نواں شبہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک مجلد کتاب کا چھوڑنا
پرویز لکھتے ہیں:
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے شداد بن معقل نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: آپ نے صرف یہ ایک مجلد کتاب چھوڑی ہے۔
صحيح البخاري ، فضائل القرآن، باب من قال: لم يترك النبي، حديث: 5019
اسی طرح محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی یہی جواب دیا۔
اس کا جواب واضح ہے کہ موجودہ صورت میں جو قرآن ہے وہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے جو اشارہ کیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت وہ دو گتوں کے درمیان جمع شدہ تھا اور اس وقت واقعتا قرآن مجلد شکل میں موجود تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو فرمایا: ”ما ترك“ ”نہیں چھوڑا“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کے سوا جمع شدہ کوئی چیز نہیں چھوڑی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام کے دور میں ساری احادیث ایک مجموعے کی صورت میں موجود نہیں تھیں لیکن مجموعے کی صورت میں موجود نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ احادیث محفوظ نہیں تھیں یا وہ حجت نہیں۔