مضمون کے اہم نکات
اعتکاف کا بیان
سوال:
کیا اعتکاف عبادت ہے؟
جواب:
جی ہاں، اعتکاف بالاجماع عبادت ہے۔
سوال:
اعتکاف کرنے والے کو کیا کہتے ہیں؟
جواب:
معتکف یا عاکف۔
سوال:
اعتکاف کی فضیلت کیا ہے؟
جواب:
اعتکاف کی فضیلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک عمل ہے، آپ نے اس پر ہمیشگی کی، صحابہ کرام نے بھی بڑے ذوق و شوق سے اعتکاف کیا، ہر دور کے صلحا کا اس پر عمل رہا ہے۔ لیکن اعتکاف کی مخصوص فضیلت کے متعلق جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ساری کی ساری ضعیف ہیں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
ما زال النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى قبضه الله تعالى
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے حتی کہ آپ اللہ کو پیارے ہو گئے۔“
(صحيح البخاري: 2026، صحيح مسلم: 1172)
اگر کوئی انسان رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں دنیا اور اہل دنیا کو ترک کر کے مسجد کا رخ کرتا ہے اور دس دن مسجد میں خیمہ زن رہتا ہے، طاعت الٰہی میں وقت گزارتا ہے، فرائض و واجبات اور استحبابات کا اہتمام کرتا ہے تو یقیناً وہ ڈھیروں اجر و ثواب پائے گا۔ اعتکاف عزیمت والا عمل ہے۔
سوال:
اعتکاف کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اعتکاف بالاجماع سنت اور مستحب ہے، البتہ جس نے اعتکاف کی نذر مانی ہو تو اس کے لیے نذر پوری کرنا واجب ہے۔
❀ علامہ ابو عبداللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أنه ليس بواجب وهو قربة من القرب ونافلة من النوافل عمل بها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وأزواجه
”فقہا کا اجماع ہے کہ اعتکاف واجب نہیں، یہ قرب الٰہی کا باعث ہے اور نفلی عبادت ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور ازواج مطہرات کا عمل ہے۔“
(تفسير القرطبي: 2/333)
❀ نیز فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أن الاعتكاف ليس بواجب وأنه سنة
”اہل علم کا اجماع ہے کہ اعتکاف واجب نہیں، سنت ہے۔“
(تفسير القرطبي: 2/335)
سوال:
مسنون اعتکاف کیا ہے؟
جواب:
مسنون اعتکاف رمضان کا آخری عشرہ ہے۔ ایک دو دن کا اعتکاف مسنون نہیں، البتہ اگر ایک یا دو دن کے اعتکاف کی نذر مانی ہے تو اسے پورا کرنا ضروری ہے، باقی جو مسنون اور مستحب اعتکاف ہے وہ رمضان میں آخری عشرہ ہے، واللہ اعلم!
سوال:
اعتکاف کی شرطیں کیا ہیں؟
جواب:
➊ نیت۔ علما کا اتفاق ہے کہ اعتکاف میں نیت شرط ہے۔
➋ مسجد۔ ➌ مسلمان ہونا۔ ➍ عاقل ہونا۔
سوال:
کیا روافض اعتکاف کے قائل ہیں؟
جواب:
روافض اس مسجد میں اعتکاف جائز سمجھتے ہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے ائمہ نے جمعہ پڑھایا ہو۔
سوال:
کیا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا اعتکاف کا رکن ہے؟
جواب:
جی ہاں۔
سوال:
کیا اعتکاف صرف مسجد میں مشروع ہے؟
جواب:
مرد اور عورت کا اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے، گھر میں اعتکاف پر کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں، نہ سلف میں اس پر عمل ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ
”تم مسجد میں اعتکاف کر رہے ہو۔“
(البقرة: 187)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
الاعتكاف من العبادات المشروعة بالمساجد باتفاق الأئمة
”ائمہ کا اتفاق ہے کہ اعتکاف ان عبادات میں سے ہے جنہیں مساجد میں ادا کرنا مشروع ہے۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم: 2/356)
سوال:
کیا اعتکاف کے لیے مسجد میں جمعہ ہونا ضروری ہے؟
جواب:
نہیں۔
سوال:
مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھا ہو تو کیا عمرہ کر سکتا ہے؟
جواب:
نہیں کر سکتا۔
سوال:
اعتکاف کن چیزوں سے باطل ہو جاتا ہے؟
جواب:
جماع۔ اس پر اتفاق ہے کہ جماع سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے۔
بغیر ضرورت کے مسجد سے نکل جانا۔ حیض و نفاس۔ ارتداد۔
سوال:
جنبی ہو گیا، کیا اعتکاف باقی ہے؟
جواب:
جی ہاں، باقی ہے۔
سوال:
دوران اعتکاف غسل جنابت کر سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، یہ طبعی و شرعی ضرورت ہے۔
سوال:
کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، پڑھ سکتا ہے۔
سوال:
کیا خواتین مدرسہ کی عمارت میں اعتکاف کر سکتی ہیں؟
جواب:
نہیں۔ اعتکاف مسجد کے ساتھ خاص ہے۔
سوال:
