مضمون کے اہم نکات
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (متوفی 196ھ) دوسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث، حافظِ حدیث اور فقیہ تھے۔ ان کے علمی مقام، حدیثی مہارت اور فقہی بصیرت کا اعتراف ائمہ محدثین نے کیا ہے۔ تاہم یہ سوال اہلِ علم کے ہاں زیرِ بحث رہا ہے کہ آیا امام وکیع رحمہ اللہ اپنے معاصر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (متوفی 150ھ) کے فقہی اقوال کی پیروی کرتے اور انہی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے یا ان کا اپنا مستقل فقہی منہج تھا؟ بعض تاریخی روایات میں امام وکیع رحمہ اللہ کے متعلق امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کا ذکر موجود ہے، جبکہ دوسری طرف ان کے متعدد فقہی و اعتقادی اقوال ایسے بھی منقول ہیں جو امام ابو حنیفہ سے منسوب آراء یا فقہ حنفی کے معروف موقف سے مختلف ہیں۔ زیرِ نظر مضمون کا مقصد ان دونوں طرح کی روایات کا جائزہ لینا، ائمہ کے اصل عربی اقوال کو اردو ترجمے اور کتابی حوالوں کے ساتھ پیش کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ امام وکیع رحمہ اللہ کا علمی و فقہی مقام کیا تھا۔ ان شواہد سے ان کے علمی استقلال اور متعدد مسائل میں اہلِ حدیث کے منہج کی پیروی کا پہلو سامنے آتا ہے، تاہم کسی ایک فقہی مسئلے میں موافقت یا اختلاف کو ان کی پوری علمی شخصیت کے متعلق قطعی فیصلہ قرار دینا درست نہیں۔
امام وکیع کے امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کی روایت کا جائزہ
① امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے منقول روایت
حافظ ابن عبدالبر قرطبی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے امام وکیع کے متعلق ایک قول نقل کیا ہے:
وَكِيعٌ … نَا حَكَمُ بْنُ مُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ نَا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ بِمَكَّةَ قَالَ نَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الأَعْرَابِيِّ قَالَ نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ وَكِيعٍ وَكَانَ يُفْتى برأى ابى حنيفَة
اردو ترجمہ:
عباس دوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے وکیع جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا، اور وہ ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔
الكتاب: الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء مالك والشافعي وأبي حنيفة رضي الله عنهم
المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر القرطبي (المتوفى: 463هـ)
وضاحت:
اس روایت میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی طرف امام وکیع کے علمی مقام کی تعریف اور امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کی نسبت موجود ہے۔
تاہم اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ امام وکیع ہر مسئلے میں امام ابو حنیفہ کے مقلد تھے، ضروری نہیں۔ کسی امام کے متعدد اقوال پر فتویٰ دینا اور اس کے تمام اجتہادات کی پابندی اختیار کرنا دو الگ باتیں ہیں۔
② حکم بن منذر کے متعلق حافظ ابن حزم کا بیان
مذکورہ روایت کی ایک سند میں حکم بن منذر بن سعید کا نام آتا ہے۔
حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ (متوفی 456ھ) نے حکم بن منذر کے متعلق لکھا:
وكان في جملة من حضر أخوه حكم بن منذر …
فأنا أدركت سعيداً هذا …، وحكم المذكور أخوه هو رأس المعتزلة بالأندلس وكبيرهم وأستاذهم ومتكلمهم وناسكهم، وهو مع ذلك شاعر طيب وفقيه. وكان أخوه عبد الملك بن منذر متهماً بهذا المذهب أيضاً،
اردو ترجمہ:
ان لوگوں میں اس کا بھائی حکم بن منذر بھی موجود تھا۔
میں نے اس سعید کو خود پایا ہے۔ اس کا مذکورہ بھائی حکم بن منذر اندلس میں معتزلہ کا سربراہ، ان کا بڑا عالم، استاد، متکلم اور عبادت گزار تھا۔ اس کے ساتھ وہ عمدہ شاعر اور فقیہ بھی تھا۔ اس کے بھائی عبدالملک بن منذر پر بھی اسی مذہب سے تعلق رکھنے کا الزام تھا۔
الكتاب: رسائل ابن حزم الأندلسي
المؤلف: أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (المتوفى: 456هـ)
وضاحت:
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے حکم بن منذر کے اعتزالی مسلک سے تعلق کی صراحت کی ہے۔ تاہم کسی راوی کا معتزلی یا کسی دوسرے کلامی مکتب سے تعلق رکھنا بذاتِ خود اس کے جھوٹا یا روایت گھڑنے والا ہونے کی دلیل نہیں۔
لہٰذا حکم بن منذر کی روایت کا فیصلہ اس کے ضبط، صدق، اتصالِ سند اور دیگر اصولِ روایت کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔ محض مسلکی نسبت کی بنیاد پر روایت کو من گھڑت قرار دینا کافی نہیں۔
③ تاریخ بغداد میں امام وکیع کے متعلق روایت
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے بھی امام یحییٰ بن معین سے امام وکیع کے متعلق ایک روایت نقل کی ہے:
أجاز لنا إبراهيم ابن مخلد، قَالَ: أَخْبَرَنَا مكرم بن أَحْمَد الْقَاضِي، ثم قَالَ: أَخْبَرَنَا الصيمري، قراءة قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَر بن إبراهيم المقرئ، قَالَ: حَدَّثَنَا مكرم، قَالَ: أَخْبَرَنَا علي بن الحسين بن حبان، عن أبيه، قال: سمعت يحيى بن معين، قال: …، ويفتي بقول أبي حنيفة،
اردو ترجمہ:
علی بن حسین بن حبان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو امام وکیع کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ وہ امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔
الكتاب: تاريخ بغداد
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
وضاحت:
یہ روایت بھی امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے منسوب ہے۔ تاہم اس کی سند میں حسین بن حبان اور ان کے صاحبزادے علی بن حسین کی روایت کا طریقہ قابلِ تحقیق ہے۔
اس حوالے سے اصل سوال یہ ہے کہ حسین بن حبان کی علمی حیثیت کیا تھی اور ان سے روایت کس طریقے سے منتقل ہوئی؟
④ حسین بن حبان کا تعارف اور روایت بالوجادہ
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ حسین بن حبان کے متعلق لکھتے ہیں:
4040- الْحُسَيْن بن حبان بن عمار بن الحكم بن عمار بن واقد أَبُو عَلِيّ صاحب يَحْيَى بن معين كَانَ من أهل الفضل، والتقدم فِي العلم، وله عَنْ يَحْيَى كتاب غزير الفائدة.
