب نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے اس میں جھوٹ ملائے ہیں، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ خیر اس میں انہوں نے یہ تو تسلیم کیا کہ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی تنقید نہیں کی اور انہیں فقیہ قرار دیے جانے کو بھی حقیقت پر محمول کیا یہاں تک کہ آپ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خود بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ وتر ایک بھی جائز ہے، مگر اس کے بعد مرزا صاحب کا سافٹ ویئر مزید اپ ڈیٹ ہوا، اور اب آپ اس بات سے بھی صاف انکار کرتے ہیں اور اس میں طرح طرح کے رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ ارشاد فرماتے ہیں:
”یہ اصل میں وہی بات انہوں نے کی جو ہم پنجابی میں کہتے ہیں جب کسی سے کوئی awkward کام ہوتا ہوا دیکھتے ہیں نا ہم، اسی کہنے وا: ”یار چھڈ دیو اینو آپ سیانا بیانا اے، اینو نی پتہ!“ یہ سیانا بیانا ہے یہ فقیہ ہے اور صحابی ہے، یعنی اس کو نہیں پتہ یہ کیا کام کر رہا ہے؟ یہ اصل میں ابن عباس نے کہا ہے……“
Mas’alah 157,part b – 19:28
اور ایک جگہ انجینئر صاحب عبداللہ بن عباس کے اس جواب کے بارے میں کہتے ہیں:
”اور یہ بھی حضرت ابن عباس نے تقیۃً بات کی تھی کیونکہ – طحاوی شریف – حنفیوں کی ”شرح معانی الآثار“ اس میں باقاعدہ امام طحاوی نے اس کونٹیکسٹ میں ایک اور روایت لی ہے جس میں ابن عباس کو جب بتایا جاتا ہے نا کہ وہ ایک وتر پڑھتے ہیں حضرت معاویہ، تو (ابن عباس) کہتے ہیں اس گدھے نے یہ کہاں سے طریقہ نکال لیا۔“
Hazrat Mouviya R.A Ki Koi Bhi Fazeelat Nhi Lakin ??? TRUTH Exposed By Engineer Muhammad Ali Mirza – 0:45
یہ جس روایت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے بالکل ضعیف ہے، جیسا کہ ہم دلائل سے یہ ثابت کرنے والے ہیں، کسی عام شخص کو بھی پتہ ہے کہ یہ بات صحیح بخاری کی واضح روایت کے خلاف ہے۔ خیر انجینئر صاحب اپنے ان بیانات کے دلائل دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
سوال: حضرت سعد بن ابی وقاص کا ایک وتر پڑھنا اگر ثابت ہے تو حضرت معاویہ پر طعن کیوں؟
آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”میرا کسی کے اوپر کوئی طعن نہیں نعوذ باللہ من ذالک! آپ بات کے مقدمے کو سمجھیں………… یہ بالکل ٹھیک ہے وہ ایک وتر پڑھتے تھے الموطا امام مالک میں موجود ہے کہ سعد ابن ابی وقاص عشاء کی پانچ رکعات پڑھا کرتے تھے چار فرض اور ایک وتر، تو صرف وتر کا مسئلہ نہیں وہ تو سنتیں بھی نہیں پڑھتے تھے تو کیا اب ہم لوگوں کو یہ ترغیب دلانا شروع کر دیں گے کہ سعد ابن ابی وقاص چونکہ پانچ رکعتیں پڑھتے تھے لہٰذا سنتیں پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں، خالی عشاء پڑھو اور ایک وتر پڑھ کر سائیڈ پر ہو جاؤ، نہیں! ہم تو نبی علیہ السلام کی سنت کے اوپر ترویج دلائیں گے نا وہ lowest level تھا،………… حضرت معاویہ پر ہم نے طعن نہیں کیا ہم یہ کہہ رہے تھے کہ ایک وتر پڑھنے پر [آپ جو ان کی فضیلت بتا رہے ہیں نا]، ایک وتر پڑھنا کوئی فضیلت نہیں سمجھا گیا صحابہ کے ہاں [بلکہ اسے معیوب سمجھا گیا ہے] صحیح بخاری میں محمد بن قاسم بن ابی بکر جو حضرت ابوبکر کے پوتے ہیں ان کا قول امام بخاری نے نقل کیا صحیح بخاری میں، وتر پر میرا مسئلہ 130 پر آپ دیکھ لیں انہوں نے کہا ”میں نے صحابہ کو تین وتر پر پایا [اور ایک میں بھی حرج