کیا عورت اعتکاف میں خوشبو لگا سکتی ہے؟
جواب:
جی ہاں، لگا سکتی ہے۔
سوال:
معتکف سے ملاقات کی جا سکتی ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
کیا معتکف مسجد میں خرید و فروخت کر سکتا ہے؟
جواب:
نہیں کر سکتا۔
سوال:
کیا معتکف اذان کہہ سکتا ہے؟
جواب:
کہہ سکتا ہے۔
سوال:
معتکف کے لیے گھر سے سحری و افطاری لانے والا کوئی نہ ہو تو کیا خود جا کر لا سکتا ہے؟
جواب:
اس صورت میں خود لا سکتا ہے۔
سوال:
عورت عدت میں ہے، کیا اعتکاف بیٹھ سکتی ہے؟
جواب:
نہیں۔
سوال:
معتکف مسجد کی چھت پر چڑھ گیا، کیا اعتکاف باقی ہے؟
جواب:
جی ہاں، باقی ہے۔
سوال:
کیا معتکف مسجد میں واعظ کی مجلس میں شریک ہو سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، ہو سکتا ہے۔
سوال:
کیا وعظ کرنے یا جمعہ پڑھانے کے لیے دوسری مسجد میں جا سکتا ہے؟
جواب:
نہیں جا سکتا۔
سوال:
اعتکاف کے لیے خیمہ لگانا ضروری ہے؟
جواب:
ضروری نہیں، مستحب سنت ہے۔
سوال:
بعض لوگ ”نويت سنة الاعتكاف“ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
یہ بدعت ہے۔
سوال:
کیا معتکف مسجد میں نکاح پڑھا سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، پڑھا سکتا ہے۔
سوال:
کیا پورا رمضان اعتکاف بیٹھا جا سکتا ہے؟
جواب:
بیٹھا جا سکتا ہے، اس پر اجماع ہے۔
سوال:
کیا جھوٹ اور غیبت سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے؟
جواب:
نہیں ہوتا۔
سوال:
کیا اعتکاف کے لیے روزے کی شرط ہے؟
جواب:
اعتکاف الگ عبادت ہے اور روزہ الگ۔ جو شخص بیماری یا کبر سنی کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو وہ اعتکاف کر سکتا ہے۔ اسی طرح جو معتکف دوران اعتکاف بیمار ہو جائے اور روزہ توڑ دے تو اس کا اعتکاف برقرار ہے، کیونکہ اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إنه قال يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية أن أعتكف ليلة في المسجد الحرام فقال له أوف بنذرك
”انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔“
(صحيح البخاري: 6697، صحيح مسلم: 1656، المنتقى لابن الجارود: 941)
حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أن الاعتكاف جائز لغير الصوم
”یہ حدیث دلیل ہے کہ بغیر روزے کے بھی اعتکاف جائز ہے۔“
(أعلام الحديث: 2/990)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
في هذا الحديث دليل على أن الاعتكاف يصح بلا صوم
”یہ حدیث دلیل ہے کہ روزہ کے بغیر بھی اعتکاف صحیح ہے۔“
(كشف المشكل: 1/54)
❀ ابو سہیل نافع بن مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان على امرأتي اعتكاف ثلاثة أيام في المسجد الحرام فسألت عمر بن عبد العزيز وعنده ابن شهاب قال قلت عليها صيام قال ابن شهاب لا يكون اعتكاف إلا بصيام فقال له عمر بن عبد العزيز أعن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا قال فعن أبي بكر قال لا قال فعن عمر قال لا قال فعن عثمان قال لا قال عمر ما أرى عليها صياما فخرجت فوجدت طاوسا وعطاء بن أبي رباح فسألتهما فقال طاوس كان ابن عباس رضي الله عنهما لا يرى عليها صياما إلا أن تجعله على نفسها قال وقال عطاء ذلك رأيي
”میری بیوی نے نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں تین دن اعتکاف کرے گی، تو میں نے امام عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے سوال کیا، وہاں امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بھی تشریف فرما تھے، میں نے پوچھا: کیا میری بیوی پر (اعتکاف کے ساتھ ساتھ) روزہ رکھنا بھی ضروری ہے؟ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرمانے لگے: روزے کے بغیر اعتکاف نہیں۔ تو امام عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس بارے میں آپ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہے؟ زہری رحمہ اللہ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: کیا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کوئی اثر ہے؟ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: کیا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کوئی اثر؟ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی اثر؟ کہا: نہیں۔ تو امام عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ میری رائے یہ ہے کہ اس پر روزے ضروری نہیں۔ (ابو سہیل نافع بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:) میں وہاں سے نکلا، تو امام طاؤس بن کیسان اور امام عطاء بن ابی رباح رحمہما اللہ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے دونوں سے یہی سوال کیا۔ امام طاؤس رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک ایسی عورت پر روزے ضروری نہیں، الا کہ اس نے (اعتکاف کے ساتھ ساتھ) روزوں کی بھی نذر مانی ہو۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ میری بھی یہی رائے ہے۔“
