بچے کا نام کب رکھا جائے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

نام اور کنیت رکھنے کے متعلق احکام و مسائل

نام کب رکھا جائے؟

دنیا کے ہر معاشرے میں مجموعی طور پر ایک عادت اور معمول چلا آ رہا ہے کہ پیدائش کے بعد بچے کے والدین اس کے لیے بہترین نام منتخب کراتے ہیں تاکہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لیے بچے کی تمیز و شناخت ممکن ہو سکے۔ اسلام چونکہ زندگی کے ہر شعبے اور ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے، اس لیے اس نے بھی اس عمل کو سراہا اور اسے اچھی خصلت قرار دیا ہے۔ نیز اس کے بارے میں بہت سے ایسے احکام جاری کیے ہیں جن سے اس عادت کی اہمیت و ضرورت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔
امت مسلمہ کو اسلام نے ان تمام مسائل و احکام سے آگاہ کر دیا ہے جن کا تعلق نومولود بچے سے ہے اور ان خصائل و عادات سے روشناس کروایا ہے جن کی بدولت بچے کو نہ صرف معاشرے میں قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے بلکہ ان سے بچے کی تربیت اور پرورش میں بھی مدد ملتی ہے۔ اب ہم بچے کا نام رکھنے کے متعلق شریعت کے متعین کردہ چند احکام و مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں۔
پیدائش کے بعد ساتویں دن بچے کا نام رکھنا مشہور و معروف ہے لیکن بعض احادیث سے اس سے قبل بھی نام رکھنے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے لہذا اگر اس میں تھوڑی بہت تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل غلام رهين بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويسمى
ہر بچہ اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہوتا ہے جسے اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور نام رکھا جائے۔
سنن أبي داود، الضحايا، باب في العقيقة، حديث : 2838 و جامع الترمذي، الأضاحى، باب من العقيقة، حديث : 1522
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کا نام ساتویں دن رکھا جائے لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام پہلے دن بھی رکھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أتي بالمنذر بن أبى أسيد إلى النبى صلى الله عليه وسلم حين ولد، فوضعه على فخذه وأبو أسيد جالس … فلها النبى صلى الله عليه وسلم بشيء بين يديه، فأمر أبو أسيد بابنه فاحتمل من فخذ النبى فاستفاق النبى صلى الله عليه وسلم فقال: أين الصبي؟ فقال أبو أسيد : قلبناه يارسول الله ، قال : ما اسمه؟ قال: فلان، قال : ولكن اسمه المنذر
منذر بن ابو اسید جب پیدا ہوا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ نے اسے اپنی ران مبارک پر بٹھا لیا۔ اس کا باپ ابو اسید وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی اثنا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے والی جانب کسی کام میں مشغول ہوئے اور بچے کی طرف سے توجہ ہٹ گئی تو ابو اسید نے کسی کو اپنے بیٹے کے بارے میں حکم دیا چنانچہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھالیا گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابو اسید نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے اسے واپس بھیج دیا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ بچے کا نام کیا ہے؟ ابو اسید نے کہا کہ اس کا فلاں نام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے۔
صحيح البخاري، الأدب، باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه، حديث: 6191 و صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنيك المولود. حديث: 2149
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولد لي الليلة غلام، فسميته باسم أبى إبراهيم
آج رات میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام اپنے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے۔
صحیح مسلم ،الفضائل، باب رحمته ﷺ الصبيان حديث: 2315 و سنن أبى داود، الجنائز، باب فى البكاء على الميت حديث : 3126
❀ خلاصہ: مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے نام رکھنے کے معاملے میں وسعت ہے لہذا بچے کی ولادت کے پہلے دن اس کا نام رکھنا بھی جائز ہے اور اسے تین دن تک یا عقیقہ کے دن یعنی ساتویں دن تک مؤخر کرنا بھی جائز ہے نیز اس سے قبل اور اس کے بعد بھی نام رکھا جا سکتا ہے۔