آٹھواں شبہ: حدیث قرطاس
منکرین حدیث کبھی اپنے مقصد کی احادیث سے استدلال کر کے احادیث کو دینی حجیت سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حدیث قرطاس میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کے سامنے کہا تھا: ”ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔“
صحيح البخاري، العلم، باب كتابة العلم حديث : 114
یعنی حدیث کی کوئی ضرورت نہیں۔
پھر منکرینِ حدیث کتاب کا معنی ذکر کرتے ہیں۔ قرآن اپنے آپ کو بار بار کتاب کہتا ہے۔ پہلی آیت ”ذلك الكتاب لا ريب فيه“ میں کتاب کا معنی ذکر کیا: ”عرب اس لکھی ہوئی چیز کو کتاب کہتے تھے جو مدون شکل میں سلی ہوئی صورت میں موجود ہو۔“
قرآنی فیصلے ص : 668
کتاب اللہ کے متعلق پرویز صاحب نے لکھا ہے:
یہ کتاب قرآن ساتھ کے ساتھ ہی محفوظ ہوتی چلی گئی اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں تو یہ بعینہ اسی شکل اور اسی ترتیب میں جس میں یہ اس وقت ہمارے پاس ہے لاکھوں مسلمانوں کے پاس موجود اور ہزاروں کے سینوں میں محفوظ تھی، اس کی ایک مستند (ماسٹر) کاپی مسجد نبوی میں ایک ستون کے قریب صندوق میں رکھی رہتی تھی۔ یہ وہ نسخہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے وحی لکھوایا کرتے تھے، اسے ام الکتاب یا امام کہتے تھے۔ اور اس ستون کو جس کے قریب یہ نسخہ رہتا تھا استوانۃ المصحف کہا جاتا تھا۔ اس ستون کے پاس بیٹھ کر صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی اس مصحف سے اپنے اپنے مصاحف نقل کیا کرتے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت اس قدر عام ہو گئی تھی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج (حجۃ الوداع) کے خطبہ میں لاکھوں نفوس کو مخاطب کر کے پوچھا: کیا میں نے تم تک خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ تو چاروں طرف سے یہ آواز گونج اٹھی: ہاں! آپ نے اسے پہنچا دیا ہے، یہی تھی وہ کتاب جس کے متعلق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں دیگر صحابہ کرام کی موجودگی میں فرمایا تھا کہ “”حسبنا كتاب الله“ ”ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔“
اس اقتباس میں چند امور زیر بحث ہیں:
❀ عرب کے نزدیک کتاب لکھی ہوئی چیز کو کہتے ہیں جو مدون شکل میں سلی ہوئی صورت میں ہو۔
❀ جس شکل اور ترتیب میں اب موجود ہے اس صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھی اور لاکھوں مسلمانوں کے پاس موجود تھی۔
❀ مسجد نبوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماسٹر کاپی موجود تھی، اسے امام کہتے تھے۔
❀ صحابہ کرام اس سے اپنے مصاحف نقل کرتے تھے۔
❀ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے خدا کا پیغام تمھیں پہنچا دیا ہے۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کتاب کے متعلق کہا: ”حسبنا كتاب الله“
مندرجہ بالا اقتباس میں مذکورہ امور محل نظر ہیں لیکن جواب سے پہلے ہم پرویز صاحب سے پوچھتے ہیں کہ یہ سارا قصہ کسی حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔ کوئی آیت یا حدیث پیش کریں، البتہ اس قصے میں دو حدیثوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (حجۃ الوداع اور مرض موت) اس سے معلوم ہوا کہ حدیث حجت ہے۔ اگر حجت نہیں تو آپ نے کیوں یہ حوالے پیش کیے ہیں؟
اب ہم تفصیل کے ساتھ جواب پیش کرتے ہیں۔ ہم کتاب کے معانی کا تعین کرنے کے لیے صرف عرب پر انحصار نہیں کر سکتے۔ خود قرآن کریم سے نقل کرتے ہیں۔ لفظ کتاب قرآن کریم میں 230 مرتبہ بیان کیا گیا ہے۔ اور اس کا مادہ (ک، ت، ب) 319 مرتبہ مذکور ہے۔ یہ لفظ قرآن کریم میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔
1۔ فرض شدہ چیز کے معنی میں، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
”بے شک نماز مومنوں پر ہمیشہ سے وقت مقررہ پر فرض کر دی گئی ہے۔“
(4-النساء:103)
2۔ حجت کے معنی میں، جیسے فرمایا:
فَأْتُوا بِكِتَابِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
”پس تم اپنی کوئی حجت و دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔“
(37-الصفت:157)
3۔ اجل کے معنی میں، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُومٌ
”اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر یہ کہ اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔“
(15-الحجر : 4)
4۔ غلام کو مکاتب بنانا، یعنی مال کے عوض اسے آزاد کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا
”جو غلام تم سے مکاتبت کرنا چاہیں، اگر تمھیں ان میں کوئی بھلائی معلوم ہو تو ان سے مکاتبت کر لو۔“
(24-النور:33)
5۔ لکھنے کے معنی میں، جیسے فرمایا:
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا
”اور ہم نے ہر چیز لکھنے کے ذریعے سے شمار کر رکھی ہے۔“
(78-النبا:29)
6۔ اعمال نامے کے معنی میں، جیسے فرمایا:
وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا
”ہم روز قیامت اس کے واسطے اعمال نامہ نکال کر سامنے کر دیں گے (اور) وہ اسے کھلا ہوا پائے گا۔“
(17-بني إسراءيل:13)
7۔ لوح محفوظ کے معنی میں، جیسے فرمایا:
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ
”بے شک یہ قرآن بڑی قدر و منزلت والا ہے جو لوح محفوظ میں ہے۔“
(56-الواقعة : 77,78)
8۔ خط کے معنی میں، جیسے فرمایا:
إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
”بے شک میری طرف ایک عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“
(27-النمل:29)
9۔ تقدیر میں لکھی ہوئی چیز، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أُولَئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ
”ان لوگوں کے نصیب میں جو لکھا ہے وہ انھیں مل جائے گا۔“
(7-الأعراف:37)
10۔ عدت کے معنی میں، جیسے فرمایا:
وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ
”جب تک عدت پوری نہ ہو جائے عقد نکاح کا قصد نہ کرو۔“
(2-البقرة:235)
11۔ حکم شرعی کے معنی میں، جیسے فرمایا:
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ
”اور رشتے دار حکم شرعی (کتاب اللہ، سنت) کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔“
(33-الأحزاب:6)
12۔ تدوین شدہ مجموعے کے معنی میں جو عجم کے عرف میں مشہور ہے، جیسے فرمایا:
وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ
”اور یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔“
(6-الأنعام :155)
اس تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ کتاب کا جو معنی پرویز صاحب نے عربوں کی طرف منسوب کیا ہے کتاب کا صرف وہ معنی نہیں ہے، یہ معنی عجم کے ہاں مشہور ہے اور ان کی اصطلاح ہے جبکہ عرب میں تو لفظ کتاب کے متعدد اور مختلف معانی ہیں۔ پھر ”ذلك الكتاب لا ريب فيه“ میں کتاب سے مدون شکل میں سلی ہوئی کتاب مراد لینا بڑا عجیب ہے کیونکہ یہ آیت سورۃ بقرہ کی ہے اور سورۂ بقرہ مدینہ طیبہ میں پہلی نازل شدہ سورت ہے۔ اس وقت قرآن کریم کی مکی سورتوں کی تعداد 86 تھی جو اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں، لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں کس نے مدون کر کے ان کے اوراق کی سلائی کی؟
پرویز صاحب مزید کہتے ہیں کہ یہ جیسے ہمارے پاس موجود ہے بعینہ اسی شکل اور اسی ترتیب میں لاکھوں مسلمانوں کے پاس موجود تھی۔ یہ بات پہلی بات سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ کاغذ 134 ہجری بمطابق 751ء میں ایجاد ہوا۔ اس کا موجد ایک چینی شخص تھا جس نے کتان اور سن کے ریشوں سے کاغذ بنانے کی صنعت شروع کی۔ اس سے پہلے اہل مشرق کے پاس صرف قرطاس موجود تھا۔ یہ کاغذ کی ابتدائی شکل تھی جو قدیم مصر میں رائج تھی۔ وہ بھی اتنا عام نہیں تھا کہ قرآن جیسی بڑی کتاب کے لیے میسر ہوتا جبکہ دور نبوی میں لکھنے کے لیے دو چیزیں دستیاب تھیں، قرطاس جو بہت کم یاب تھا اور ورق جس کا طلوع اسلام میں بھی ذکر ہے کہ ایسے اوراق جو باریک کھال سے بنائے گئے ہوں۔ یہ بھی دور نبوت میں عام نہیں تھا۔ ان دنوں پتھر کی سلیں، باریک کھالیں، اور کھجور کی چھال کتابت کے لیے بطور ورق استعمال کی جاتی تھی۔ ان پر قرآن کریم مدون کرنا اور سلا ہوا بنانا عقل سے بعید ہے، البتہ قرآن کریم کو کتاب کہنا اس معنی پر صادق آتا ہے کہ قرآن لوح محفوظ میں، صحف ملائکہ میں، صحابہ کرام کے سینوں میں، پھر پتھروں اور ہڈیوں وغیرہ پر جمع تھا۔ یہ کہنا کہ یہ مجموعہ لاکھوں صحابہ کرام کے پاس موجود تھا، سراسر جھوٹ ہے۔ اس وقت کوئی چھاپہ خانہ موجود نہ تھا۔ سارے صحابہ کرام لکھنا نہیں جانتے تھے اور ضرورت کے مطابق اوراق و قرطاس بھی میسر نہیں تھے تو قرآن کریم کا نسخہ لاکھوں صحابہ کرام کے ہاتھوں میں کس طرح آیا؟