(سنن الدارمي: 164، وسنده صحيح)
تنبیہ:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
لا اعتكاف إلا بصيام
”روزے کے بغیر اعتکاف نہیں۔“
(سنن الدارقطني: 2356، المستدرك للحاكم: 1605، السنن الكبرى للبيهقي: 4/521)
فائدہ:
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے۔
➋ سفیان بن حسین کی زہری سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
➌ زہری کا عنعنہ ہے۔
حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”ضعیف“ کہا ہے۔
(الأجوبة المرضية: 3/1085)
یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف بھی ضعیف ہے۔
فائدہ:
سوال:
کیا ہر مسجد میں اعتکاف ہو سکتا ہے؟
جواب:
اعتکاف مسجد کے ساتھ خاص ہے، مرد اور عورت دونوں مسجد میں ہی اعتکاف کریں گے، اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔
➊ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ
”تم مسجد میں اعتکاف کر رہے ہو۔“
(2-البقرة:187)
❀ امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عم الله المساجد كلها ولم يخص شيئا منها
”اللہ تعالیٰ نے تمام مسجدوں کو شامل کیا ہے، کسی مسجد کو خاص نہیں کیا۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/313)
❀ امام بخاری رحمہ اللہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
الاعتكاف في المساجد كلها
”تمام مساجد میں اعتکاف (کا بیان)۔“
(صحيح البخاري، قبل الحديث: 2025)
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الاعتكاف جائز في جميع المساجد على ظاهر الآية
”آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف تمام مساجد میں جائز ہے۔“
(الإشراف على مذاهب العلماء: 3/160)
❀ علامہ ابن جزی رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
دليل على جواز الاعتكاف في كل مسجد خلافا لمن قال لا اعتكاف إلا في المسجد الحرام ومسجد المدينة وبيت المقدس
”یہ آیت دلیل ہے کہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے، اس کے برعکس بعض کہتے ہیں کہ اعتکاف صرف مسجد حرام، مسجد مدینہ (مسجد نبوی) اور بیت المقدس میں ہی ہو سکتا ہے۔“
(تفسير ابن جزي: 1/112)
➋ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا
”میرے لیے زمین کو مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔“
(صحيح البخاري: 335، صحيح مسلم: 521)
❀ اس حدیث کے تحت علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بمعنى أنه تجوز الصلاة فيه وإلا فقد جاء النص والإجماع بأن البول والغائط جائز فيما عدا المسجد فصح أنه ليس لما عدا المسجد حكم المسجد … فصح أن لا اعتكاف إلا في مسجد
”اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ پوری زمین میں نماز جائز ہے، ورنہ تو نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ پیشاب و پاخانہ مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے، لہذا یہ بات درست ہے کہ مسجد کے علاوہ مقامات کا مسجد والا حکم نہیں ہے، یہ بھی درست ہے کہ مسجد کے علاوہ کہیں اعتکاف نہیں۔“
(المحلى بالآثار: 3/428)
➌ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة يجمع فيه
”اعتکاف صرف اس مسجد میں ہو سکتا ہے جس میں نماز باجماعت کا اہتمام ہو۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/90، وسنده صحيح)
➍ ، ➎ امام حکم بن عتیبہ اور امام حماد بن ابی سلیمان رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
لا يعتكف إلا في مسجد يجمعون فيه
”اعتکاف صرف اس مسجد میں کیا جا سکتا ہے جس میں لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہوں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/91، وسنده صحيح)
➏ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا اعتكاف إلا في مسجد يجمع فيه
”اعتکاف صرف اس مسجد میں جائز ہے جس میں نماز باجماعت کا اہتمام ہو۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/91، وسنده صحيح)