روى ابنه عَلِيّ بن الْحُسَيْن ذلك الكتاب عَنْ أَبِيهِ وجادة.
والحسين بن حبان قديم الموت توفي فيما ذكر ابنه سنة اثنتين وثلاثين ومائتين بالعسيلة، وهو ذاهب إِلَى الحج، وذلك قبل وفاة يَحْيَى بن معين بسنة.
اردو ترجمہ:
حسین بن حبان بن عمار، ابو علی، امام یحییٰ بن معین کے شاگرد تھے۔ وہ اہلِ فضل اور علم میں نمایاں مقام رکھنے والوں میں سے تھے۔ ان کے پاس امام یحییٰ بن معین سے متعلق ایک نہایت مفید اور علمی فوائد سے بھرپور کتاب موجود تھی۔
ان کے بیٹے علی بن حسین نے یہ کتاب اپنے والد سے وجادہ کے طریقے پر روایت کی۔
حسین بن حبان کی وفات، ان کے بیٹے کے بیان کے مطابق، 232ھ میں اس وقت ہوئی جب وہ حج کے لیے جا رہے تھے۔ یہ امام یحییٰ بن معین کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے۔
الكتاب: تاريخ بغداد
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
رقم الترجمة: 4040
وضاحت:
اس عبارت میں دو باتیں خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔
اول یہ کہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے حسین بن حبان کو اہلِ فضل اور علم میں ممتاز قرار دیا ہے۔
دوم یہ کہ ان کے صاحبزادے نے والد کی کتاب کو «وجادہ» کے طریقے پر روایت کیا، یعنی تحریری نسخے سے روایت نقل کی۔
یہ طریقہ براہِ راست سماع سے مختلف ہے اور روایت کی قبولیت کے لیے اس کی مزید تحقیق ضروری ہوتی ہے۔
تاہم صرف اس عبارت سے حسین بن حبان کے مجہول العین ہونے یا ان کی تمام روایات کے ناقابلِ اعتبار ہونے کا قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
⑤ مجہول العین کے متعلق اصولِ محدثین
ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (متوفی 1014ھ) نے مجہول العین راوی کے متعلق لکھا:
( [مَجْهُول الْعين] )
(فَإِن سمي الرَّاوِي) أَي وَوَثَّقَهُ،
(وانفراد راو وَاحِد بالرواية عَنهُ، فَهُوَ مَجْهُول [124 – ب] الْعين)
اردو ترجمہ:
اگر کسی راوی کا نام معلوم ہو، لیکن اس سے روایت کرنے والا صرف ایک شخص ہو تو وہ مجہول العین کہلاتا ہے، بشرطیکہ اس کی معتبر توثیق سے جہالت دور نہ ہوئی ہو۔
الكتاب: شرح نخبة الفكر في مصطلحات أهل الأثر
المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ)
اسی مقام پر خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا یہ اصول بھی نقل کیا گیا ہے:
قَالَ الْخَطِيب: وَأَقل مَا يرفع الْجَهَالَة أَن يروي [عَن الرجل] اثْنَان [فَصَاعِدا] من الْمَشْهُورين بِالْعلمِ.
اردو ترجمہ:
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: راوی کی جہالت دور کرنے کے لیے کم از کم یہ ہے کہ اس سے دو یا زیادہ ایسے اشخاص روایت کریں جو علم میں معروف ہوں۔
الكتاب: شرح نخبة الفكر في مصطلحات أهل الأثر
المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ)
وضاحت:
ان اقوال میں مجہول العین راوی کی شناخت اور اس کی جہالت دور ہونے کا اصول بیان کیا گیا ہے۔
تاہم کسی مخصوص راوی پر یہ حکم نافذ کرنے کے لیے اس کے تمام تلامذہ، معتبر توثیقات اور محدثین کے مجموعی اقوال کا جائزہ ضروری ہے۔
⑥ اہلِ فضل ہونا اور روایت کی صحت کا فرق
امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ (متوفی 321ھ) نے ایک راوی کے متعلق فرمایا:
… وَهُوَ أَيْضًا وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْفَضْلِ فَإِنَّ رِوَايَتَهُ لَيْسَتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَسَانِيدِ الْقَوِيَّةِ ,
اردو ترجمہ:
اگرچہ وہ اہلِ فضل میں سے ہے، لیکن علمِ اسناد کے ماہرین کے نزدیک اس کی روایات قوی شمار نہیں ہوتیں۔
الكتاب: شرح مشكل الآثار
المؤلف: أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ)
وضاحت:
امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول سے ایک اصولی بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی راوی کا صاحبِ فضل ہونا اور اس کا روایت میں مضبوط ہونا دو الگ اوصاف ہیں۔
اسی لیے کسی راوی کی دینداری یا علمی فضیلت کا ذکر اس کی تمام روایات کی صحت کا لازمی ثبوت نہیں، بلکہ محدثین اس کے حفظ، ضبط اور روایت کے طریقے کو بھی دیکھتے ہیں۔
امام وکیع کے امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کی روایت کے متعلق محدثین کی توضیحات
⑦ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا بیان
حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ (متوفی 748ھ) نے امام وکیع کے حالات میں امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کا ذکر بھی نقل کیا ہے۔
اسی مقام پر انہوں نے ان کے متعلق ایک دوسرے مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
ويفتي بقول أبي حنيفة … قلت: ما فيه إلا شربه لنبيذ الكوفيين وملازمته له جاء ذلك من غير وجه عنه.
