مضمون کے اہم نکات
کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں
دین کی اساس اور بنیاد وحی پر ہے، وحی قرآن وحدیث کا نام ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
[وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]
’’وہ (نبی کریم ﷺ اپنی) خواہش سے نہیں بولتے، بلکہ وہی بات کرتے ہیں، جو انہیں وحی کی جاتی ہے۔‘‘ (النجم: 3۔4)
❀ اس آیت کریمہ کے عموم سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دین کے بارے ساری کی ساری باتیں اللہ کی وحی ہیں۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
’’یقیناً وہ وحی ہے، جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘ اس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر دو قسم کی وحی ہوتی ہے۔ ایک وحی وہ ہے، جس کی تلاوت کی جاتی ہے، جو کہ تالیف کی گئی ہے اور اس کا نظم معجزاتی ہے، یہ قرآنی وحی ہے۔ دوسری وحی روایت ہوئی ہے، تالیف نہیں ہوئی، اس کا نظم معجزاتی ہے، نہ وہ تلاوت کی جاتی ہے، لیکن اس کو پڑھا جاتا ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے وارد ہونے والی خبر ہے اور وہ اللہ کی مراد بیان کرنے والی وحی ہے۔[الاحکام فی اصول الاحکام:1/97]
علامہ رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
النطق وهو كلام وقول فكأنه تعالىٰ يقول: وما كلامه وهو نطقه إلا وحي.
(آیت میں) نطق سے مراد کلام اور قول ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا کلام و نطق صرف اور صرف وحی ہے۔ [تفسیر الرازی: 235/28]
علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
فيها أيضا دلالة علىٰ أن السنة كالوحي المنزل في العمل.
اس آیت میں دلیل ہے کہ عمل کرنے میں حدیث وحیِ منزل (قرآن) کی طرح ہے۔ [تفسیر القرطبی: 85/17]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
ما يقول قولا عن هوىٰ وغرض، [اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی] أي إنما يقول ما أمر به، يبلغه إلى الناس كاملا موفرا من غير زيادة ولا نقصان.
’’نبی کریم ﷺ خواہش یا لالچ سے نہیں بولتے۔ ’’بلکہ وہ تو وحی ہوتی ہے، جو آپ کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی نبی کریم ﷺ وہی بات کرتے ہیں، جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے، اسے امت تک کماحقہ پہنچاتے ہیں، اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کرتے۔ [تفسیر ابن کثیر: 443/7]
الله تعالیٰ کا فرمان ہے:
[قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ]
’’کہہ دیجئے کہ میں اپنی طرف سے قرآن بدلنے کا اختیار نہیں رکھتا، میں اپنی طرف کی گئی وحی کا اتباع کرتا ہوں۔‘‘ (يونس: 15)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
لو أنه صلى الله عليه وسلم شرع شيئا لم يوح إليه به لكان مبدلا للدين من تلقاء نفسه وكل من أجاز هٰذا فقد كفر وخرج عن الإسلام وبالله تعالى نعوذ من الخذلان.
’’اگر نبی کریم ﷺ کسی ایسی چیز کو شریعت بنا دیتے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف وحی نہیں کی، تو آپ ﷺ اپنی طرف سے دین کو تبدیل کرنے والے قرار پاتے۔ جس نے ایسا ہونے کو درست سمجھا، اس نے کفر کیا اور وہ اسلام سے خارج ہو گیا، ہم ایسی رسوائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ [الإحكام: 137/5]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَّ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ]
’’اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو اور جو کتاب و سنت تم پر نازل کی گئی ہے (اسے بھی یاد کرو) جس کے ساتھ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔‘‘ (البقرة: 231)
❀ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو بطورِ خاص یاد کرو کہ اس نے تمہاری طرف ہدایت اور روشن نشانیوں کے ساتھ رسول بھیجا اور اس نے تمہاری طرف کتاب و سنت کی صورت میں وحی اتاری ہے، وہ اس وحی کے ذریعہ اچھائی اور بھلائی کا حکم دیتا ہے، حرام اور ناجائز کاموں سے منع کرتا ہے اور حرام کاموں کے ارتکاب پر وعید سنا کر وعظ کرتا ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں حکمت سے مراد سنت لی ہے۔ [تفسیر ابن کثیر: 564/1]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ]
’’(ازواجِ نبی!) اللہ کے اس انعام کو یاد کرو، کہ تمہارے گھروں میں آیات و حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘ (الأحزاب: 34)
امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
سمعت من أرضىٰ من أهل العلم بالقرآن يقول: الحكمة سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهٰذا يشبه ما قال، والله أعلم، لأن القرآن ذكر وأتبعته الحكمة، وذكر الله منه علىٰ خلقه بتعليمهم الكتاب والحكمة، فلم يجز والله أعلم أن يقال: الحكمة هاهنا إلا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم.