مزید برآں یہ کہنا بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ استوانۃ المصحف کے پاس قرآن کی ماسٹر کاپی موجود تھی اور اسے کتاب اور امام کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسا ہوا تھا کہ ان کے پاس جو نسخہ تھا اسے امام کہا جاتا تھا اور اس سے دوسرے نسخے نقل کیے گئے تھے۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فرمان: ”حسبنا كتاب الله“ ”ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے“ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت قرآن مدون شکل میں تھا اور نہ ہی یہ مطلب ہے کہ کتاب اللہ سے صرف قرآن کریم مراد ہے، بلکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دوسری ایسی روایات موجود ہیں جن میں انھوں نے کتاب اللہ کا اطلاق اس حکم شرعی پر کیا ہے جو احادیث میں موجود ہے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آخری ایام میں مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جو خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اس میں فرمایا:
”الرجم فى كتاب الله حق على من زنى إذا أحصن“
”شادی شدہ شخص جب زنا کرے تو اسے رجم کرنا کتاب اللہ میں حق واجب ہے۔“
صحيح البخاري، الحدود، باب رجم الحبلى في الزنا، حديث : 6830
رجم کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ نہیں ہے لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں فرمایا: کتاب اللہ یہاں کتاب اللہ سے مراد حکم شرعی ہے، خواہ وہ حدیث میں ہو۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے تو ان کی مراد یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت شدت مرض میں مبتلا ہیں، لہذا انھیں لکھنے کی تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ قرآن و احادیث میں جو احکام موجود ہیں وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔
ایک اور روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”والذي نفسي بيده! لأقضين بينكما بكتاب الله جل ذكره المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا أنيس على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها“
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اللہ جل ذکرہ کی کتاب کے مطابق تمھارے درمیان فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تجھے واپس کیا جائے گا اور تیرے بیٹے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔ اے انیس! صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جانا، اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دینا۔“
صحيح البخاري، الحدود، باب الاعتراف بالزنا، حديث: 6828
اس حدیث میں بھی کتاب اللہ سے مراد وہ حکم شرعی ہے جو صحیح حدیث میں موجود ہے۔
◈نوٹ: کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی ہے جبکہ احادیث شرعی حکم کی وجہ سے کتاب اللہ ہیں، کلام اللہ نہیں۔ کلام اللہ کے لیے شرط ہے کہ اس کے الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہوں جبکہ کتاب اللہ کے لیے یہ شرط نہیں۔
مزید برآں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز لکھوانا چاہتے تھے وہ آپ نے بیان بھی فرما دی تھی، جیسا کہ حدیث سے واضح ہے، لہذا ہم اصل حقیقت سامنے لانے کے لیے وہ متن پیش کرتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمعرات کا دن، کیا ہے جمعرات کا دن؟ پھر رونے لگے یہاں تک کہ انھوں نے نیچے پڑی ہوئی کنکریوں کو آنسوؤں سے تر کر دیا، پھر فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”ایک کتاب (لکھنے کی کوئی چیز) لاؤ کہ میں تمھارے لیے کچھ لکھوں۔ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔“ لیکن وہاں موجود صحابہ کرام نے اختلاف کیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بدل گئی۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے میری حالت پر چھوڑ دو۔ میری یہ حالت اس چیز سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔“ پھر آپ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی: ➊ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ ➋ وفد کو عطیہ دو جیسا کہ میں دیتا ہوں جبکہ تیسری چیز کے بارے میں راوی بھول گیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لکھوانا چاہتے تھے وہ زبانی طور پر بیان کر دیا اور دین میں کوئی نقص اور کمی نہیں چھوڑی۔
صحيح البخاري، العلم، باب كتابة العلم، حدیث: 114 ، نیز یہ حدیث امام بخاری نے متعدد مقامات پر نقل کی ہے اور ان سب کا خلاصہ یہاں مذکور ہے، اس لیے مزید دیکھیے : حدیث نمبر: 3053 و3168 و 4431 و 4432 و 5669 و 7366