صراط مستقیم اور گمراہ راستوں سے بچنے کی نبوی ہدایت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

ٹیڑھے راستوں سے ممانعت

❀ فرمان الہی ہے:
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‎﴿١٥٣﴾
”یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو۔“
(6-الأنعام:153)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ان راستوں کی نشان دہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا:
”خط لنا رسول الله خطا وخط خطوطا عن يمينه وشماله ثم قال هذا سبيل الله وهذه سبل على كل سبيل منها شيطان يدعو إليه“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبا خط کھینچا اور اس کے دائیں بائیں بہت سے خطوط کھینچے۔ پھر فرمایا: ”یہ سیدھا راستہ اللہ کا ہے اور یہ دوسرے راستے ہیں، ان راستوں میں سے ہر ایک پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف بلاتا ہے۔“
(مسند احمد 435/1، السنن الكبرى للنسائی 11174، سنن الدارمی 208)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ
”یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے۔“
(6-الانعام:153)
اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ہم نماز میں یہ دعاء کیا کریں:
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ‎﴿٦﴾‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎﴿٧﴾‏
(1-الفاتحة:6,7)
مغضوب اور ضالین کی تشریح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی:
”اليهود مغضوب عليهم والنصارى ضالون“
”مغضوب علیہم یہود ہیں اور ضالین نصاریٰ ہیں۔“
(سنن ترمذی کتاب تفسیر القرآن : باب ومن سورۃ فاتحۃ الکتاب حدیث : 2954)

صراط مستقیم واضح ہے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند روز پہلے دین اور صراط مستقیم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
”تركتكم على البيضاء النقية ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي الا هالك“
”میں تمہیں صاف ستھرے دین پر چھوڑ رہا ہوں جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ میرے بعد ہلاک ہونے والا ہی اس سے اعراض کرے گا۔“
سنن ابن ماجہ المقدمۃ باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المهدیین حدیث : 43
ایک دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ما تركت من شيء يقربكم من الجنة الا وقد حدثتكم به ولا من شيء يبعدكم عن النار الا وقد حدثتكم به“
”میں نے تمہیں ہر وہ کام بتا دیا ہے جو قرب جنت اور جہنم سے دوری کا ذریعہ بن سکتا تھا۔“
( شرح السنۃ للبغوی 13/303، شعب الایمان للبیہقی 10376)