موالاتِ کفار کے دنیاوی و اخروی نتائج: قرآن و سنت کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی "کتاب الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کفار سے دوستی کی دنیا میں سزا

کفار چونکہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اس لئے ان سے دوستی کرنا دراصل اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنا ہے۔ کفار کے مطالبات تسلیم کرنا، دراصل اللہ کے دشمنوں کے مطالبات تسلیم کرنا ہے۔ کفار کے مفادات کا تحفظ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے جس کی دنیا میں بھی شدید ترین سزا ہے اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ شدید۔ ہم قرآن مجید کی آیات کے حوالہ سے ان دونوں سزاؤں کایہاں الگ الگ تذکرہ کررہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والے سعید فطرت لوگ اپنے آپ کو اس فتنہ عظیم سے محفوظ رکھنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ کفار سے دوستی کی دنیا میں درج ذیل پانچ سزائیں ہیں.

① اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے محرومی:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی انہیں اپنا دوست بنائے گا اس کا شمار بھی انہیں میں سے ہوگا، بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔ (سورۃ المائدۃ:51)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جو لوگ اسلام دشمن کافروں سے دوستی کریں گے اللہ تعالیٰ ان ظالموں کی راہنمائی نہیں فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے محرومی کے بعد کون ہے جو کسی قوم کو خوشحالی یا کامیابی کا راستہ دکھا سکے؟ عبرت کے لئے بنی اسرائیل کا واقعہ یاد کر لیجئے جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکلے تو بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں خیمہ زن ہوئے، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب تم لوگ ارض مقد س یعنی فلسطین پر فوج کشی کرو تم لوگ فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوگے، بنی اسرائیل نے جہاد کرنے سے انکار کردیا، کہنے لگے [فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ] اے موسیٰ تو اور تیرا رب جا کر جہاد کر ہم تو یہیں بیٹھتے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ:24)
❀ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس نافرمانی کی سزا یہ دی کہ اپنی رہنمائی سے محروم فرما دیا۔ ارشاد فرمایا: [قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیۡہِمۡ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۚ یَتِیۡہُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ] وہ ارض مقدس چالیس سال کے لئے تم پر حرام کردی گئی اب اسی صحرا میں سرگرداں پھرتے رہو گے۔ (اے موسیٰ!) اب ایسے نافرمانوں کی حالت پر غم نہ کرنا۔ (سورۃ المائدۃ:26)
❀ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے محروم ہونے کے بعد چھ لاکھ افراد پر مشتمل یہ قوم صرف نوے(90) میل لمبے اور ستائیس(27) میل چوڑے علاقہ سے مسلسل چالیس سال تک نکلنے کا راستہ تلاش کرتی رہی لیکن تلاش نہ کر سکی وہی جگہ جہاں سے بیسیوں مرتبہ گزر کر وہ اپنے ملک مصر جاچکے تھے، واپس مصر جانے کے لئے راستہ تلاش کرتے تو مصر کا راستہ بھی نہ پا سکے۔ ہوتا یہ کہ سارا دن سفر کرتے رہتے جب شام ہوتی تو معلوم ہوتا کہ پھر پھرا کر وہیں آگئے ہیں جہاں صبح کے وقت تھے۔ ان چالیس سالوں کے دوران سیدنا ہارون علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل کے وہ بزدل افراد، جو جہاد سے جی چرانے والے تھے، مر کھپ گئے، جذبہ جہاد سے سرشار نئی نوجوان نسل تیار ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا ان کی قیادت میں مجاہدین نے فوج کشی کی اور فاتح کی حیثیت سے ارض مقدس میں داخل ہوئے۔ [معارف القرآن: تفسیر سورۃ المائدۃ، آیت: 26]
❀ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کا اپنی راہنمائی سے محروم فرما دینا، بڑی سخت سزا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے محروم ہونے کے بعد وہ قوم یقینا اسی طرح بے منزل، بے ٹھکانہ اور بے مقصد سرگرداں پھرتی رہے گی جس طرح بنی اسرائیل پھرتی رہی۔ [مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ] اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ (سورۃ الاعراف:186)

② اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محرومی:

اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستی اور اتحاد کرنے کی دوسری سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اپنی نصرت سے محروم کردیتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اگر تم نے علم آجانے کے بعد یہود ونصاریٰ کی خواہشات کی پیروی کی تو تجھے اللہ تعالیٰ کی پکڑسے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار نہیں ہوگا۔ (سورۃ البقرۃ:120)
اللہ تعالیٰ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کی باتیں مانیں اور ان کے مطالبات تسلیم کئے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جاؤ گے اور کوئی دوسرا تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔
❀ دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اہل ایمان، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ (سورۃ آل عمران:28)

جس قوم سے اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اٹھالیں اور اپنا تعلق ختم کرلیں اور اپنی راہنمائی سے محروم کر دیں اس کی مثال اس شخص سے مختلف کیسے ہو سکتی ہے جو اندھا بھی ہو، بہرا بھی ہو، گونگا بھی ہو اور کوئی دوسرا اس کی مدد کرنے والا بھی نہ ہو کیا ایسا شخص کبھی اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کا تصور کرسکتا ہے؟

③ خسارہ ہی خسارہ:

❀ یہ کفار سے دوستی کرنے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے کی تیسری سزا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر تم کفار کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم خسارہ پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ (سورہ آل عمران:149)

خسارے میں مبتلا ہونے سے مراد یہاں زندگی کے کسی ایک پہلو میں خسارہ نہیں بلکہ ہر طرح کا خسارہ ہے۔ عقائد اور نظریات میں خسارہ، تہذیب و تمدن اور طرز معاشرت میں خسارہ، اخلاق اور کردار میں خسارہ، عزت اور وقار میں خسارہ، امن اور سلامتی میں خسارہ، معاشی اور اقتصادی خسارہ، غرض زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں رہے گا جس میں مسلمان خسارے سے دوچار نہ ہوں۔ خسارے کے بارے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ خسارے کا مطلب ہمیشہ اعدادو شمار کا خسارہ نہیں ہوتا عین ممکن ہے اعداد و شمار کے اعتبار سے ملک کا خزانہ بھرا ہوا ہو لیکن اس کے مقابل آفات سماوی، طوفان، زلزلے، بیماریاں، قحط سالی وغیرہ اس کثرت سے آئیں کہ بھرا ہوا خزانہ بھی ان سے نمٹنے کے لئے ناکافی ہو۔ ایسی صورت حال بھی درحقیقت خسارہ ہی ہے جو اعداد وشمار میں نظر آنے والے خسارے سے کہیں زیادہ خطرناک خسارہ ہے۔ جس قوم کو اللہ تعالیٰ خسارے سے دوچار کردے اسے ساری دنیا مل کر بھی نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی۔

❀ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ نصیحت فرمائی تھی: اللہ تعالیٰ کے احکام کی حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کر تُو اسے اپنے پاس پائے گا۔ سوال کرنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے کر۔ مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگ اور اچھی طرح جان لے اگر سارے لوگ تجھے نفع پہنچانے کے لئے اکٹھے ہو جائیں تو کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر سارے لوگ تجھے نقصان پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوجائیں تو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ (ترمذی:2516)

④ ذلت اور رسوائی:

کفار سے دوستی کی چوتھی سزا دنیا میں ذلت اور رسوائی ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جو لوگ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان سے عزت حاصل کرنے جاتے ہیں؟ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ (سورۃ النساء:139)
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کفار سے دوستی اور اتحاد کر کے ہمیں عزت اور وقار حاصل ہوگا اللہ تعالیٰ انہیں خبردار فرمارہے ہیں، سنو! عزت اور ذلت میرے ہاتھ میں ہے عزت اور وقار کا مالک میں ہوں، لہٰذا جو لوگ میرے دشمنوں سے دوستی کر کے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ذلیل اور رسوا ہوں گے اور وقار وہی پائے گا جو میری طرف رجوع کرے گا [وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ] جسے اللہ ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ (سورۃ الحج:18)
یہ بات یاد رہے کہ کفار کی اس دنیا میں شان و شوکت اور عزت بالکل عارضی اورنا پائیدار ہے اس سے کسی مسلمان کو دھوکہ نہیں کھانا چاہئے اس دنیا کے بعد آخرت میں ان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت اور رسوائی ہوگی، لہٰذا ان سے حاصل کی ہوئی عزت اور وقار بھی عارضی اور ناپائیدار ہوگا۔ پھر آخرت میں ان کفار کے ساتھ ان کے دوستوں کے لئے بھی ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت اور رسوائی ہوگی جبکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عزت دنیا سے لے کر آخرت تک دائمی اور حقیقی عزت ہے جس کے بعد کسی کو ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

