تین مساجد کے سوا سفرِ زیارت منع ہے :
پس جس شخص نے بیت اللہ کے علاوہ دوسری جگہ کی طرف سفر کیا اور وہاں غیر اللہ کو پکارا تو اس نے اپنی نماز اور عبادت کو غیر اللہ کے لیے ادا کیا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مساجد کے علاوہ کسی بھی دوسری مسجد کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، بشرطیکہ اس کی طرف سفر کرنے کی کوئی خاص وجہ نہ ہو سوائے تین مساجد کے، کیونکہ ان تینوں مساجد کو انبیاء علیہم السلام نے تعمیر کیا تھا اور ان کی طرف سفر کرنے کی عام لوگوں کو دعوت بھی دی تھی۔ پس ان تین مساجد کو ایک خاص خصوصیت حاصل ہے جو دوسری مساجد کو حاصل نہیں، پس ان تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی طرف سفر کرنا باتفاقِ ائمہ اربعہ مسنون نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
پس ایسے فوت شدگان جن کی قبروں کو عبادت گاہ، وثن اور میلے کی جگہ بنا لیا گیا ہو ان کی طرف سفر کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ اور طرفہ یہ کہ ان کو اللہ کا شریک اور مشکل کشا سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ ان کی اکثریت حجِ بیت اللہ کو اتنا درجہ نہیں دیتی جتنا کہ ان کی قبروں پر حاضری کو دیا جاتا ہے! شرک اور قبروں کی پوجا کو توحید اور اللہ کی عبادت سے افضل ترین قرار دے لیا گیا ہے جیسا کہ آج کل مشرکوں کا حال ہے۔ شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾ إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ اللَّهُ
”اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں اور باغی شیطان کو پکارتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔“
(4-النساء:116-118)