مسلسل روزے رکھنے کی ممانعت، سحری کے اور روزہ رکھنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مسلسل روزے رکھنے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تواصلوا
”تم مسلسل (افطار کیے بغیر) روزے نہ رکھا کرو۔“
انہوں نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو مسلسل (افطار کیے بغیر) روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لست كأحد منكم إني أبيت أطعم وأسقى
”میں تم جیسا نہیں ہوں، میں رات بسر کرتا ہوں تو مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“
بخاری، کتاب الصوم 1961۔ ترمذی، کتاب الصوم 778۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیے بغیر روزے رکھنے سے منع فرمایا تو انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو افطار کیے بغیر روزے رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني لست كهيئتكم إني يطعمني ربي ويسقيني
”میں تمہاری طرح تو نہیں ہوں، کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔“
بخاري كتاب الصوم 1964۔ مسلم، كتاب الصيام 1105/61۔

سحری کے احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تسحروا فإن فى السحور بركة
”سحری کھایا کرو اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔“
بخاري، كتاب الصوم 1923۔ مسلم، كتاب الصيام 1095۔
② سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحور
”ہمارے روزوں اور اهل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانا ہے۔“
مسلم، کتاب الصيام 1096۔ ابوداؤد، كتاب الصوم 2343۔
③ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا:
هلم إلى الغداء المبارك
”مبارک کھانے کی طرف آؤ۔“
ابوداؤد، کتاب الصوم 2344۔ النسائي، کتاب الصيام 145/4۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں حارث بن زیادہ مجہول الحدیث ہے۔

روزہ رکھنے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل عمل ابن آدم يضاعف له الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف ، قال الله تعالى: إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به ، يدع شهوته وطعامه من أجلي ، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره ، وفرحة عند لقاء ربه ، ولخلوف فيه أطيب عند الله من ريح المسك
”ابن آدم کے ہر عمل کے اجر کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے، اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں ہی دوں گا، وہ (روزہ دار) اپنی شہوت اور اپنا کھانا میری خاطر چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی تب ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ اس کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی مہک سے زیادہ پسندیدہ اور زیادہ پاکیزہ ہے۔“
بخارى كتاب الصوم 1904۔ مسلم، کتاب الصيام 1151۔
② سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة بابا يقال له الريان يدخل منه الصائمون يوم القيامة ولا يدخل منه أحد غيرهم يقال: أين الصائمون؟ فيقومون لا يدخل منه أحد غيرهم فإذا دخلوا أغلق فلم يدخل منه أحد
”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن صرف روزہ دار اس سے داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی اور اس میں سے داخل نہیں ہوگا۔ پکارا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ پس وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور پھر کوئی اس سے داخل نہ ہوگا۔“
بخاری، کتاب الصوم 1896۔ مسلم، كتاب الصيام 1152۔
③ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی: مجھے کوئی حکم فرمائیں جو میں آپ سے حاصل کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليك بالصوم فإنه لا مثل له
”تم روزے کی پابندی کرو، اس لیے کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“
نسائی، کتاب الصيام 4 / 165۔ ابن خزیمه 1893۔ روایت صحیح ہے۔