لیلۃ القدر کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ . لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ. تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ . سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ.﴾
”یقیناً ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں نازل فرمایا، اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں ہر کام کے سر انجام دینے کو اللہ کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرئیل علیہ السلام) اُترتے ہیں، یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔“
(97-القدر:1۔ 5 )
﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ . فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ . أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ .﴾
”یقیناً ہم نے قرآن کو بابرکت رات میں اتارا ہے، بے شک ہم نے (اس کے ذریعے انسانوں کو) ڈرانا چاہا ہے۔ اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس سے حکم ہو کر، ہم ہی ہیں رسول بنا کر بھیجنے والے۔“
(44-الدخان:5۔3)
اللہ تعالیٰ نے اس رات کو برکتوں والی رات کا نام اس لیے دیا ہے کہ اس میں قرآنِ کریم نازل ہوا، جس میں دین و دنیا کی ہر بھلائی کی طرف بنی نوع انسان کی راہنمائی کی گئی ہے، جس کے ذریعے اللہ کی رحمت و برکت، عدل و ہدایت سارے عالم میں پھیل گئی اور جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند ترین رتبہ ملا، یہ وہ رات ہے جس میں فرشتوں اور روح الامین کا زمین پر نزول ہوتا ہے۔ اور جس میں اللہ تعالیٰ پورے سال میں وقوع پذیر ہونے والی حیات و موت، خیر و شر اور روزی میں کشادگی اور تنگی اور دیگر تمام مقدرات کو لکھتا ہے۔ اور اس قرآنِ کریم کے نزول کا مقصد جن و انس کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرانا تھا، تاکہ ایمان و عملِ صالح کی زندگی اختیار کر کے عذابِ نار سے بچیں، اور جنت کے حق دار بنیں۔
عن عائشة رضي الله عنها ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تحروا ليلة القدر فى الوتر من العشر الأواخر من رمضان .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب فضلِ لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم: 2017۔
عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله! أرأيت إن علمت أى ليلة ليلة القدر ما أقول فيها؟ قال: قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بتلائیے اگر مجھے علم ہو جائے کہ کون سی لیلۃ القدر ہے، تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ دعا پڑھو: اے اللہ، بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔“
سنن ترمذی، ابواب الذکر والدعاء، باب أی الدعاء افضل، رقم: 3513 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
عن أبى هريرة، رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کیا (اللہ کی عبادت کی) اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب من صام رمضان ایمانا واحتسابا، رقم: 1901۔ صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التراویح، رقم: 1778۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذ الشهر قد حضركم ، وفيه ليلة خير من ألف شهر، من حرمها فقد حرم الخير كله، ولا يحرم خيرها إلا محروم
یہ مہینہ جو تم پر آیا ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا اور لیلتہ القدر کی سعادت سے صرف بد نصیب ہی محروم رہتا ہے۔
سنن ابنِ ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی فضل شھر رمضان، رقم: 1644۔ صحیح الترغیب والترھیب، رقم: 989-990۔