➐ امام عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة
”اعتکاف اس مسجد میں درست ہے جس میں نماز کی جماعت ہوتی ہو۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/91، وسنده صحيح)
➑ ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن أبا قلابة اعتكف في مسجد قومه
”امام ابو قلابہ رحمہ اللہ نے اپنے علاقے کی مسجد میں اعتکاف کیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/89، وسنده صحيح)
➒ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا بأس بالاعتكاف في مساجد القبائل
”قبائل کی مساجد میں اعتکاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/90، وسنده صحيح)
➓ امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الأمر عندنا الذي لا اختلاف فيه أنه لا يكره الاعتكاف في كل مسجد يجمع فيه
”ہمارا اتفاقی مسئلہ ہے کہ جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہے اس میں اعتکاف کرنا مکروہ نہیں ہے۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/313)
⓫ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الاعتكاف في كل مسجد تقام فيه الصلاة
”اعتکاف ہر اس مسجد میں جائز ہے جس میں نماز کی جماعت قائم کی جاتی ہے۔“
(مسائل أم هانئ: 679)
فائدہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة
”اعتکاف اس مسجد میں درست ہے جس میں نماز کی جماعت ہوتی ہو۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 9/301)
سند ضعیف ہے۔
➊ مغیرہ بن مقسم ضبی کا عنعنہ ہے۔
➋ ابراہیم نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➌ ابراہیم نخعی کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
تنبیہ:
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا اعتكاف إلا في المساجد الثلاثة المسجد الحرام ومسجد النبي صلى الله عليه وسلم ومسجد بيت المقدس
”اعتکاف صرف تین مسجدوں میں ہی جائز ہے؛ مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد بیت المقدس (اقصیٰ)۔“
(شرح مشكل الآثار: 7/201، ح: 2771، السنن الكبرى للبيهقي: 4/519)
اس کی سند ضعیف و منکر اور مضطرب ہے، سفیان بن عیینہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے عنعنہ کو مضر سمجھتے تھے۔
(علل ابن أبي حاتم: 1/488)
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ضعیف سے بھی تدلیس کر لیتے تھے۔
(المستدرك للحاكم، تحت الرقم: 3985)
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس روایت کی صحت کا انکار کیا ہے۔
(المحلى: 5/195)
لہذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ (سیر اعلام النبلاء: 15/81) کا اسے صحیح کہنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
اس روایت پر متقدمین ائمہ میں سے کسی نے عمل نہیں کیا۔ بلکہ سارے مسلمان متفق نظر آتے ہیں کہ اعتکاف کسی بھی مسجد میں ہو سکتا ہے۔
➊ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کا قول (مصنف عبد الرزاق: 8014) عبد الرزاق بن ہمام اور سفیان ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ نیز دوسرا قول (مصنف عبد الرزاق: 8061) عبد الرزاق اور سفیان بن عیینہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➋ سعید بن مسیب کے قول (ابن ابی شیبہ: 3/90) میں قتادہ مدلس ہیں۔
➌ عطاء بن ابی رباح کا قول (مصنف عبد الرزاق: 8019) عبد الرزاق کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سوال:
کیا حائضہ مسجد میں اعتکاف کر سکتی ہے؟
جواب:
حائضہ مسجد میں داخل بھی نہیں ہو سکتی، تو اعتکاف کیسے کرے گی؟ اگر دوران اعتکاف حیض آجائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا، وہ فوراً مسجد سے نکل جائے گی۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدخل علي رأسه وهو في المسجد فأرجله وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة إذا كان معتكفا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں (بحالت اعتکاف) سے اپنا سر مبارک میری جانب (حجرہ میں) داخل فرماتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے بلا ضرورت گھر نہیں آتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 2029، صحيح مسلم: 297)