اردو ترجمہ:
اور وہ ابو حنیفہ کے قول کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔
میں (ذہبی) کہتا ہوں: ان کے بارے میں کوفہ کی نبیذ پینے اور اس کے استعمال کو معمول بنانے کے علاوہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ملتی، اور نبیذ پینے کا یہ عمل ان سے متعدد سندوں سے منقول ہے۔
الكتاب: تذكرة الحفاظ
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
وضاحت:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام وکیع کے متعلق نبیذ کے استعمال کا ذکر کیا ہے۔ تاہم محض ان کے اس تبصرے سے یہ قطعی نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ امام وکیع کے امام ابو حنیفہ کی رائے پر فتویٰ دینے کی تمام روایات صرف نبیذ کے مسئلے تک محدود تھیں۔
اس تحدید کے لیے مزید دلیل درکار ہے۔
⑧ حافظ مبارکپوری رحمہ اللہ کی توضیح
حافظ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (متوفی 1353ھ) نے مذکورہ قول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:
قُلْتُ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ وَيُفْتِي بِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ هُوَ الْإِفْتَاءُ بِجَوَازِ شُرْبِ نَبِيذِ الْكُوفِيِّينَ فَإِنَّ وَكِيعًا كَانَ يَشْرَبُهُ وَيُفْتِي بِجَوَازِهِ عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ
اردو ترجمہ:
میں کہتا ہوں: اس قول سے کہ امام وکیع ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے، مراد اہلِ کوفہ کی نبیذ پینے کے جواز کا فتویٰ ہے، کیونکہ امام وکیع اسے پیتے تھے اور امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے تھے۔
الكتاب: تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي
المؤلف: أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفوري (المتوفى: 1353هـ)
وضاحت:
حافظ مبارکپوری رحمہ اللہ نے مذکورہ نسبت کی ایک خاص توجیہ بیان کی ہے کہ اس کا تعلق نبیذ کے مسئلے سے تھا۔
یہ ان کی علمی توضیح ہے، تاہم اسے اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ امام وکیع نے دوسرے کسی مسئلے میں امام ابو حنیفہ کی موافقت نہیں کی۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر امام وکیع کے متعلق لکھا:
وَمَعَ هَذَا فَكَانَ مُلاَزِماً لِشُرْبِ نَبِيذِ الكُوْفَةِ الَّذِي يُسكِرُ الإِكثَارُ مِنْهُ، فَكَانَ مُتَأَوِّلاً فِي شُرْبِهِ، وَلَوْ تَرَكَهُ تَوَرُّعاً، لَكَانَ أَوْلَى بِهِ
اردو ترجمہ:
اس کے باوجود امام وکیع کوفہ کی ایسی نبیذ پینے کے عادی تھے جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دیتی تھی۔ وہ اس کے استعمال میں ایک فقہی تاویل رکھتے تھے، لیکن اگر احتیاطاً اسے چھوڑ دیتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔
الكتاب: سير أعلام النبلاء
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
وضاحت:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام وکیع کے علمی مقام کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اس عمل پر نقد کیا ہے۔ یہ محدثین کے اس معروف منہج کی مثال ہے کہ کسی بڑے امام کے علم و فضل کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی اجتہادی لغزش پر بھی علمی نقد کیا جا سکتا ہے۔
امام وکیع بن الجراح اور امام ابو حنیفہ کے درمیان فقہی و اعتقادی اختلافات
مندرجہ ذیل آثار سے واضح ہوتا ہے کہ امام وکیع رحمہ اللہ متعدد مسائل میں اپنی مستقل رائے رکھتے تھے اور بعض مقامات پر ان کی رائے امام ابو حنیفہ یا فقہ حنفی کے معروف موقف سے مختلف تھی۔
① ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کا مسئلہ
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے ایمان کے متعلق فرمایا:
1187 – حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: «الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ: وَكَذَا كَانَ سُفْيَانُ يَقُولُ»
اردو ترجمہ:
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایمان بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے، اور امام سفیان ثوری رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
الكتاب: السنة
المؤلف: أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ)
رقم الأثر: 1187
دوسری طرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب کتاب «الفقه الأكبر» میں لکھا ہے:
تَعْرِيف الْإِيمَان
وَالْإِيمَان هُوَ الْإِقْرَار والتصديق وإيمان أهل السَّمَاء وَالْأَرْض لَا يزِيد وَلَا ينقص
اردو ترجمہ:
ایمان اقرار اور تصدیق کا نام ہے، اور آسمان و زمین والوں کا ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے۔
الكتاب: الفقه الأكبر
المؤلف: منسوب إلى أبي حنيفة النعمان بن ثابت (المتوفى: 150هـ)
مطبوع مع الشرح الميسر على الفقهين الأبسط والأكبر المنسوبين لأبي حنيفة، تأليف محمد بن عبد الرحمن الخميس
وضاحت:
ان دونوں عبارات میں ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کے متعلق واضح لفظی اختلاف موجود ہے۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے ایمان میں زیادتی و کمی کی صراحت کی، جبکہ منسوبہ کتاب «الفقه الأكبر» میں اس کی نفی موجود ہے۔
البتہ اس کتاب کی نسبت اور ایمان کی تعریف میں مختلف مکاتب کے اصطلاحی فرق کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
امام وکیع رحمہ اللہ کا ایک دوسرا قول بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔
امام لالکائی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:
1837 – أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا عُثْمَانُ، قَالَ: نا حَنْبَلٌ، قَالَ: نا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: «أَهْلُ السُّنَّةِ يَقُولُونَ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، وَالْمُرْجِئَةُ تَقُولُ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ بِلَا عَمَلٍ، وَالْجَهْمِيَّةُ يَقُولُونَ: الْإِيمَانُ الْمَعْرِفَةُ»
اردو ترجمہ:
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہلِ سنت کہتے ہیں کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے، جبکہ مرجئہ کہتے ہیں کہ ایمان صرف قول کا نام ہے، عمل اس کا حصہ نہیں۔ اور جہمیہ کہتے ہیں کہ ایمان صرف معرفت، یعنی پہچان، کا نام ہے۔
الكتاب: شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة
المؤلف: أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)
رقم الأثر: 1837
وضاحت:
امام وکیع رحمہ اللہ کا یہ قول عقیدۂ ایمان کے متعلق ان کے منہج کو واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک ایمان محض زبانی اقرار یا قلبی معرفت کا نام نہیں، بلکہ قول اور عمل دونوں اس میں شامل ہیں۔
② قربانی کے جانور کو اشعار کرنے کا مسئلہ
اشعار سے مراد حج کی قربانی کے جانور، خصوصاً اونٹ، کو مخصوص طریقے سے نشان زد کرنا ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ جانور قربانی کے لیے مقرر ہے۔
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے اشعار کے متعلق فرمایا:
سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عِيسَى يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْيِ فِي هَذَا، فَإِنَّ الإِشْعَارَ سُنَّةٌ، وَقَوْلُهُمْ بِدْعَةٌ»
اردو ترجمہ:
یوسف بن عیسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام وکیع رحمہ اللہ کو یہ حدیث روایت کرتے وقت فرماتے ہوئے سنا: اس مسئلے میں اہلِ رائے کے قول کی طرف توجہ نہ دو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور اس کے خلاف ان کا قول بدعت ہے۔
الكتاب: سنن الترمذي
المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ)
رقم الحديث: 906
دوسری طرف امام سرخسی حنفی رحمہ اللہ (متوفی 483ھ) نے امام ابو حنیفہ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھا:
وَأَبُو حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى – يَقُولُ مَعْنَى الْإِعْلَامِ بِالتَّقْلِيدِ يَحْصُلُ وَهُوَ لِإِكْرَامِ الْبَدَنَةِ، وَلَيْسَ فِي الْإِشْعَارِ مَعْنَى الْإِكْرَامِ بَلْ ذَلِكَ يُؤْذِي الْبَدَنَةَ، وَلِأَنَّ التَّجْلِيلَ مَنْدُوبٌ إلَيْهِ، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْدُوبًا لِدَفْعِ أَذَى الذُّبَابِ عَنْ الْبَدَنَةِ،
وَالْإِشْعَارُ مِنْ جَوَالِبِ الذُّبَابِ فَلِهَذَا كَرِهَهُ أَبُو حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى –
اردو ترجمہ:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے جانور کو قلادہ پہنانے سے اس کے نشان زد ہونے کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے، اور اس میں جانور کی تکریم بھی ہے۔ جبکہ اشعار میں تکریم کا کوئی پہلو نہیں، بلکہ اس سے جانور کو تکلیف پہنچتی ہے۔
اسی طرح جانور کو کپڑا اوڑھانا مستحب ہے، کیونکہ اس سے مکھیاں وغیرہ اس کو تکلیف نہیں پہنچاتیں، جبکہ اشعار مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اشعار کو مکروہ قرار دیا ہے۔
الكتاب: المبسوط
المؤلف: محمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى: 483هـ)
وضاحت:
یہ امام وکیع اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ کے درمیان ایک واضح فقہی اختلاف ہے۔
امام وکیع اشعار کو سنت قرار دیتے ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ سے اس کی کراہت منقول ہے۔
اس اختلاف میں دونوں حضرات کے استدلال کا زاویہ مختلف ہے، لیکن امام وکیع کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلے میں اپنے نزدیک ثابت حدیث کو بنیادی دلیل قرار دیتے تھے۔
③ صف کے پیچھے اکیلے نمازی کی نماز کا مسئلہ
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ سے منقول ہے:
سَمِعْت الجَارُودَ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: «إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ يُعِيدُ»
اردو ترجمہ:
جارود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام وکیع رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر کوئی شخص صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے تو اسے نماز دوبارہ ادا کرنی ہوگی۔
الكتاب: سنن الترمذي
المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ)
دوسری طرف فقہ حنفی کی مشہور کتاب «الفتاوى الهندية» میں ہے:
وَكَذَا لِلْمُقْتَدِي أَنْ يَقُومَ خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ إذَا وَجَدَ فُرْجَةً فِي الصُّفُوفِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فُرْجَةً فِي الصُّفُوفِ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ وَحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى – أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ
اردو ترجمہ:
مقتدی کے صفوں کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے کی صورت بھی زیرِ بحث ہے۔ اگر صفوں میں جگہ موجود ہو تو اس کا الگ حکم ہے، لیکن جب صف میں کوئی خالی جگہ نہ ہو تو محمد بن شجاع اور حسن بن زیاد نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ ایسی صورت میں اکیلے کھڑے ہونا مکروہ نہیں۔
الكتاب: الفتاوى الهندية
المؤلف: لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي
وضاحت:
امام وکیع رحمہ اللہ سے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کی صورت میں اعادہ کا قول منقول ہے، جبکہ فقہ حنفی میں اس مسئلے کی مختلف صورتوں اور صف میں جگہ موجود ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے تفصیل ملتی ہے۔
اس سے دونوں کے درمیان فقہی حکم میں اختلاف سامنے آتا ہے۔
④ قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے کا مسئلہ
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ سے خلقِ قرآن کے عقیدے کی سخت تردید منقول ہے۔
امام آجری رحمہ اللہ نے نقل کیا:
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: أنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَهُوَ كَافِرٌ
اردو ترجمہ:
وہب بن بقیہ واسطی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام وکیع رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے، وہ کافر ہے۔
الكتاب: الشريعة
المؤلف: أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ)
وضاحت:
اس اثر سے امام وکیع رحمہ اللہ کا خلقِ قرآن کے عقیدے کے متعلق سخت موقف سامنے آتا ہے۔ یہ ان کا منقول اعتقادی حکم ہے، نہ کہ کسی مخصوص شخص کے بارے میں مستقل عدالتی یا شرعی فیصلہ۔
دوسری طرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق ایک روایت میں مختلف نسبت موجود ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ (متوفی 354ھ) نے نقل کیا:
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيّ
قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَالَ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ أَبُو حَنِيفَةَ يُرِيدُ بِالْكُوفَةِ
اردو ترجمہ:
حسن بن ابی مالک، قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کوفہ میں سب سے پہلے قرآن کو مخلوق کہنے والے ابو حنیفہ تھے۔
الكتاب: المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين
المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ التميمي البستي (المتوفى: 354هـ)
وضاحت:
یہ نسبت امام ابن حبان کی کتاب میں موجود ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف خلقِ قرآن کا عقیدہ منسوب کرنا اہلِ علم کے ہاں اختلافی اور تحقیقی مسئلہ ہے۔
اس کے برخلاف امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے منقول ہے:
والله ما مات أبو حنيفة وهو يقول بخلق القرآن ولا يدين الله به
اردو ترجمہ:
اللہ کی قسم! ابو حنیفہ کی وفات اس حال میں نہیں ہوئی کہ وہ قرآن کو مخلوق کہتے ہوں یا اس عقیدے کو اپنا دین سمجھتے ہوں۔
الكتاب: شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة
المؤلف: أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)
اسی طرح امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا ایک اور بیان بھی منقول ہے:
ذكر جهم في مجلس أبي حنيفة فقال ما يقول قالوا يقول القرآن مخلوق فقال كبرت كلمة تخرج من أفواههم إن يقولون إلا كذبا (الكهف: 5)
اردو ترجمہ:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجلس میں جہم کا ذکر ہوا تو انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ قرآن کو مخلوق کہتا ہے۔ اس پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کتنی بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کہتے ہیں۔
الكتاب: شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة
المؤلف: أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)
وضاحت:
ان متعارض تاریخی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف خلقِ قرآن کے عقیدے کی نسبت پر مستقل اسنادی تحقیق ضروری ہے۔
چنانچہ امام وکیع رحمہ اللہ کے خلقِ قرآن کی تردید کرنے کو بذاتِ خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ثابت شدہ اعتقادی اختلاف کی قطعی دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب قول کی صحت متعین نہ ہو۔
⑤ تارکِ نماز کے حکم میں اختلاف
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ سے تارکِ نماز کے متعلق ایک سخت فقہی قول منقول ہے۔
امام خلال رحمہ اللہ نے نقل کیا:
1383 – أَخْبَرَنَا أبو بكر المروذي، قَالَ: سئل أبو عبد الله عمن ترك الصلاة؟ قَالَ: يستتاب.
قَالَ: وسمعت أبا شبرمة يقول لأبي عبد الله: سمعت وكيعا يقول فِي تارك الصلاة: يستتاب؛ فإن تاب، وإلا قتل.
اردو ترجمہ:
ابو بکر مروذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نماز چھوڑنے والے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس سے توبہ طلب کی جائے گی۔
پھر نقل کیا گیا کہ امام وکیع رحمہ اللہ تارکِ نماز کے متعلق فرماتے تھے: اس سے توبہ طلب کی جائے، اگر وہ توبہ کر لے تو بہتر، ورنہ اسے قتل کیا جائے۔
الكتاب: أحكام أهل الملل والردة من الجامع لمسائل الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ)
رقم الأثر: 1383
وضاحت:
یہ امام وکیع رحمہ اللہ سے منقول ایک تاریخی فقہی موقف ہے۔ ایسے احکام فقہی کتابوں میں ریاستی عدالتی اختیار کے تناظر میں زیرِ بحث آتے ہیں اور انہیں کسی فرد کے لیے سزا نافذ کرنے کی اجازت نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسری طرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس طرح نقل کیا ہے:
2073 – فِي تَارِك الصَّلَاة عَامِدًا
قَالَ أَبُو حنيفَة وَأَصْحَابه من ترك من الْمُسلمين الصَّلَاة على غير جحودها لم يكن بذلك مُرْتَدا وَكَانَ مأخوذا بهَا حَتَّى يُصليهَا
وَقَالَ بعض حفاظ قَول مَالك إِن من مَذْهَب مَالك أَن من ترك صَلَاة مُتَعَمدا لغير عذر حَتَّى خرج وَقتهَا فَهُوَ مُرْتَد وَيقتل إِلَّا أَن يُصليهَا وَهُوَ قَول الشَّافِعِي
اردو ترجمہ:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک اگر کوئی مسلمان نماز کی فرضیت کا انکار کیے بغیر اسے ترک کر دے تو محض اس عمل سے وہ مرتد نہیں ہوتا، البتہ اسے نماز ادا کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
اور بعض حفاظ نے امام مالک رحمہ اللہ کا یہ موقف نقل کیا ہے کہ جو شخص بلا عذر جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے، وہ مرتد شمار ہوگا اور نماز ادا کرنے تک اس پر سخت شرعی حکم عائد ہوگا۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی اس نوعیت کا فقہی حکم منقول ہے۔
الكتاب: مختصر اختلاف العلماء
المؤلف: أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ)
رقم المسألة: 2073
وضاحت:
اس مسئلے میں امام وکیع اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ کے فقہی احکام میں اختلاف سامنے آتا ہے۔
تاہم تارکِ نماز کے قتل، ارتداد اور تعزیری سزا کے باہمی فرق کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ کسی فقیہ کا تارکِ نماز پر سخت سزا کا قائل ہونا لازماً اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ وہ اسے ہر صورت کافر سمجھتا ہے۔
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اس باب میں مرجئہ کے ایک قول کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
أَئِمَّةِ (أَهْلِ) السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فِي تَارِكِ الصَّلَاةِ فَأَمَّا أَهْلُ الْبِدَعِ فَإِنَّ الْمُرْجِئَةَ قَالَتْ تارك الصلاة مؤمن مُسْتَكْمِلُ الْإِيمَانِ إِذَا كَانَ مُقِرًّا غَيْرَ جَاحِدٍ وَمُصَدِّقًا غَيْرَ مُسْتَكْبِرٍ وَحُكِيَتْ هَذِهِ الْمَقَالَةُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَسَائِرِ الْمُرْجِئَةِ وَهُوَ قَوْلُ جَهْمٍ
اردو ترجمہ:
اہلِ بدعت میں سے مرجئہ کا کہنا ہے کہ نماز ترک کرنے والا شخص کامل ایمان کا حامل مومن ہے، بشرطیکہ وہ نماز کی فرضیت کو تسلیم کرتا ہو، اس کا انکار نہ کرتا ہو، تصدیق کرنے والا ہو اور تکبر کی بنا پر اسے رد نہ کرتا ہو۔
یہ قول امام ابو حنیفہ اور دیگر مرجئہ سے بھی حکایت کیا گیا ہے، اور یہی قول جہم سے بھی منقول ہے۔
الكتاب: التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد
المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر القرطبي (المتوفى: 463هـ)
وضاحت:
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے الفاظ «وَحُكِيَتْ هَذِهِ الْمَقَالَةُ» قابلِ توجہ ہیں، جن کا مطلب ہے کہ یہ قول منسوب یا حکایت کیا گیا ہے۔
اس لیے اس عبارت کی بنیاد پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ہر قسم کی مرجئی تعبیر کو بلا تحقیق قطعی طور پر منسوب کرنا درست نہیں۔
⑥ حدیث کو رائے کے تابع بنانے کی ممانعت
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے حدیث کے متعلق ایک نہایت اہم اصول بیان فرمایا:
سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَلَّامٍ الْبَيَكِنْدِيَّ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ مَنْ طَلَبَ الْحَدِيثَ كَمَا جَاءَ فَهُوَ صَاحِبُ سُنَّةٍ وَمَنْ طَلَبَهُ لِيُقَوِّيَ بِهِ رَأْيَهُ فَهُوَ صَاحِبُ بِدْعَةٍ
اردو ترجمہ:
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص حدیث کو اسی طرح حاصل کرتا ہے جس طرح وہ وارد ہوئی ہے، وہ صاحبِ سنت ہے، اور جو شخص حدیث کو صرف اس لیے تلاش کرتا ہے کہ اس کے ذریعے اپنی رائے کو مضبوط کرے، وہ صاحبِ بدعت ہے۔
الكتاب: ذم الكلام وأهله
المؤلف: أبو إسماعيل عبد الله بن محمد بن علي الأنصاري الهروي (المتوفى: 481هـ)
وضاحت:
امام وکیع رحمہ اللہ کے اس قول میں علمِ حدیث کے متعلق ان کا اصولی منہج سامنے آتا ہے۔
ان کے نزدیک حدیث کو اپنی پہلے سے قائم کردہ رائے کی تائید کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسے اصل دلیل سمجھنا چاہیے۔
البتہ یہ قول کسی ایک مخصوص فقیہ کی تردید کے بجائے اصولی نوعیت رکھتا ہے اور اس کی تعلیم تمام اہلِ علم کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
⑦ قرآن مجید کے نسخوں کی خرید و فروخت کا مسئلہ
امام وکیع رحمہ اللہ سے مصاحف کی خرید و فروخت کے متعلق بھی ایک فقہی قول منقول ہے۔
امام ابن ابی داود رحمہ اللہ نے روایت کیا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ وَشُرَيْحًا عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ، فَقَالُوا: «لَا نَأْخُذُ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ثَمَنًا» قَالَ وَكِيعٌ: «لَا يُعْجِبُنَا بَيْعُهَا»
اردو ترجمہ:
ابو الضحیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسروق، عبداللہ بن زید اور شریح رحمہم اللہ سے قرآن مجید کے نسخوں کی خرید و فروخت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی قیمت وصول نہیں کرتے۔
امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیں ان کی خرید و فروخت پسند نہیں۔
الكتاب: كتاب المصاحف
المؤلف: أبو بكر بن أبي داود، عبد الله بن سليمان بن الأشعث الأزدي السجستاني (المتوفى: 316هـ)
دوسری طرف امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے لکھا:
1166 – فِي بيع الْمَصَاحِف
قَالَ أَصْحَابنَا وَمَالك وَالثَّوْري لَا بَأْس بِبيع الْمَصَاحِف وشرائها
اردو ترجمہ:
ہمارے اصحاب، امام مالک اور امام سفیان ثوری رحمہم اللہ کے نزدیک قرآن مجید کے نسخوں کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں۔
الكتاب: مختصر اختلاف العلماء
المؤلف: أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ)
رقم المسألة: 1166
امام طحاوی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو جَعْفَر كَمَا جَازَ بيع الدَّرَاهِم وَالدَّنَانِير الَّتِي عَلَيْهَا آي من الْقُرْآن جَازَ بيع الْمُصحف لِأَن حكم الْآيَة والجميع مُتَّفق أَلا ترى أَن الْجنب لَا يقْرَأ آيَة كَمَا لَا يقْرَأ الْجَمِيع
اردو ترجمہ:
امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح ایسے درہم و دینار کی خرید و فروخت جائز ہے جن پر قرآن کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو، اسی طرح مصحف کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، کیونکہ اس اعتبار سے ایک آیت اور پورے قرآن کا حکم یکساں ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جنبی شخص جس طرح پورا قرآن نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح اس کے لیے ایک آیت پڑھنے کا بھی وہی حکم ہے۔
الكتاب: مختصر اختلاف العلماء
المؤلف: أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ)
وضاحت:
اس مسئلے میں امام وکیع رحمہ اللہ مصاحف کی خرید و فروخت کو ناپسند کرتے تھے، جبکہ فقہ حنفی میں اس کے جواز کا موقف موجود ہے۔
یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ امام طحاوی نے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو بھی جواز کے قائلین میں شمار کیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام وکیع رحمہ اللہ بعض مسائل میں صرف امام ابو حنیفہ ہی نہیں بلکہ اپنے استاد امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے بھی مختلف رائے رکھتے تھے۔
⑧ قرض کی ادائیگی کے لیے غلام فروخت کرنے کا مسئلہ
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ سے منقول ہے:
1080 – قَالَ وَكِيع لَا يُبَاع العَبْد فِي الدّين
قَالَ أَبِي خَالف وَكِيع سُفْيَان فِي هَذَا
اردو ترجمہ:
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قرض کی ادائیگی کے لیے غلام کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مسئلے میں امام وکیع نے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی مخالفت کی ہے۔
الكتاب: مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
رقم المسألة: 1080
دوسری طرف فقہ حنفی کی کتاب «الفتاوى الهندية» میں ہے:
وَلَكِنْ لَيْسَ لِصَاحِبِ الدَّمِ أَنْ يَقْتُلَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ثُمَّ يُبَاعُ الْعَبْدُ فِي دَيْنِهِ فَإِنْ بَقِيَ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْءٌ بَعْدَ الدَّيْنِ كَانَ لِأَصْحَابِ الْجِنَايَةِ
اردو ترجمہ:
لیکن اس کے بعد صاحبِ حق کو اس غلام کو قتل کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ پھر غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کیا جائے گا، اور اگر قرض ادا کرنے کے بعد اس کی قیمت میں سے کچھ باقی بچے تو وہ جنایت کے حق داروں کو دیا جائے گا۔
الكتاب: الفتاوى الهندية
المؤلف: لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي
اسی طرح حنفی فقہ کی ایک دوسری کتاب میں ہے:
جازت الشهادة وبيع العبد في الدين