❀ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: [اِنَّہٗ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَ لاَ یُعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ] بے شک جسے اللہ دوست رکھے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس سے اللہ تعالیٰ دشمنی رکھے وہ کبھی عزت حاصل نہیں کرتا۔ (جامع الترمذی:464)

⑤ ندامت اور پشیمانی:

کفار سے دوستی کرنے والوں کے لئے پانچویں سزایہ ہے کہ انہیں اس دنیا میں ہی کفار سے دوستی پر ندامت اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ کافروں (کے ساتھ دوستی کرنے میں) دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ (اس کے بغیر) ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ بعید نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کن فتح عطا فرمادے یا اپنی طرف سے کوئی اور (نصرت کی) بات ظاہر فرمادے تو پھر یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے وہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں۔ (سورۃ المائدۃ:52)
❀ آیت کریمہ میں ان مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اپنے آپ کو کسی مصیبت سے بچانے کے لئے کافروں سے دوستی کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر ہم کسی نہ کسی مصیبت میں پھنس جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ہم اہل ایمان کی نصرت کریں گے اور انہیں فتح عطا فرمائیں گے۔ اس وقت یہ لوگ یقینا ندامت اور پشیمانی سے دوچار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور سچ ہے۔ جس طرح رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا لازمی امر ہے اسی طرح مجاہدین کی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی نصرت کا آنا اور حالات کا بدلنا لازمی امر ہے۔ اُس وقت رات کی تاریکی پر خوش ہونی والے اور طلوع سحر کا انکار کرنے والے یقینا نادم اور شرمندہ ہوں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ کفار سے دوستی کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ پانچ سزائیں دنیا میں رکھی ہیں:

① اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے محرومی
② اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محرومی
③ ہر لحاظ سے خسارہ ہی خسارہ
④ ذلت اور رسوائی
⑤ ندامت اور پشیمانی

❀ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کسی تصدیق یا تائیدکے محتاج نہیں [وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیۡلًا] اپنی بات میں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچاکون ہوگا؟ (سورۃ النساء:122)

❀ تاہم وطن عزیز نے گزشتہ 11 ستمبر کے بعد کفار کے ساتھ دوستی کا جو نیا سفر شروع کیا ہے اس کے نتائج دیکھ کر ہر صاحب بصیرت یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ زمینی حقائق کے مقابلہ میں آسمانی حقائق کس قدر ٹھوس اور سچے ہیں۔ لمحہ بھر کے لئے پاکستان کی مشرق اور مغرب، جنوب اور شمال کی سرحدوں پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجئے اور اندرون ملک دینی، سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے نیز امن و سلامتی کے حوالے سے حالات کا جائزہ لے کر غور فرمائیے مذکورہ بالا پانچ سزاؤں میں سے کون سی ایسی سزا ہے جس سے آج پاکستان بچا ہوا ہے؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور تاریخ کی شہادت سے کوئی سبق حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں یا ہمارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں [اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا] کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ (سورۃ محمد:24)

کفار سے دوستی کی آخرت میں سزا:

کفار سے دوستی اور تعاون کرنے والوں کے لئے آخرت میں سزا سے متعلق چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں:
① وہ لوگ جو اہل مومن کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں ایسے منافقوں کو عذاب الیم کی بشارت دے دو۔ (سورۃ النساء:139-138)
② آج تم بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کو چھوڑ کر) کفار کو اپنا دوست بناتے ہیں یقینا بہت ہی برا ہے جو انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجا ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ:80)
③ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو (عذاب کے لئے) کھلا کھلا ثبوت مہیا کردو۔ (سورۃ النساء144)
④ کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ایسے گروہ کو جن پر اللہ کا غضب ہوا، یہ لوگ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے، یہ جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں (ان کے لئے) بہت ہی برا ہے۔ (سورۃ المجادلہ15-14)
مذکورہ بالا آیات سے درج ذیل تین باتیں معلوم ہوتی ہیں:
① کفار سے دوستی کرنے پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوتے ہیں۔
② کفار سے دوستی کرنے والے منافق ہیں۔
③ کفار سے دوستی کرنے والوں کے لئے آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب الیم ہے۔
❀ کفار سے دوستی کرنے والے اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کفار سے تصادم کا پر خطر راستہ اختیار نہ کرکے بڑی کامیاب حکمت عملی اختیار کی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور کفر کی درمیانی راہ اختیار کرنے کی اس حکمت عملی کو نفاق قرار دیا ہے جس کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں کفر سے بھی زیادہ سخت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ نَصِیۡرًا] ترجمہ: یقین کرو منافقین جہنم میں سب سے نچلے طبقہ میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے۔ (سورۃ النساء:145)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر کے حوالہ سے فرماتے ہیں: کہ منافقین کو آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے۔ [تفسير الطبري: سورۃ النساء:145]
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے پھر کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح مدد کرے او رجہنم سے نکال سکے۔ [تفسير الطبري: سورۃ النساء:145]
❀ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عبداللہ بن ابی اسلام لانے کے باوجود کفار سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا اور اس نے ایک بار نہیں کئی بار مسلمان ہوتے ہوئے کفار کے مفادات کا تحفظ کیا۔ [مثال کے طور پر ملاحظہ ہو غزوہ بنو قینقاع اور غزوہ بنو قریظہ کے مفصل حالات]
جب وہ مرا تو اس کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جو مخلص اور سچے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی) کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ کی دلجوئی کے لئے اور از راہ ترحم نماز جنازہ پڑھا دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ [وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ] ان منافقوں میں سے اگر کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر (دعا کے لئے) کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا ہے اور اس حال میں مرے ہیں کہ فاسق تھے۔ (سورۃ التوبہ:84)
منافقین کے بارے میں یہ آیت تو اس واقعہ سے پہلے ہی نازل ہو چکی تھی [اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ] (اے نبی!) آپ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں (برابر ہے) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعا کریں گے تو اللہ انہیں معاف نہیں فرمائے گا۔ (سورۃ التوبہ80)

❀ عبداللہ بن ابی کے واقعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ منافقین قیامت کے روز رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بھی محروم رہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کا غضب … رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی…، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم اور جہنم میں عذاب الیم۔ یہ ساری سزائیں ہوں گی قیامت کے روز ان نام نہاد مسلمانوں کے لئے جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار سے دوستی کرتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں اس بدترین انجام کو جان لینے کے باوجود جو حضرات یہ کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ کفار سے دوستی میں فائدے ہی فائدے ہیں۔
❀ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں: وزارت خارجہ کی خفیہ رپورٹ ملاحظہ ہو: اسرائیل کو تسلیم کرنے میں فائدے ہی فائدے ہیں نقصان کوئی نہیں، بے شمار سیاسی، اقتصادی اور فوجی فوائد کے علاوہ مغرب کی جارحانہ پالیسی کم اور سرمایہ کاری بڑھے گی، بھارت اسرائیل فوجی تعاون پر چیک رہے گا۔ (نوائے وقت، 14جولائی 2003ء)

❀ ان کے بارے میں قرآن مجید کے اس تبصرہ سے بہتر تبصرہ کون کر سکتا ہے [لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ] ترجمہ: ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن یہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں لیکن یہ ان سے سنتے نہیں، ایسے لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (سورۃ الاعراف:179)

دنیا اور آخرت کی ان سزاؤں کے حوالہ سے آخر میں ہم یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارا رب بڑا ہی رحیم و کریم ہے، بڑا ہی بخشنہار اور پردہ پوش ہے اس نے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے جو بھی اس کے دروازے پر حاضر ہوتا ہے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، بڑے سے بڑے نافرمان اور سرکش کو بھی اس کی رحمت مایوس نہیں ہونے دیتی، وہ نہ صرف توبہ قبول کرتا ہے بلکہ اپنے گنہگار بندوں کی توبہ پر خوش ہوتا ہے۔ اگر ہم ندامت اور پشیمانی کے ساتھ اس کے دروازے پر حاضر ہوجائیں اور اس کے رحم و کرم کی بھیک مانگیں تو وہ یقینا ہمارے گناہ معاف فرمادے گا وہ ہماری ذلت کو عزت سے بدل دے گا، خوف کی جگہ امن عطا فرما دے گا، خساروں کو نفع میں بدل دے گا، ہمارے بے راہرو کارواں کی راہنمائی فرمائے گا، ہماری بے بسی اور ناتوانی کو قوت اور توانائی سے نواز دے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخرت میں ہمارے گناہ معاف فرما دے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ سودا کرنے کے لئے تیار بھی ہیں؟