یہ حدیث دلیل ہے کہ حائضہ اعتکاف نہیں کر سکتی، حائضہ کا مسجد میں داخلہ جائز ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسجد میں داخل کیوں نہ ہوتیں اور انہیں باہر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنگھی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
العلماء مجمعون أن الحائض لا يجوز لها دخول المسجد ولا الاعتكاف فيه
”اہل علم کا اجماع ہے کہ حائضہ کے لیے مسجد میں داخل ہونا یا مسجد میں اعتکاف کرنا جائز نہیں۔“
(شرح صحيح البخاري: 1/437)
سوال:
کیا عورت گھر میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے؟
جواب:
اعتکاف کا محل مسجد ہے۔ گھر میں اعتکاف نہیں۔
سوال:
اعتکاف توڑنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اعتکاف مشروع مستحب ہے، بلا عذر نہیں توڑنا چاہیے۔ اگر کسی نے توڑ دیا تو وہ گناہ گار نہیں، اس پر قضا واجب نہیں۔
سوال:
کیا معتکف مسجد میں مریض کا چیک اپ کر کے نسخہ لکھ سکتا ہے؟
جواب:
حسب ضرورت ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں۔
سوال:
معتکف کا غسل خانے میں ٹھنڈک کے لیے غسل کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
کیا معتکف گوشہ صحن مسجد میں بیٹھ سکتا ہے؟
جواب:
جہاں چاہے بیٹھ سکتا ہے۔
سوال:
کیا معتکف اپنے خیمہ سے باہر سو سکتا ہے؟
جواب:
سو سکتا ہے۔
سوال:
اعتکاف مکمل کرنے سے پہلے ختم کر دیا، کیا قضا واجب ہے؟
جواب:
اعتکاف سنت ہے، اس کی قضا مستحب ہے، واجب نہیں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في العشر الأواخر من رمضان فكنت أضرب له خباء فيصلي الصبح ثم يدخله فاستأذنت حفصة عائشة أن تضرب خباء فأذنت لها فضربت خباء فلما رأته زينب ابنة جحش ضربت خباء آخر فلما أصبح النبي صلى الله عليه وسلم رأى الأخبية فقال ما هذا فأخبر فقال النبي صلى الله عليه وسلم ألبر ترون بهن فترك الاعتكاف ذلك الشهر ثم اعتكف عشرا من شوال
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ میں آپ کا خیمہ لگاتی اور آپ فجر کے بعد اس میں داخل ہو جاتے۔ ایک دفعہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے خیمہ لگانے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی تو انہوں نے خیمہ لگایا، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگا دیا، صبح جب اتنے سارے خیمے دیکھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا؟ جب بتا دیا گیا تو فرمایا: ”آپ اسے نیکی سمجھ رہی ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کا اعتکاف ترک کر دیا اور شوال کا ایک عشرہ اعتکاف کیا۔“
(صحيح البخاري: 2033)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
دليل على أن النوافل المعتادة إذا فاتت تقضى استحبابا واستدل به المالكية على وجوب قضاء العمل لمن شرع فيه ثم أبطله ولا دلالة فيه
”یہ حدیث دلیل ہے کہ نوافل رہ جائیں تو قضا مستحب ہے، مالکیہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ عمل شروع کرنے کے بعد اگر مکمل نہیں کیا تو قضا واجب ہے، حالانکہ یہ استدلال درست نہیں۔“
(فتح الباري: 4/277)
ازواج مطہرات سے ثابت نہیں کہ انہوں نے اعتکاف کی قضا دی ہو۔
سوال:
معتکف کا غسل تبرید (ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے) کے لیے مسجد سے باہر جانا کیسا ہے؟
جواب:
مناسب نہیں۔
سوال:
جو معتکف مسجد میں سگریٹ نوشی کرتا ہے، کیا اس کا اعتکاف قائم رہتا ہے؟
جواب:
گو کہ سگریٹ نوشی حرام ہے، مگر اس سے اعتکاف نہ ٹوٹے گا۔
سوال:
جس جگہ کو ناجائز قبضہ کر کے مسجد کا حصہ بنایا گیا ہے، اس جگہ اعتکاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
ناجائز قبضہ کر کے مسجد بنانا حرام اور ناجائز ہے، مگر اس جگہ نماز پڑھنے، اعتکاف کرنے یا کوئی نیک عمل کرنے سے ادائیگی ہو جائے گی۔
سوال:
معتکف کسی ملازمت کی ضرورت سے مسجد سے باہر جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اعتکاف باقی نہ رہے گا۔
سوال:
جو شخص پورا عشرہ اعتکاف کرنے کے بجائے تین دن یا پانچ دن کا اعتکاف کرتا ہے، کیا اسے سنت اعتکاف کا اجر حاصل ہوگا؟
جواب:
اعتکاف ایک دن کا بھی ہو سکتا ہے، مگر رمضان میں جو مسنون اعتکاف ہے وہ آخری مکمل عشرہ کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے عشرہ اخیرہ میں تین یا پانچ یا سات دن اعتکاف کرنا ثابت نہیں۔ اس لیے تین یا پانچ دن اعتکاف کرنے والوں کو اجر و ثواب تو ملے گا، مگر عشرہ رمضان کے مسنون اعتکاف کا اجر نہ ملے گا، واللہ اعلم!