نہیں ہے]“ لیکن صحابہ کا عمل تین ہے………… ہم یہ کہتے ہیں جو آپ فضیلت بتا رہے ہیں نا یہ ان کی فضیلت نہیں ہے بلکہ صحابہ کے ہاں اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا، اسی لیے تو بخاری میں آتا ہے نا کہ [لوگوں] نے آ کر ابن عباس کو شکایت کی کہ امیر المومنین معاویہ ابن ابی سفیان ایک وتر پڑھتے ہیں تو انہوں نے آگے سے کہا ان کو: اس کو چھوڑ دو وہ فقیہ ہے صحابی ہے، وہ کہتے ہیں یہ انہوں نے فضیلت بتائی ہے، فضیلت نہیں بتائی فضیلت پتہ ہے کیا بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تم کیوں طعن کر رہے ہو وہ تو سنت ہے، کیونکہ ابن عباس کی language یہی ہوا کرتی تھی………… یہاں پر بھی بخاری میں ہونا چاہیے تھا کہ جب ایک وتر کی شکایت حضرت معاویہ کی کی گئی تو ابن عباس کہتے کہ تیرا ستیا ناس ہو وہ تو ابو القاسم کی سنت ہے، سمجھ آئی بات کی؟ حضرت ابن عباس کی تو یہ عادت تھی، باقی آپ [حنفیوں کی ساری کتابیں] اٹھا کے دیکھ لیں، حنفی تو ہم سے بات ہی نا کریں ان کی تو فقہ کی کتابوں میں اس کی explanation موجود ہے کہ جو شرح معانی الآثار ہے امام طحاوی کی حدیث کی کتاب اس میں تو آگے الفاظ موجود ہیں امام طحاوی کہتے ہیں یہ جو بخاری میں یہ حدیث ہے نا یہ ابن عباس نے تقیہ کیا ہے انہوں نے کہا اصل روایت یہ ہے کہ جب ان کو آ کر بتایا گیا انہوں نے کہا کہ اس گدھے سے پوچھو اس نے ایک وتر کہاں سے نکال لیا؟ تو وہ تقیہ انہوں نے کیا یعنی [ابن عباس نے اسکو اچھا نہیں سمجھا] ہم ان کے اوپر طعن نہیں کرتے ہم کہتے ہیں کہ انکے اس عمل کو [صحابہ کرام اچھا نہیں سمجھتے تھے] ٹھیک ہوگیا نا، طعن کوئی نہیں آپ پڑھیں، ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ میں حدیث ہے ”وتر مسلمان پر اللہ کا حق ہے جس کی مرضی پانچ پڑھے جس کی مرضی تین پڑھے جس کی مرضی ایک پڑھے“ ٹھیک ہوگیا، اگرچہ اس کے اوپر حنفی تاویل بھی کرتے ہیں کہ ایک سے مراد یہ کہ باقی بھی ساتھ ملائیں البتہ کوئی اکیلا بھی پڑھ لیتا ہے تو جواز کی حد تک جائز ہے۔ [صحابہ کا اور نبی علیہ السلام کا عمل اس کو supportive نہیں ہے]“
Ilmi o tahqiqi majlis no.30 -2:00:06 (Open Q & A Session) with Engineer Muhammad Ali Mirza Bhai (30-Sep-2018)
جھوٹے اور دوغلے انسان کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی بات اپنی ہی دوسری باتوں سے نہیں ملتی، یہاں آپ کے سامنے ہے کہ پہلے مرزا صاحب کچھ کہا کرتے تھے مگر رفتہ رفتہ ان کے بیانات میں کافی تبدیلی آ رہی ہے، اور انکے ہر اعتراض کا جواب خود انہی کے دوسرے بیان میں موجود ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں فضیلت کو انکے خلاف ثابت کرنے کے لیے جو دلائل اور اعتراضات مرزا صاحب نے پیش کیے ہیں ان کا نچوڑ یہ ہے:
(1) ایک وتر پڑھنا خطرناک عمل ہے، صحابہ کرام نے انکے اس عمل پر شکایت کی اور اسے معیوب سمجھا (تو یہ فضیلت کیسے؟)
(2) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کی مذمت کی، اور جو بخاری میں فقیہ کے الفاظ ہیں وہ غیر حقیقت پر محمول ہیں اور یہ انہوں نے تقیہ کیا تھا۔ اور اس کی دلیل میں آپ نے دو باتیں کیں۔
اول: کہ طحاوی میں روایت ہے کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس متعلق بتایا گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ اس گدھے نے طریقہ کہاں سے نکال لیا۔
