مسجد نبوی، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

حق و باطل میں فرق کیا جائے :

پس دین رسول اللہ کی تابعداری کا نام ہے۔ جس کا حکم دیں اس پر عمل کیا جائے اور جس سے منع فرما دیں اسے ترک کر دیا جائے۔ اور جن اعمال و اشخاص سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول محبت رکھیں ان سے محبت کی جائے اور جن سے بغض رکھیں ان سے عداوت کی جائے۔ رب ذوالجلال نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقان (قرآن) سے نوازا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق و باطل میں فرق واضح کر دیا۔ اب کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جن دو چیزوں میں رسول اللہ نے تفریق کی ہے ان کو جمع کرے۔
پس جس شخص نے مسجد الحرام یا مسجد اقصی یا مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے سفر کیا اور مسجد نبوی اور مسجد قباء میں جاکر نماز ادا کی اور سنت نبوی کے مطابق قبرستان کی زیارت بھی کی تو اس نے اچھا عمل کیا۔ اور جو شخص ایسے سفر کا انکار کرے وہ کافر ہے اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