سوال:
کیا بغیر عذر اعتکاف ترک کرنا گناہ ہے؟
جواب:
اعتکاف مسنون سنت ہے، واجب نہیں، اس کے ترک پر مواخذہ نہیں۔
سوال:
معتکف خیمہ میں کب داخل ہو؟
جواب:
معتکف کے لیے مسنون ہے کہ بیسویں رمضان کی افطاری سے پہلے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آجائے، خیمہ لگا دے، رات بھر مسجد میں عبادت کرے، خیمہ میں داخل نہ ہو، پھر نماز فجر کے بعد خیمہ میں داخل ہو جائے۔
(بخاري: 2018، مسلم: 1197)
اکیسویں روزے کی صبح کو نماز فجر کے بعد بھی اعتکاف میں بیٹھا جا سکتا ہے۔
سوال:
بعض علاقوں میں سانپوں کی بہتات ہوتی ہے، کیا وہاں معتکف چار پائی پر سو سکتے ہیں؟
جواب:
ایسی صورت حال ہو تو معتکف سونے کے لیے چار پائی استعمال کر سکتے ہیں۔
سوال:
کیا معلم حالت اعتکاف میں مسجد کے بچوں کو تعلیم دے سکتا ہے؟
جواب:
دے سکتا ہے۔
سوال:
معتکف کے لیے مسجد کے برآمدے میں جانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
کیا اعتکاف عشرہ سے کم ہو سکتا ہے؟
جواب:
مسنون یہی ہے کہ عشرہ کا اعتکاف کیا جائے۔ اس سے کم اعتکاف کرنے والا بھی اجر سے محروم نہ ہوگا۔
سوال:
ایک شخص اپنی آبادی کی مسجد کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے کی مسجد میں اعتکاف کر سکتا ہے؟
جواب:
کر سکتا ہے، البتہ بہتر ہے کہ اپنے محلہ کی مسجد میں اعتکاف کرے۔
سوال:
اعتکاف کی حالت میں دوسری مسجد میں قرآن سنانے کے لیے جانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز نہیں، اس سے اعتکاف ختم ہو جائے گا۔
سوال:
حالت اعتکاف میں ڈاک خانہ کا کام کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جائز نہیں۔ اعتکاف کا مقصد ہی یہ ہے کہ دنیاوی امور سے منقطع ہو کر اپنا وقت عبادت الٰہیہ میں صرف کیا جائے۔
سوال:
اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے اعتکاف توڑ دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس کے لیے ایک عشرہ کے اعتکاف کی قضا مستحب ہے، واجب نہیں۔
سوال:
کیا بے ہوشی سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:
نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
دوران اعتکاف بیوی سے ملاقات کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر ممکن ہو تو دوران اعتکاف بیوی سے ملاقات کی جا سکتی ہے، البتہ دوران اعتکاف مباشرت جائز نہیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿١٨٧﴾
”جب تم مسجدوں میں اعتکاف کر رہے ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت مت کرو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، ان کے قریب بھی مت پھٹکو، اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ وہ متقی بن جائیں۔“
(2-البقرة:187)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مسجد سے اپنا سر میرے نزدیک کر دیتے تھے، میں اپنے حجرہ میں ہوا کرتی تھی تو میں آپ کا سر دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی تھی، حالاں کہ میں حائضہ ہوتی تھی۔“
(صحيح البخاري: 295، صحيح مسلم: 297/9)
❀ سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره في اعتكافه في المسجد في العشر الأواخر من رمضان فتحدثت عنده ساعة ثم قامت تنقلب فقام النبي صلى الله عليه وسلم معها يقلبها حتى إذا بلغت باب المسجد عند باب أم سلمة مر رجلان من الأنصار فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهما النبي صلى الله عليه وسلم على رسلكما إنما هي صفية بنت حيي فقالا سبحان الله يا رسول الله وكبر عليهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن الشيطان يبلغ من الإنسان مبلغ الدم وإني خشيت أن يقذف في قلوبكما شيئا
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں اعتکاف فرما رہے تھے، میں نے کچھ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں، پھر اٹھ کر واپس ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور واپس چھوڑنے آئے، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس والے مسجد کے دروازے پر پہنچی تو وہاں سے دو انصاری گزر رہے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”رکیے، یہ صفیہ بنت حی ہیں“، وہ دونوں کہنے لگے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات بہت گراں گزری تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان میں ایسے چلتا ہے جیسے خون چلتا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ وہ آپ کے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔“
