نیک اعمال کی حفاظت کرنے کا ثواب
نیکی کرنے کے بعد اس کی حفاظت ضروری ہے، تب جا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی امید ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ﴾
”اور وہ لوگ جو بھی بھلائی کریں گے اس کے اجر و ثواب کے لیے ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے۔“
(3-آل عمران:115)
عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا عبد الله ! لا تكن مثل فلان، كان يقوم من الليل فترك قيام الليل
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا (نوافل وغیرہ پڑھتا) تھا پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔“
صحيح بخاري، كتاب التهجد، باب ما يكره من ترك قيام الليل، رقم: 1152۔ صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضر ربه أو فوت به حقا، رقم: 1159/185.
نیک اعمال کی حفاظت بہت ضروری ہے، ورنہ ایک طرف سے جگ میں پانی ڈالتے رہیں، دوسری طرف سوراخ سے نیچے گرتا رہے تو پانی جمع نہیں ہوگا، اسی طرح نیکیوں کی حفاظت تب ہی ہو گی جب وہ اعمال نہ کے جائیں جس سے نیکیاں ختم ہو جاتی ہیں یا برائیاں نیکیوں سے بڑھ جانے کا خدشہ ہو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أحب الأعمال إلى الله تعالى أدومها وإن قل .
”اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ اعمال وہ ہیں، جن پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگر چہ وہ کم ہوں۔“
صحیح مسلم صلاة المسافرين باب فضيلة العمل الدائم من قيام الليل، رقم: 783 .