کتاب الاستئذان
گھروں میں جاتے وقت اجازت طلب کرنا
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الإستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع
اجازت طلب کرنا تین مرتبہ ہے۔ اگر تمہیں اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس چلے آؤ۔
بخاری، کتاب الاستئذان، حدیث 6245، مسلم، کتاب الآداب، حدیث 37 / 2154.
② ربعی بن محراش بیان کرتے ہیں، بنو عامر کے ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر میں تشریف فرما تھے۔ اس شخص نے کہا: ”کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا:
أخرج إلى هذا فعلمه الإستئذان فقل له: قل السلام عليكم أأدخل
اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت طلب کرنے کا طریقہ بتاؤ، اسے کہو کہ وہ یوں کہے: ”السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“
اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: ”السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔
ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث 5177۔
③ سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پس جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے سلام نہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ارجع وقل السلام عليكم أأدخل
واپس جاؤ اور کہو: ”السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“
ابوداؤد، کتاب الاداب، حدیث 5176، ترمذی، کتاب الاستئذان والادب، حدیث 2710، مسند احمد 414/3۔
سوتے وقت آگ بجھانے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رات کے وقت مدینہ میں ایک گھر اہل خانہ سمیت جل گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذه النار عدو لكم فإذا نمتم فأطفئوها عنكم
یہ آگ تمہاری دشمن ہے، جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔
بخاری، کتاب الاستئذان 6294، مسلم، کتاب الاشربة 2016۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کھینچتی ہوئی لائی اور اسے کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی دھاری دار چٹائی، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، پر لا کر پھینک دیا۔ جس سے درہم کے برابر جگہ جل گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا نمتم فأطفئوا سرجكم فإن الشيطان يدل مثل هذه على هذا فتحرقكم
جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ گل کر دیا کرو، اس لیے کہ شیطان اس طرح کی چیزوں کو اس طرح کے کاموں کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو وہ تمہیں جلا دیتی ہیں۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5247۔
سوتے وقت دروازے بند کرنے کے احکامات
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أغلق بابك واذكر اسم الله فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا، وأطفئ مصباحك واذكر اسم الله، وأوك سقاءك واذكر اسم الله، وخمر إناءك ولو بعود تعرضه عليه واذكر اسم الله
بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرو اس لیے کہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا، اپنا چراغ بجھا دیا کرو اور اللہ کا نام لو، اپنے مشکیزے کا منہ باندھ کر رکھو اور اللہ کا ذکر کرو، اور اپنا برتن ڈھانپ کر رکھو خواہ اس پر لکڑی عرضاً رکھ دو اور اللہ کا ذکر کرو۔
بخاری، کتاب بدء الخلق 3280، مسلم، کتاب الاشربة 2012/96، ابو داؤد، کتاب الاشربة 3731۔
راز چھپانے کے متعلق احکامات
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا۔ میں نے اپنی والدہ کے پاس آنے میں تاخیر کی۔ جب میں آیا تو انہوں نے (والدہ نے) کہا: ”تم تاخیر سے کیوں آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تھا“۔ انہوں نے کہا: ”آپ کا کیا کام تھا؟“ میں نے کہا: ”وہ راز ہے“۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کے متعلق کسی سے بات نہ کرنا“۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اے ثابت! اگر میں کسی کو وہ راز بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔
مسلم، کتاب فضائل الصحابہ 145/2487، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 195/3۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک راز کی بات بتائی، وہ میں نے اپنی والدہ سمیت کسی کو نہیں بتائی۔
بخاری، کتاب الاستئذان 6289، مسلم، کتاب فضائل الصحابہ 146/2482۔