(صحيح البخاري: 2035، صحيح مسلم: 2175)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن من جامع امرأته وهو معتكف عامدا لذلك في فرجها أنه مفسد لاعتكافه
”اہل علم کا اجماع ہے کہ جس نے دوران اعتکاف قصداً بیوی کی شرمگاہ میں جماع کر لیا تو اس سے اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔“
(تفسير القرطبي: 2/332)
سوال:
معتکف کا مسجد میں حجامت بنوانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے، البتہ مسجد کی صفائی کا خیال رکھے۔
سوال:
کیا نابالغ بچہ اعتکاف کر سکتا ہے؟
جواب:
اعتکاف نفلی عبادت ہے، ہر بالغ و نابالغ کر سکتا ہے، البتہ انتظامی ضرورت کے لیے اگر نابالغ بچوں پر پابندی لگا دی جائے تو ایسا کرنا درست ہے۔
سوال:
اگر دوران اعتکاف عورت کو حیض آجائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
دوران اعتکاف حیض آنے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے، حائضہ فوراً مسجد سے نکل جائے، اس پر اعتکاف کی قضا واجب نہیں، کیونکہ اعتکاف نفلی عبادت ہے اور نوافل کی قضا واجب نہیں ہوتی۔
سوال:
جو معتکف بلا ضرورت مسجد سے باہر کام کاج کے لیے چلا جائے، اس کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اس کا اعتکاف فاسد ہے، کیونکہ مسجد سے انتہائی ضروری کام کے لیے ہی جایا جا سکتا ہے۔
سوال:
دوران اعتکاف سگریٹ نوشی کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
دورانِ اعتکاف سگریٹ پینا گناہ ہے، البتہ اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا۔
سوال:
کیا اعتکاف توڑنے پر قضا واجب ہے؟
جواب:
اعتکاف نفلی عبادت ہے، اس کی قضا مستحب ہے، واجب نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جب کسی نفل کو شروع کر کے ترک کیا جائے تو اس کی قضا واجب ہو جاتی ہے، جبکہ جمہور اہل علم کا مذہب ہے کہ کسی نفل کام کو شروع کیا جائے تو اختتام تک نفل ہی رہتا ہے، واجب نہیں ہوتا، سوائے نفلی حج اور عمرہ کے۔
سوال:
عورت اعتکاف میں ہے، شوہر وفات پا گیا، اب کیا کرے؟
جواب:
عورت عدت میں چلی جائے گی، اگر وہ چاہے تو اعتکاف جاری رکھے اور اعتکاف کے بعد گھر جا کر بقیہ عدت گزارے، ورنہ اعتکاف توڑ دے اور گھر جا کر عدت گزارے، اس پر قضا واجب نہیں۔
یہی حکم عدت طلاق کا ہے۔
سوال:
کیا عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف کر سکتی ہے؟
جواب:
اگر عورت اعتکاف کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے شوہر سے اجازت طلب کرے، بغیر اجازت اعتکاف کے لیے مسجد نہ جائے۔
❀ علامہ ابن العطار رحمہ اللہ (724ھ) فرماتے ہیں:
إن كانت مزوجة فلا يجوز إلا بإذن الزوج وهذا لا خلاف فيه بين العلماء
”اگر عورت شادی شدہ ہے تو اس کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف جائز نہیں، اس میں اہل علم کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔“
(العدة في شرح العمدة: 2/927)
سوال:
کیا استحاضہ والی عورت مسجد میں اعتکاف کر سکتی ہے؟
جواب:
استحاضہ ایک بیماری ہے، یہ حیض نہیں، استحاضہ والی عورت کا حکم پاک عورت والا ہے، لہذا مستحاضہ مسجد میں اعتکاف کر سکتی ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
اعتكفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة من أزواجه مستحاضة فكانت ترى الحمرة والصفرة فربما وضعنا الطست تحتها وهي تصلي
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی ایک زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اعتکاف کیا، آپ مستحاضہ تھیں، سرخ اور زرد خون جاری رہتا تھا، بسا اوقات ہم ان کے نیچے طشت رکھ دیتیں اور وہ نماز پڑھتیں۔“
(صحيح البخاري: 2037)
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
حكم المستحاضة كحكم الطاهر ولا خلاف بين العلماء في جواز اعتكافها
”استحاضہ والی عورت کا حکم پاک عورت کی طرح ہے، مستحاضہ کے اعتکاف کے جواز میں اہل علم کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔“