’’میں نے اس شخص کو سنا جو میرے نزدیک قرآن کریم کا عالم ہے، وہ فرما رہے تھے کہ حکمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، ان کی یہ بات درست ہے، واللہ اعلم! کیونکہ قرآن کا ذکر کر کے بعد میں حکمت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کتاب و حکمت کے ساتھ ان کو تعلیم دی ہے، لہٰذا یہاں حکمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت کے علاوہ کچھ اور لینا درست نہیں، واللہ اعلم. [الرسالة: ص 78]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ (294ھ) فرماتے ہیں:
تأولت العلماء أن الحكمة ها هنا هي السنة؛ لأنه قد ذكر الكتاب، ثم قال : ﴿والحكمة﴾ ففصل بينهما بالواو فدل ذٰلك علىٰ أن الحكمة غير الكتاب، وهي ما سن الرسول صلى الله عليه وسلم مما لم يذكر في الكتاب؛ لأن التأويل إن لم يكن كذٰلك فيكون كأنه قال : وأنزل عليك الكتاب والكتاب، وهٰذا يبعد.
’’اہلِ علم کی تفسیر کے مطابق یہاں حکمت سے مراد سنت ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ذکر کیا، پھر حکمت کا ذکر کیا۔ چنانچہ دونوں کے درمیان واؤ سے فاصلہ کیا، اس سے معلوم ہوا کہ حکمت کتاب کے علاوہ اور چیز ہے، وہ رسول کریم ﷺ کا وہ بیان ہے، جو قرآن کریم میں موجود نہیں، (یہی تفسیر درست ہے)، کیونکہ اگر اس طرح نہ ہو، تو پھر مطلب یوں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اور کتاب نازل کی اور یہ بات (فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اللہ کے حق میں) بعید ہے۔ [السنّة: ص 109]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
الكتاب هو القرآن والحكمة هي السنة باتفاق السلف وما أخبر به الرسول عن الله فهو في وجوب تصديقه والإيمان به كما أخبر به الرب تعالىٰ علىٰ لسان رسوله، هٰذا أصل متفق عليه بين أهل الإسلام لا ينكره إلا من ليس منهم.
’’سلف کا اتفاق ہے کہ (یہاں) کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے جو بھی خبر دیں، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا واجب ہے، بالکل اسی طرح جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبانی دی ہے۔ اس بات پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے، اس کا انکار وہی کر سکتا ہے، جو مسلمانوں میں سے نہ ہو۔ [کتاب الروح، ص 75]
ان آیات میں حکمت سے مراد سنت ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے کتاب یعنی قرآن کے ساتھ نازل فرمایا ہے، معلوم ہوا کہ حدیث بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ]
میں صرف اللہ کی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ [الأنعام:50]
یہاں بھی وحی سے مراد قرآن وحدیث ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ]
وہ لوگوں کو کتاب و سنت کی تعلیم دیتے ہیں۔ [البقرة:129]،[آل عمران:164]،[الجمعة:2]
❀ معلوم ہوا کہ وضو سے لے کر جہاد تک ہر عبادت کا طریقہ اور اس کے احکام ومسائل اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہیں، بلکہ یوں کہہ دیں کہ نبی کریم ﷺ کے دین کے متعلق تمام اقوال وافعال واحوال وحی سے ہیں۔
حدیث وحی ہے:
وحی اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت کے ساتھ محفوظ ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ]
بے شک ہم نے ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ [الحجر:9]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
صح بذٰلك أن كلامه صلى الله عليه وسلم كله محفوظ بحفظ الله عز وجل مضمون لنا أنه لا يضيع منه شيء إذ ما حفظ الله تعالىٰ فهو باليقين لا سبيل إلىٰ أن يضيع منه شيء فهو منقول إلينا كله فلله الحجة علينا أبدا.
