شراب دوا نہیں بلکہ بیماری ہے :
مذکورہ نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے شراب کے خلاف زبردست جنگ آرائی کی، مسلمانوں کو اس سے یکسر روک دیا اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی۔ اسلام میں نہ تھوڑی سی شراب پینا روا ہے، نہ خرید و فروخت کا معاملہ کیا جا سکتا ہے، نہ ہدیہ کے طور پر شراب پیش کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو بنانا جائز ہے۔ اسی طرح اپنی تجارت گاہ یا اپنے گھر میں شراب رکھنا بھی جائز نہیں اور نہ ہی جشن وغیرہ کی محفلوں میں پیش کرنے اور غیر مسلم مہمانوں کی اس سے تواضع کرنے اور ماکولات و مشروبات میں اس کی آمیزش کرنے کے لیے کوئی وجہِ جواز ہے۔
رہا دواء کے طور پر شراب کے استعمال کا مسئلہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے پوچھنے پر اس سے بھی منع فرمایا :
إنه ليس بدواء ولكنه داء
”شراب دواء نہیں بلکہ بیماری ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الأشربة، باب تحريم التداوي بالخمر، رقم الحديث: 1984۔ مسند أحمد بن حنبل (311/4) رقم الحديث: 18787۔ سنن أبي داؤد، کتاب الطب، باب في الأدوية المكروهة، رقم الحديث: 3873۔ سنن ابن ماجة، کتاب الطب، باب النهي أن يتداوى بالخمر، رقم الحديث: 3500
نیز فرمایا :
إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تتداووا بحرام
”اللہ نے بیماری اور دواء (علاج) دونوں چیزیں نازل کی ہیں اور تمہارے لیے بیماری کا علاج بھی رکھا ہے لہذا علاج کرو لیکن حرام چیز سے علاج نہ کرو۔“
ضعیف۔ سنن أبي داؤد، کتاب الطب، باب في الأدوية المكروهة، رقم الحديث: 3874۔ السنن الكبرى للبيهقي (10/5)۔ نصب الراية للزيلعي (285/4)۔ شرح السنة للبغوي كتاب الطب والرقي، باب الدواء 139/12 ، رقم الحديث: 3226 ، كنز العمال للمفتى الهندى 53/10 ، رقم الحديث : 28324
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نشہ آور چیزوں کے بارے میں فرماتے ہیں :
إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
”اللہ نے اپنی حرام کردہ چیزوں میں تمہارے لیے شفاء نہیں رکھی ہے۔“
بخاری کتاب الاشربة باب شراب الحلواء والعسل تعليقاً قبل ح : 5614 ـ ووصله احمد في كتاب الاشربة ح (130) والحاكم في المستدرك (218/4)
علاج معالجہ کے لیے شراب اور دیگر محرمات کو اسلام نے جو حرام قرار دیا ہے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ کے بقول کسی چیز کی حرمت اس بات کی مقتضی ہوتی ہے کہ اس سے بالکل اجتناب اور دُوری اختیار کی جائے۔ اگر بغرض علاج اس کو استعمال کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہوتی تو اس سے رغبت اور اختلاط پیدا ہو جانے کا اندیشہ تھا، جو شارع کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔
موصوف مزید فرماتے ہیں : ”علاج کے لیے اگر شراب کو مباح کر دیا جاتا تو وہ شہوت و لذت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی تھی، خصوصاً جبکہ لوگ اسے مفید اور موجب شفاء خیال کرتے۔“
ابن قیم رحمہ اللہ نے ایک اہم نفسیاتی پہلو کی طرف بھی متوجہ کیا ہے فرماتے ہیں :
دواء سے شفاء حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے قبولیت کے ساتھ استعمال کیا جائے یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہ وہ مفید ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے جو شفاء رکھی ہے اس کی برکت حاصل ہوگی، لیکن ایک مسلمان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ شراب عین حرام ہے اور یہ اعتقاد اس کے مفید اور ذریعہ شفاء ہونے کے منافی ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ نہ شراب کے بارے میں اچھا گمان پیدا ہوسکتا ہے اور نہ اسے قبولیت کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ بندہ ایمان میں جتنا پختہ ہوگا اتنا ہی وہ شراب سے نفرت کرے گا اور اسے بُرا اور ناگوار خیال کرے گا۔ ایسی صورت میں شراب کا استعمال اس کے لیے بیماری کا باعث ہوگا نہ کہ دواء کا۔
ملاحظہ ہو : زاد المعاد – ج 3 ص 115 – 116
اس کے باوجود شریعت کی نظر میں مجبوری ایک حقیقت ہے جس کی مناسبت سے الگ احکام ہیں۔ فرض کیجئے ، شراب یا کوئی ایسی چیز جس میں شراب ملائی گئی ہو کسی ایسے مرض کا واحد علاج قرار پائے جس میں انسانی زندگی خطرہ میں پڑ گئی ہو اور کوئی ایسی دواء نہ مل سکتی ہو جو اس سے بے نیاز کر دے اور میں نہیں سمجھتا کہ ایسی صورت ممکن ہے اور یہ دوا تجویز کرنے والا مسلمان ماہر طبیب ہو جو دین کے معاملہ میں غیرت مند بھی ہو تو ایسی صورت میں شریعت کے اصول جو آسانی پیدا کرنے اور حرج کو رفع کرنے پر مبنی ہیں، اس کے استعمال سے نہیں روکتے بشرطیکہ یہ استعمال ممکنہ حد تک محدود دائرہ کے اندر ہو۔
ارشاد الہی ہے :
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
”پھر جو مجبور ہو جائے بغیر اس کے کہ وہ اس کا چاہنے والا ہو یا حد سے تجاوز کرنے والا تو تمہارا رب غفور و رحیم ہے۔“
(البقرة : 173/2)