(شرح صحيح البخاري: 4/174)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أما الصلاة والصيام والاعتكاف وقراءة القرآن ومس المصحف وحمله وسجود التلاوة وسجود الشكر ووجوب العبادات عليها فهي في كل ذلك كالطاهرة وهذا مجمع عليه
”نماز، روزہ، اعتکاف، تلاوت قرآن، مصحف کو چھونے اور اٹھانے، سجدہ تلاوت، سجدہ شکر اور واجب عبادات میں مستحاضہ کا حکم پاک عورت کی طرح ہے، اس پر اجماع ہے۔“
(شرح مسلم: 4/17)
❀ علامہ ابن العطار رحمہ اللہ (724ھ) نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
(العدة في شرح العمدة: 1/264)
سوال:
جو بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا، کیا وہ اعتکاف کر سکتا ہے؟
جواب:
اعتکاف الگ عبادت ہے اور روزہ الگ۔ اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں۔ اگر کوئی شرعی عذر کی بنا پر روزہ نہیں رکھ سکتا اور وہ اعتکاف کرنا چاہے تو اس کے لیے اعتکاف کرنا جائز ہے۔ اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے روزہ شرط نہیں۔
سوال:
اعتکاف میں بیوی سے جماع کر لیا، کیا حکم ہے؟
جواب:
اعتکاف میں بیوی سے جماع حرام ہے، جس نے دوران اعتکاف جانتے بوجھتے بیوی سے جماع کر لیا اس کا اعتکاف فاسد ہو گیا۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿١٨٧﴾
”جب تم مساجد میں اعتکاف کر رہے ہو تو بیویوں سے مباشرت (جماع) مت کرو، یہ اللہ کی حدود ہیں، ان کے قریب مت آؤ، اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے آیات بیان کرتا ہے تا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔“
(2-البقرة:187)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن من جامع امرأته وهو معتكف عامدا لذلك في فرجها أنه مفسد لاعتكافه
”اہل علم کا اجماع ہے کہ جس نے دوران اعتکاف قصداً بیوی کی شرمگاہ میں جماع کر لیا تو اس سے اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔“
(تفسير القرطبي: 2/332)
سوال:
اعتکاف کی نذر مانی، کیا حکم ہے؟
جواب:
اعتکاف کی نذر ماننا جائز ہے، اسے پورا کرنا واجب ہے۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إنه قال يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية أن أعتكف ليلة في المسجد الحرام فقال له أوف بنذرك
”انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنی نذر پوری کریں۔“
(صحيح البخاري: 6697، صحيح مسلم: 1656، المنتقى لابن الجارود: 941)
سوال:
کیا پہلے امتوں میں بھی اعتکاف مشروع تھا؟
جواب:
اعتکاف صرف امت محمدیہ کا خاصہ نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا، البتہ پہلی امتوں اور امت محمدیہ کے مسائل اعتکاف میں فرق ہو سکتا ہے۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إنه قال يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية أن أعتكف ليلة في المسجد الحرام فقال له أوف بنذرك
”انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنی نذر پوری کریں۔“
(صحيح البخاري: 6697، صحيح مسلم: 1656، المنتقى لابن الجارود: 941)
❀ علامہ ابو القاسم رافعی رحمہ اللہ (623ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أنه كان لهم في الجاهلية اعتكاف
”یہ حدیث دلیل ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اعتکاف کرتے تھے۔“
(شرح مسند الشافعي: 2/79)
سوال:
معتکف کو کون سے اعمال کرنے چاہییں؟
جواب:
طاعت میں وقت گزارے، قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کرے، نوافل اور ذکر و دعا میں مشغول رہے، لیلتہ القدر کی تلاش میں رہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرے، سحری و افطاری میں دوسرے بھائیوں کی تواضع کرے، غیر ضروری اٹھک بیٹھک اور قیل و قال سے اجتناب کرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے روکے، دین کا علم سیکھے اور موبائل کا بے جا استعمال نہ کرے۔
سوال:
اعتکاف کب ختم ہوتا ہے؟
جواب:
جب شوال کا چاند نظر آجائے۔
سوال:
اعتکاف ختم ہونے کے بعد معتکفین کو ہار پہنانے جاتے ہیں، ان پر پھول پھینکے جاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
یہ اقدام درست نہیں، اس کی حوصلہ شکنی چاہیے۔ جو نبی اعتکاف ختم ہو آرام سے گھر چلے جائیں، اللہ تعالیٰ کا اس نیکی کی توفیق پر شکر ادا کریں۔