اس سے ثابت ہو گیا کہ نبی کریم ﷺ کے تمام فرامین اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محفوظ ہیں، ہمیں ضمانت دے دی گئی ہے کہ اس میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی، کیونکہ جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرے، تو یقینی طور پر اس میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہو سکتا، لہٰذا سنت پوری کی پوری ہم تک پہنچ گئی ہے اور ہمیشہ کے لیے ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی ہے۔ [الإحکام: 110/1]
قرآن وحدیث دونوں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہیں، قرآن مجید میں خطبہ جمعہ کو بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کہا گیا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ]
ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے، تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکو۔ [الجمعة: 9]
❀ نبی کریم ﷺ کا خطبہ جمعہ بھی حدیث تھا۔ حدیثِ رسول ﷺ بھی ذکر ہے، ذکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔
اُسوۂ رسول ﷺ حدیث ہے:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا]
تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات بہترین نمونہ ہے، ان کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔ (الأحزاب: 21)
❀ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ رسول کا اسوۂ حسنہ آپ کی سنت اور طریقہ کا نام ہے، جو رب تعالیٰ کی مراد کے موافق ہے، آپ ﷺ کا ہر نمونہ تا قیامت محفوظ ہے، یہ دلیل ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی اختلاف نہیں۔
جب قرآن وحدیث وحی ہیں اور قیامت تک وحی ہیں، تو ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا، حق حق کے ساتھ کس طرح ٹکرا سکتا ہے، وحی سے دو ثابت شدہ دلیلیں ایک دوسرے کی نقیض کیسے ہو سکتی ہیں؟ خوب یاد رہے کہ قرآن وحدیث کی بعض نصوص میں ظاہری تعارض ہے، حقیقت میں کوئی تعارض نہیں، جس طرح قرآن کریم کی بعض آیات بینات ظاہری طور پر باہم متعارض ہیں، جبکہ حقیقت میں ان میں کوئی تعارض نہیں، جب قرآن کا ظاہری تعارض رفع ہو سکتا ہے، ان باہم متعارض نصوص کے درمیان جمع و تطبیق ممکن ہے، تو احادیث کا باہم تعارض کیوں رفع نہیں ہو سکتا، ان کے درمیان جمع و تطبیق ممکن کیوں نہیں؟
قرآن وحدیث کی نصوص میں تعارض کے اسباب:
[1] قرآن وحدیث کی نصوص میں عام وخاص، مطلق ومقید اور استثناء کا مسئلہ ہوتا ہے، دیکھنے والے کے ذہن میں یہ بات آ جاتی ہے کہ یہ تعارض اور ٹکراؤ ہے، جبکہ درحقیقت یہ تعارض نہیں ہوتا۔
[2] قرآن کا حکم عام ہوتا ہے، حدیث اس میں تخصیص کر رہی ہوتی ہے یا قرآن کے عام حکم سے حدیث ایک چیز کو مستثنٰی قرار دے رہی ہوتی ہے، اسی طرح قرآن کے اطلاق کی حدیث تقیید بھی کر دیتی ہے۔
[3] قرآن وحدیث کی نصوص کے درمیان ظاہری تعارض کا ایک سبب لغت عرب سے ناواقفیت ہے، قرآن وحدیث عربی زبان میں نازل ہوئے ہیں، جو عربی زبان سے ناواقف ہو گا، وہ قرآن وحدیث میں اختلاف کر لے گا۔
[4] ایک روایت کو ایک راوی پورا بیان کر دیتا ہے، دوسرا مختصر بیان کرتا ہے، تیسرا راوی روایت کا بعض حصہ بیان کرتا ہے، بعض بیان نہیں کرتا، دیکھنے والا کسی ایک راوی کے الفاظ کو قرآن کے مخالف کہہ دیتا ہے، حالانکہ جب یہ معلوم ہو جائے، تو قرآن وحدیث کی نصوص کا اختلاف و تعارض رفع ہو جاتا ہے۔
[5] ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایک راوی نبی کریم ﷺ سے کسی چیز کے متعلق سوال کا جواب نقل کرتا ہے، لیکن سوال ذکر نہیں کرتا، جبکہ اس سوال سے ہی اس جواب کی حقیقت واضح ہوتی ہے، اس سے بھی قرآن وحدیث کا ظاہری تعارض دور ہو جاتا ہے۔
[6] ناسخ و منسوخ سے عدمِ واقفیت بھی قرآن وحدیث میں تعارض کا باعث ہے، آیت ناسخ اور حدیث منسوخ یا بسا اوقات حدیث ناسخ اور آیت منسوخ ہوتی ہے، جب یہ معلوم ہو جائے، تو قرآن وحدیث میں ظاہری تعارض رفع ہو جاتا ہے۔
تفصیل کے لیے:
❀ امام شافعی رحمہ اللہ کی کتاب الرسالہ (ص 52، 53، 213، 215) ملاحظہ فرمائیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
لم نجد عنه صلى الله عليه وسلم شيئا مختلفا فكشفناه إلا وجدنا له وجها يحتمل به ألا يكون مختلفا.