دوم: اس کی مزید تائید میں فرمایا کہ وہ واقعی انہوں نے تقیہ کیا تھا ورنہ اگر وہ عمل درست تھا تو کہتے کہ یہ تو سنت ہے اور اسے آپ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مزاج قرار دیا، تو جب انہوں نے ایسا نہیں کہا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فقیہ کا لفظ انہوں نے تقیہ کر کے کہا۔
(3) ایک وتر جواز کی حد تک جائز ہے تو اسے روٹین بنا لینا ٹھیک نہیں یہ ایک کم سے کم عمل ہے، پھر مرزا صاحب نے نوافل کی مثالیں دینا شروع کر دیں کہ دن رات میں اتنے نوافل………… اور انکی فضیلت وغیرہ وغیرہ تو اب اگرچہ وہ فرض نہیں مگر کوئی اس کو روٹین ہی بنا لے اور صرف فرض پڑھنے ہی پر اکتفا کرے تو یہ ٹھیک نہیں۔ (یہ باتیں ہم نے عبارت لکھتے وقت طوالت کی وجہ سے حذف کر دی ہیں کیوں کہ ان باتوں کا زیر بحث مسئلہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں)۔
(4) ایک وتر جائز ضرور ہے مگر صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسکو سپورٹ نہیں۔
جواباً عرض ہے کہ مرزا صاحب خود اس عمل کو بالکل جائز بتاتے آئے ہیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی اقرار کر چکے ہیں کہ انہوں نے اسے جائز قرار دیا اور پھر توجہ طلب بات یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اگر یہ عمل منقول ہے تو اس میں یہ نہیں کہ وہ ہمیشگی کے ساتھ ایسا کرتے تھے بلکہ یہاں تو بس ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب معاویہ نے ایک وتر پڑھا، تو اتنی سی بات مرزا صاحب کے تقریباً تمام اعتراضات کا جواب ہے کہ جب ایک عمل جواز کی حد تک جائز ہے اور یقیناً جائز ہے تو اگر کوئی اس پر کبھی عمل کر لیتا ہے تو کیا وہ غلط اور معیوب ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر اس عمل کے جائز ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اور ممکن ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی عذر رہا ہو جو انہوں نے اس رات صرف ایک وتر پڑھا، تو ان باتوں کو سامنے رکھنے سے یہی واضح ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو انہیں اس عمل کی وجہ سے فقیہ کہا تو اس سے مراد یہی ہے کہ انہوں نے جب ایک جواز پر ہی عمل کیا ہے نا، تو وہ شریعت کے احکام اچھی طرح جانتے ہیں کونسا عمل صحیح اور کونسا غلط اور اگر جو عمل صحیح ہے تو کس صورت میں اور کس قدر صحیح ہے وہ یہ سب تفصیلات جانتے ہیں، لہٰذا ان کے اس عمل کی وجہ سے ان پر کلام نا کیا جائے جیسا کہ ہم نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا قول بھی اس کے بیان میں نقل کیا تھا۔ تو جب صحیح بخاری کی روایت بالکل واضح اور محفوظ ہے تو بغیر کسی دلیل کے اس کا ظاہر سے ہٹ کر معنی بیان کرنا درست نہیں۔ اور پھر کہاں گیا اب امام بخاری کا استدلال اور حافظ ابن حجر کی شرح؟ اس سے قبل آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل جھٹلانے کے لیے انہی دو ناموں کا جھوٹا سہارا لیتے آئے ہیں، مگر یہاں تو یہ دونوں ایک بات پر واضح طور پر متفق ہیں اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کو ظاہر ہی پر قرار دے رہے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا۔ کیا اسے بھی آپ کی منصف مزاجی شمار کریں؟ بہر حال اب چلتے ہیں انجینئر صاحب کی ویڈیوز اور انکے دلائل کی طرف، تو:
پہلی ویڈیو میں مرزا صاحب کا بنیادی پوائنٹ یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو صحابہ نے معیوب سمجھا اور اسی وجہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسکی شکایت کی۔ لیکن یہ مرزا صاحب کا بہت بڑا جھوٹ ہے، روایت میں صرف اتنا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام نے انکا یہ فعل دیکھا اور اسکے متعلق جا کر عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا، نا تو اس میں [لوگوں] کا ذکر ہے اور نا ہی [صحابہ] کا جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری کی روایت میں دیکھا جا سکتا ہے، اور انکا غلام صحابی بالکل نہیں، اور اسے مرزا صاحب کی غلطی کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے کہ جب یہ جھوٹ انہوں نے اپنی کئی ویڈیوز میں بار بار صحیح بخاری کا نام لے کر بول رکھا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ ہم تو ہر حدیث حوالہ دے کر بیان کرتے ہیں، تو یہ آپکے سامنے ہے کہ حوالہ دے کر اس کے ساتھ ظلم کس طرح کیا جاتا ہے، پھر ظلم پر ظلم یہ کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمل اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس پر کوئی انکار نا کرنے بلکہ انکی تائید کرنے سے محدثین نے تو ایک وتر کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ آگے بیان ہوگا، مگر اسکے برعکس مرزا صاحب اسی اثر سے ایک وتر کے خطرناک اور معیوب عمل ہونے پر استدلال کر رہے ہیں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحابی کے ایسے عمل جسکی شریعت میں اجازت موجود ہے کی بنا پر اس غلام کے تعجب یا معیوب جاننے کو غلط کہا جائے، مگر یہاں اسکے تعجب کی بنیاد پر ایک جائز عمل کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے، سبحان اللہ! آخر کسی شخص کے کسی شرعی اور جائز عمل کے متعلق نا جاننا اور لاعلمی کی بنیاد پر اسکے متعلق سوال یا اعتراض کرنا اس جائز عمل کے خطرناک اور معیوب ہونے کی دلیل ہے؟
دوسری ویڈیو میں جو مرزا صاحب نے صحیح بخاری کی اس روایت کے ساتھ ظلم و ستم کیا ہے وہ انکی جہالت پر ایک واضح دلیل ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے صحابی کے اس واضح بیان اور وہ بھی کہ جو انہوں نے ایک صحابی رسول کے بارے میں دیا ہے کو تقیۃً قرار دینا اور اسے تشبیہ دینا کہ جیسے کوئی کہے کہ ”چھڈ دیو اینو، اینو آپ نئی پتہ کہ اے کی پیا کر دے، اے آپ سیانا بیانا اے“ اسکے رد میں کچھ نا بھی کہا جائے تو کوئی بھی اس بات کا فیصلہ با آسانی کر سکتا ہے کہ یہ روایت کی نہایت قبیح تاویل ہے، اور عبداللہ بن عباس کی مراد کے سو فیصد خلاف ہے، دیگر روایات میں مزید اضافہ موجود ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے عمل کو درست قرار دیا ہے۔ اور حضرت صاحب! پنجابی کا یہ جملہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے کہ جب کوئی غلط یا غیر مناسب اور ناجائز کام کر رہا ہو، نا کہ اس وقت کہ جب کوئی ایسا کام کر رہا ہو جو شریعت میں منع یا ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے اور صحابہ کرام کا اس پر عمل موجود ہو اور حدیث میں اسکی واضح رخصت موجود ہو جیسا کہ آپ نے خود حدیث ذکر فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے وتر پانچ پڑھے یا تین یا جو چاہے ایک پڑھے، تو تھوڑی سی بھی عقل رکھنے والا انسان یہ عمل کرنے والے انسان پر پنجابی کا یہ جملہ ہرگز فٹ نہیں کرے گا، ہاں مگر کوئی انجینئر ایسا کر سکتا ہے کیوں کہ یہ سب اسکی فیلڈ سے ہٹ کر ہے۔