اردو ترجمہ:
گواہی دینا اور قرض کی ادائیگی کے لیے غلام فروخت کرنا جائز ہے۔
الكتاب: الذخيرة البرهانية المسمى ذخيرة الفتاوى في الفقه على المذهب الحنفي
المؤلف: برهان الدين أبو المعالي محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن مازه البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ)
الجزء: 15
وضاحت:
اس مسئلے میں امام وکیع رحمہ اللہ کا موقف فقہ حنفی میں نقل کردہ حکم سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔
تاہم فقہی کتابوں میں غلام کی فروخت کے متعلق مختلف حالات اور حقوق زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس لیے ان تمام عبارات کو ایک ہی مخصوص صورت پر منطبق کرنے سے پہلے ان کے مکمل سیاق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس مسئلے کی خاص اہمیت یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ امام وکیع اور امام سفیان ثوری کے درمیان اختلاف بیان کیا ہے۔
اس سے امام وکیع رحمہ اللہ کے فقہی استقلال کی تائید ہوتی ہے۔
امام وکیع بن الجراح کے اقوال میں اہلِ رائے کے منہج پر علمی نقد
امام وکیع رحمہ اللہ کے متعدد اقوال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ احادیث کی فقہی معرفت، نصوصِ شرعیہ سے استدلال اور حدیث کے مقابلے میں محض رائے پر اعتماد کرنے کے مسئلے کو خاص اہمیت دیتے تھے۔
① امام ابو حنیفہ کی دو سو احادیث میں مخالفت کا منقول قول
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے امام وکیع سے ایک قول نقل کیا ہے:
أَخْبَرَنَا ابن رزق، قَالَ: حَدَّثَنِي عثمان بن عُمَر بن خفيف الدراج، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البصلاني،
وأَخْبَرَنَا الْبَرْقَانِيّ، قال: قرأت على أبي حفص ابن الزيات: حدثكم عُمَر بن مُحَمَّد الكاغدي، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو السائب، قال: سمعت وكيعا، يقول: وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث
اردو ترجمہ:
ابو السائب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام وکیع رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: ہم نے پایا کہ ابو حنیفہ نے دو سو احادیث کی مخالفت کی ہے۔
الكتاب: تاريخ بغداد
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
وضاحت:
یہ امام وکیع کی طرف منسوب ایک تنقیدی قول ہے جس میں امام ابو حنیفہ کے فقہی استدلال پر اعتراض کیا گیا ہے۔
تاہم اس قول کے دو پہلو الگ الگ ہیں۔
ایک یہ کہ امام وکیع کی طرف اس عبارت کی نسبت اسنادی تحقیق سے ثابت کی جائے۔
دوسرا یہ کہ جن دو سو احادیث کی مخالفت کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی تعیین، ان کے مفاہیم اور امام ابو حنیفہ کے متعلقہ فقہی دلائل کا جائزہ لیا جائے۔
محض اس قول کے نقل ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان تمام دو سو مقامات پر واقعی صحیح اور صریح احادیث کی مخالفت ہوئی تھی۔
② اہلِ حدیث کو فقہ الحدیث حاصل کرنے کی تلقین
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کا نہایت اہم قول نقل کیا ہے:
20 – أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْعَبَّاسِ النِّعَالِيُّ أَنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ الْخُتَّلِيُّ نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لِأَصْحَابِ الْحَدِيثِ
لَوْ أَنَّكُمْ تَفَقَّهْتُمُ الْحَدِيثَ وَتَعَلَّمْتُمُوهُ مَا غَلَبَكُمْ أَصْحَابُ الرَّأْيِ
مَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ فِي شَيْءٍ يُحْتَاجُ إِلَيْهِ إِلَّا وَنَحْنُ نَرْوِي فِيهِ بَابًا
اردو ترجمہ:
امام وکیع رحمہ اللہ اہلِ حدیث سے فرماتے تھے: اگر تم حدیث کی فقہ حاصل کرتے اور اس کو اچھی طرح سیکھتے تو اہلِ رائے تم پر غالب نہ آ سکتے۔
ابو حنیفہ نے کسی ایسے مسئلے میں رائے نہیں دی جس کی لوگوں کو ضرورت پیش آتی ہو، مگر ہمارے پاس اس مسئلے سے متعلق احادیث کا ایک مستقل باب موجود ہے۔
الكتاب: نصيحة أهل الحديث
المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)
رقم الأثر: 20
وضاحت:
امام وکیع رحمہ اللہ کے اس قول سے ان کے علمی منہج کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
وہ اہلِ حدیث کو صرف روایات یاد کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے ان کی فقہی معرفت حاصل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔
ان کے نزدیک احادیث میں فقہی مسائل کے حل کے لیے وسیع علمی سرمایہ موجود ہے، لہٰذا اہلِ حدیث کو اس سے احکام اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔
یہ قول اس بات کی تائید کرتا ہے کہ امام وکیع رحمہ اللہ فقہی استدلال میں حدیث کو بنیادی اہمیت دیتے تھے اور اہلِ رائے کے منہج سے علمی اختلاف بھی رکھتے تھے۔
البتہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہر فقہی قول کو رد کیا ہو۔
③ حدیثِ نبوی کے مقابلے میں کسی فقیہ کے قول کو پیش کرنے پر امام وکیع کا ردِعمل
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اشعار کے مسئلے میں امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے:
وَسَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ: أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ؟ قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الإِشْعَارُ مُثْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَقُولُ لَكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ، مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ، ثُمَّ لَا تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا»
اردو ترجمہ:
ابو السائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم امام وکیع رحمہ اللہ کے پاس موجود تھے کہ انہوں نے وہاں موجود اہلِ رائے میں سے ایک شخص سے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کو اشعار کیا، جبکہ ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے؟
اس شخص نے جواب دیا: ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی روایت کیا گیا ہے کہ وہ اشعار کو مثلہ قرار دیتے تھے۔
ابو السائب فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ امام وکیع رحمہ اللہ شدید ناراض ہوئے اور فرمایا:
میں تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کر رہا ہوں اور تم جواب میں ابراہیم نخعی کا قول پیش کرتے ہو!