ہم نے نبی کریم ﷺ سے کوئی متعارض و مختلف چیز نہیں دیکھی، کہ ہم اسے کھول کر بیان کریں، مگر ہر تعارض کو ختم ہونے کی کوئی صورت مل ہی جاتی ہے۔ [الرسالة، ص216]
نیز فرماتے ہیں:
أن يعلم أن أحكام الله ثم أحكام رسوله لا تختلف، وأنها تجري على مثال واحد.
یہ بھی جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام مختلف و متعارض نہیں ہوتے، بلکہ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ [الرسالة: ص173]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
يبين صحة ما قلنا من أنه لا تعارض بين شيء من نصوص القرآن ونصوص كلام النبي صلى الله عليه وسلم وما نقل من أفعاله، قول الله عز وجل مخبرا عن رسوله عليه السلام: [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی] (النجم:3-4)
ہم نے جو کہا ہے کہ قرآن کریم اور نبی اکرم ﷺ کے اقوال وافعال میں کوئی تعارض نہیں، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے: [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی] (النجم:3۔4) ’’وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، بلکہ وہ تو وحی ہوتی ہے، جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔ [الإحكام: 204/2]
قرآن وحدیث کے مابین تعارض کی مثال:
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ]
’’تم پر مردار حرام کر دیا گیا ہے۔‘‘ (المائدة: 3)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
ماتت شاة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهلها: ألا نزعتم جلدها، ثم دبغتموه فاستمتعتم به.
ایک بکری مر گئی، رسول اللہ ﷺ نے اس کے مالکان سے فرمایا: آپ نے اس کی کھال کیوں نہ اتاری، کہ اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھاتے۔
[سنن الترمذي: 1727، وسنده صحيح]
❀ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ’’حسن صحیح‘‘ اور امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (316ھ) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
❀ قرآن کا حکم مردار کے تمام اعضا کو شامل ہے، حدیث نے اسے کھانے کے ساتھ خاص کر دیا ہے، مطلب کہ حلال جانور جو مردار ہو جائے، کھایا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے چمڑے کو رنگ کر اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ]
’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے۔‘‘ (النساء: 11)
❀ یہ آیت عام ہے۔ جبکہ حدیث میں اس کی تخصیص ہو گئی۔
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم.
مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ [صحيح البخاري: 6764، صحيح مسلم: 1614]
❀ ثابت ہوا کہ قرآن اور صحیح حدیث باہم مخالف نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ]
ان کے علاوہ رشتے تمہارے لیے حلال ہیں۔ (النساء: 24)
❀ اس آیت کریمہ سے پہلے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے چودہ حرام رشتوں کا ذکر کیا، کہ جن سے نکاح جائز نہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کے علاوہ تمام عورتوں سے تم نکاح کر سکتے ہو، جبکہ حدیث نے دو زائد رشتوں کو بھی حرام کیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک عقد میں جمع نہیں کیا جائے گا، نیز لڑکی اور اس کی خالہ کو بھی ایک عقد میں جمع نہیں کیا جائے گا۔
[صحيح البخاري: 5109، صحيح مسلم: 1408]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے پھوپھی (سے نکاح) کی موجودگی میں بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے اور بھتیجی کی موجودگی میں پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ خالہ (سے نکاح) کی موجودگی میں بھانجی کے ساتھ نکاح سے منع کیا ہے اور بھانجی کی موجودگی میں خالہ کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ بڑے رشتے والی کی موجودگی میں چھوٹے رشتے والی سے اور چھوٹے رشتے والی کی موجودگی میں بڑے رشتے والی سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔ [مسند الإمام أحمد: 426/2، سنن أبي داؤد: 2065، سنن النسائي: 3298، سنن الترمذي: 1126، وسنده صحيح]
❀ جو لوگ حدیث کو دین نہیں مانتے، ان کے مطابق ان دو رشتوں سے نکاح جائز ہونا چاہیے، کیونکہ قرآن کے عموم سے ان کی حلت ثابت ہوتی ہے۔
اگر وہ کہیں کہ ان دو رشتوں کی حرمت عقل سے ثابت ہوتی ہے، تو عرض ہے کہ کیا قرآن کے عموم کو عقل سے خاص کیا جا سکتا ہے؟ جس کی عقل ان دو رشتوں کو حلال سمجھتی ہے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
❀ نیز کتنا ظلم ہے کہ قرآن کے عموم کو اپنی عقل سے تو خاص کیا جا سکتا ہے، مگر نبی کریم ﷺ کے ثابت فرامین سے خاص نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ان کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی حیثیت ان کی عقلوں سے بھی کم ہے؟