جانور ذبح کرنے کا مسنون طریقہ: قبلہ رخ کرنا، لٹانا اور پہلو پر قدم رکھنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ذبح کے وقت ذبیحہ کا منہ قبلہ رخ کرنا

ذبح کے وقت ذبیحہ کو قبلہ رخ کرنا اور حسبِ ذیل دعا کا اہتمام مسنون و مستحب فعل ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو خصی مینڈھے ذبح کیے، پھر جب انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ کلمات کہے:
إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك عن محمد وأمته بسم الله والله أكبر، ثم ذبح
”میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکین سے نہیں ہوں، بلاشبہ میری نماز، میری قربانی میرا جینا اور میرا مرنا، اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس بات کا حکم دیا گیا ہوں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تجھ سے ہے اور تیرے لیے محمد اور اس کی امت کی طرف سے ہے، اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا۔
حسن : سنن أبي داؤد، كتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا: 2795۔ سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب أضاحي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : 3121۔ مستدرك حاكم: 167/1۔ صحیح ابن خزیمه: 2899

فوائد:

① جانور ذبح کرتے وقت اسے قبلہ رخ کرنا مستحب فعل ہے، ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ذبیحہ کو قبلہ رخ کرنا مستحب فعل ہے، لیکن اگر ذبح کے وقت صرف بسم اللہ پر اکتفا کیا جائے اور جانور کو قبلہ رخ نہ کیا جائے تو یہ افضل فعل کا ترک کرنا ہے۔
قاسم بن محمد، نخعی، ثوری، شافعی اور ابن منذر اسی موقف کے قائل ہیں۔ رائج مسئلہ یہ ہے کہ جانور کو ذبح کے وقت قبلہ رخ کرنا مستحب فعل ہے واجب نہیں، کیونکہ وجوب کی کوئی دلیل موجود نہیں۔
المغني لابن قدامه: 182/7۔
② قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر کے مذکورہ آیت اور ذکر کی تلاوت مستحب فعل ہے۔
نيل الأوطار: 129/5۔

اونٹ کے علاوہ جانوروں کو لٹا کر ذبح کرنا

اونٹ کے سوا گائے، بھیڑ اور بکری کو بائیں جانب لٹا کر ذبح کرنا مسنون فعل ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی:
وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھے کو لٹایا پھر اسے ذبح کیا۔
صحیح مسلم : 1967۔ سنن أبی داؤد: 2792۔ صحیح ابن حبان: 5915۔ سنن بیهقی : 286/9۔

فوائد:

امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
و فيه استحباب إضجاع الغنم فى الذبح، وأنها لا تذبح قائمة ولا باركة، بل مضجعة لأنه أرفق بها، و بهذا جاءت الأحاديث و أجمع المسلمون عليه، واتفق العلماء و عمل المسلمين على أن إضجاعها يكون على جانبها الأيسر لأنه أسهل على الذابح فى أخذ السكين باليمين وإمساك رأسها باليسار
”یہ حدیث دلیل ہے کہ ذبح کے وقت بھیڑ بکری کو لٹانا مستحب فعل ہے اور بھیڑ بکری کو کھڑے یا بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے بلکہ اسے لٹا کر ذبح کرنا چاہیے، کیونکہ ذبح کا یہ طریقہ بھیڑ اور بکری کے لیے راحت بخش ہے۔ “
اس مفہوم کی کئی احادیث وارد ہوئی ہیں اور اہل اسلام کا بھی اس پر اجماع ثابت ہے، پھر اہل علم اور اہل اسلام کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بھیڑ اور بکری کو ذبح کے وقت بائیں جانب لٹانا چاہیے اس لیے کہ اس طریقہ ذبح سے ذبح کرنے والے کے لیے دائیں ہاتھ سے چھری پکڑنا اور بائیں ہاتھ سے جانور کا سر تھامنا آسان ہو جاتا ہے۔
شرح النووي : 122/13۔ نيل الأوطار: 129/5۔

ذبیحہ کے پہلو پر قدم رکھنا

ذبح کرتے وقت ذبیحہ کے پہلو پر قدم رکھنا مستحب فعل ہے اور یہ عمل جانور کو قابو رکھنے اور اچھے طریقے سے ذبح کرنے میں ممد و معاون ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين، فرأيته واضعا قدمه على صفاحهما
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم ان کے پہلوؤں پر رکھا تھا۔
صحيح بخارى، كتاب الأضاحي، باب من ذبح الأضاحي بيده: 5058۔ صحیح مسلم كتاب الأضاحي، باب استحباب استحسان الضحية: 1966۔ سنن نسائی، كتاب الضحايا، باب وضع الرجل على صفحة الضحية: 4420۔ سنن ابن ماجه، کتاب الأضاحي، باب أضاحي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : 3120۔

فوائد:

بھیڑ اور بکری کو ذبح کرتے وقت اس کے پہلو پر قدم رکھنا مسنون فعل ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل اس لیے کیا تاکہ جانور کو مضبوطی سے قابو کیا جائے اور چھری پھیرتے وقت ذبیحہ سر کو زیادہ نہ ہلائے اور ذبیحہ کے پھڑ پھڑانے سے مکمل ذبح کرنا مانع نہ ہو اور ذبح کرنے والے کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
شرح النووى : 121/13۔