تم تو اس کے مستحق ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک تم اپنے اس قول سے رجوع نہ کر لو۔
الكتاب: سنن الترمذي
المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ)
رقم الحديث: 906
الباب: ما جاء في إشعار البدن
وضاحت:
یہ واقعہ امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کے حدیثی اور فقہی منہج کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے اشعار کے مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بنیادی دلیل قرار دیا اور اس کے مقابلے میں امام ابو حنیفہ اور امام ابراہیم نخعی رحمہما اللہ کے منقول اقوال پیش کرنے پر شدید اعتراض کیا۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام وکیع رحمہ اللہ اس مسئلے میں امام ابو حنیفہ کے قول سے صریح اختلاف رکھتے تھے۔
تاہم اس واقعے میں ان کی سخت زبان کو اسی تاریخی اور علمی مناظرے کے سیاق میں سمجھنا چاہیے۔ اس سے تمام فقہی اختلافات میں اس طرزِ گفتگو یا کسی قانونی سزا کے جواز کا عمومی اصول اخذ نہیں ہوتا۔
امام وکیع بن الجراح کے فقہی استقلال سے متعلق اہم نتائج
مندرجہ بالا اقوال اور آثار کے مجموعی مطالعے سے چند اہم نتائج سامنے آتے ہیں۔
اول: امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ اپنے زمانے کے بڑے محدث، حافظِ حدیث اور فقیہ تھے۔ ان کے علمی مقام کو محض کسی دوسرے امام کے تابع فقیہ کی حیثیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
دوم: امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے امام وکیع کے متعلق امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کی نسبت منقول ہے۔ اسے نظر انداز کرنا درست نہیں، تاہم اس سے ہر مسئلے میں امام ابو حنیفہ کی پابندی ثابت کرنا بھی ضروری نہیں۔
سوم: اشعار، صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے، مصاحف کی خرید و فروخت اور بعض دوسرے فقہی مسائل میں امام وکیع کے اقوال فقہ حنفی کے معروف موقف سے مختلف ہیں۔
چہارم: ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کے متعلق امام وکیع رحمہ اللہ نے اہلِ سنت کا معروف قول اختیار کیا کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے اور اس میں زیادتی و کمی ہوتی ہے۔
پنجم: امام وکیع رحمہ اللہ بعض مسائل میں اپنے استاد امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے بھی اختلاف رکھتے تھے، جس کی ایک واضح مثال قرض کی ادائیگی کے لیے غلام فروخت کرنے کے مسئلے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی منقول تصریح ہے۔
ششم: امام وکیع رحمہ اللہ کا علمی منہج حدیث کے فہم، فقہ الحدیث کے حصول اور نصوص سے استدلال کو بنیادی اہمیت دینے پر قائم تھا۔ ان کے متعدد اقوال میں اہلِ حدیث کو فقہی مہارت پیدا کرنے کی تلقین موجود ہے۔
ہفتم: امام وکیع رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ کے متعلق بعض تنقیدی اقوال بھی منقول ہیں، لیکن ان کا صحیح مفہوم متعین کرنے کے لیے ان کی سند، سیاق اور متعلقہ فقہی دلائل کا جائزہ ضروری ہے۔
ہشتم: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف خلقِ قرآن جیسے اعتقادی اقوال کی نسبت میں متعارض تاریخی روایات موجود ہیں۔ لہٰذا ایسی نسبتوں کو ان کے حق میں یا ان کے خلاف حتمی دلیل بنانے سے پہلے مستقل تحقیق ضروری ہے۔
خلاصہ و نتیجہ
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ کے منقول اقوال و آثار سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ حدیث و فقہ کے ایک بلند پایہ امام تھے، جن کی اپنی علمی بصیرت اور فقہی ترجیحات تھیں۔
ان سے متعدد ایسے اقوال ثابت یا منقول ہیں جن میں انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے معروف فقہی موقف سے اختلاف کیا۔ خصوصاً اشعار کے مسئلے میں ان کا موقف نہایت واضح ہے، جہاں انہوں نے حدیثِ نبوی کو بنیاد بنا کر اہلِ رائے کے قول پر سخت علمی اعتراض کیا۔
اسی طرح بعض مسائل میں امام وکیع کا اپنے استاد امام سفیان ثوری سے اختلاف بھی اس امر کی تائید کرتا ہے کہ وہ ہر مسئلے میں کسی ایک فقیہ کی رائے کی پابندی نہیں کرتے تھے۔
دوسری طرف امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی روایت میں امام وکیع کے متعلق امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دینے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس شہادت سے انکار کرنے کے بجائے اسے امام وکیع کے دوسرے فقہی اقوال کے ساتھ ملا کر سمجھنا چاہیے۔
اس لیے تمام شواہد کی روشنی میں زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ ایک صاحبِ علم اور مستقل فقہی بصیرت رکھنے والے محدث تھے۔ بعض مسائل میں وہ امام ابو حنیفہ سے اتفاق کر سکتے تھے اور متعدد دیگر مسائل میں ان سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ امام وکیع کو ہر مسئلے میں امام ابو حنیفہ کا پابند یا مقلد قرار دینا ان کے منقول فقہی اختلافات کے پیشِ نظر درست نہیں، لیکن یہ دعویٰ بھی قابلِ اثبات نہیں کہ ان کا ہر فتویٰ امام ابو حنیفہ کے خلاف ہوتا تھا۔ ان کی علمی شخصیت کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ ان کے اقوال کو انفرادی طور پر دلائل کی روشنی میں جانچا جائے۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔















