مضمون کے اہم نکات
سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (خواب میں) جعفر رضی اللہ عنہ کو فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتے دیکھا ہے۔“
سنن ترمذی كتاب المناقب، باب مناقب جعفر بن ابی طالب رضی الله عنه ، الله عنه ، رقم: 3763- سلسلة الصحيحة، رقم: 1226.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم سیرت اور صورت میں میرے مشابہ ہو۔“
صحیح بخاری ، کتاب الصلح باب كيف يكتب ، رقم: 3699 .
◈ مہمان نوازی:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مسکینوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر شخص جعفر بن ابو طالب تھے۔ وہ ہمیں لے جاتے تھے اور اپنے گھر میں کھانا کھلایا کرتے تھے حتی کہ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ وہ ہمارے پاس (گھی وغیرہ کی) کپی لایا کرتے تھے اس میں کوئی چیز نہیں ہوتی تھی پھر وہ اسے پھاڑ دیتے تھے اور ہم اسے چاٹ لیتے تھے۔
صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، رقم: 3708.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں۔“
سنن ترمذی ، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل رضی الله عنه ، ، رقم: 3790 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن جمع کیا، وہ سب انصاری تھے۔ سیدنا ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید (رضی اللہ عنہم) تھے۔
صحيح البخارى، كتاب مناقب الانصار، باب مناقب زید بن ثابت، رقم: 3810.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ بن جبل اچھے آدمی ہیں۔“
سنن ترمذی، رقم: 3795 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
◈ نصیحتیں:
عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا، مجھے کچھ سکھا دیں۔ تو فرمایا: تم میری بات مانو گے؟ اس نے کہا: ضرور مانوں گا۔ فرمایا: کبھی روزہ رکھا کرو، کبھی افطار کیا کرو۔ اور رات کو کچھ حصہ نماز پڑھا کرو اور کچھ سو جایا کرو۔ اور کمائی کرو اور گناہ نہ کرو۔ اور تم پوری کوشش کرو کہ تمہاری موت حالت اسلام میں آئے اور مظلوم کی بد دعا سے بچو۔“
حلية الأولياء: 233/1
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا البراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑا تحفہ میں دیا گیا، تو لوگ اس کی نرمی پر تعجب کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر تعجب کرتے ہو، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں۔“
صحيح البخارى، كتاب مناقب الانصار، باب مناقب سعد بن معاذ رضی الله عنه، رقم: 3802
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جب لوگوں کے سامنے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد کے لیے اللہ تعالیٰ کا عرش لرز گیا ہے۔“
صحيح البخاری، رقم: 3803.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہنے لگے: اس کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، یہ بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کی وجہ سے ہے۔ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔“
سنن الترمذي ، كتاب المناقب، باب مناقب سعد بن معاذ رضی الله عنه، رقم: 3849۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
◈ قطع علائق:
کوئی بھی انسان مال و دولت سے بے نیاز ہو سکتا ہے، استقامت اور عزم و استقلال سے کام لے تو مصائب کو بھی بآسانی گوارا کر سکتا ہے لیکن ماں باپ، بہن بھائی، اعزہ و اقارب اور اہل و عیال سے ناطہ نہیں توڑ سکتا۔ لیکن جب کوئی اپنا رشتہ صرف رب تعالیٰ سے جوڑے تو اس کو کبھی کبھی یہ رشتے توڑنے پڑ جاتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام لائے تو حالات نے ان کو اس رشتے کے توڑنے پر مجبور کیا اور ایمان و اسلام کے لیے انہوں نے آسانی کے ساتھ اس کو گوارا کر لیا۔ دیکھیں! اسیرانِ غزوہ بنو قریظہ گرفتار ہو کر آئے۔ ان میں بنو قریظہ کے لوگ بھی تھے جو قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور عرب میں حلیفوں میں بالکل برادرانہ تعلقات پیدا ہو جاتے تھے لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فیصلہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ پر رکھ دیا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے تو انہوں نے اس تعلق کی کچھ پروا نہ کی اور بے لاگ فیصلہ کر دیا کہ لڑنے والے قتل کر دیے جائیں، عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے اور ان کا مال و اسباب مسلمانوں پر تقسیم کر دیا جائے۔
صحیح بخاری ، کتاب المغازى ، رقم: 4121 .