داڑھی بڑھانے، مونچھیں کتروانے اور داڑھی منڈانے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

ڈاڑھی بڑھانا :

ہمارے موضوع سے متعلق ایک مسئلہ ڈاڑھی بڑھانے کا بھی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خالفوا المشركين ووفروا اللحى وأحفوا الشوارب
”مشرکین کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرو۔ داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کترواؤ۔“
بخاری کتاب اللباس : باب تقليم الاظفار : 5892 – مسلم کتاب الطهارة باب خصال الفطرة ح : 259
اس روایت میں توفیر (وفروا) کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اور دوسری روایت میں اعفاء کا صیغہ آیا ہے۔
بخارى كتاب اللباس : باب اعفاء اللحى ح : 5893 – مسلم، حواله سابق ح :259/53
دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی داڑھی کو چھوڑ دینا اور باقی رہنے دینا۔ اس کی علت بھی حدیث نے واضح کر دی ہے یعنی مشرکین کی مخالفت کرنا مقصود ہے۔ مشرکین سے مراد یہاں آتش پرست مجوسی ہیں۔ یہ لوگ ڈاڑھی کترواتے تھے۔ البتہ کچھ لوگ منڈاتے بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کا حکم دے کر مسلمانوں کی تربیت اس انداز سے کرنا چاہی ہے کہ وہ اپنا تشخص قائم رکھ سکیں اور صوری اور معنوی، ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے دوسروں کے مقابلہ میں ممتاز ہوں۔ علاوہ ازیں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاڑھی منڈانا ایک ایسا فعل ہے جو فطرت کے خلاف ہے اور اس میں عورتوں سے مشابہت کا پہلو بھی ہے۔ دراصل داڑھی رجولیت (مردانگی) کی تکمیل ہے اور اس سے مرد کا امتیاز قائم ہوتا ہے۔
داڑھی کو چھوڑ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرے سے بال کم نہ کیے جائیں۔
داڑهي كو معاف كرنے (يعني چهوڑنے) كا مطلب يهي هے كه اس كي كانٹ چهانٹ نه كي جائے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم كا داڑهي بڑهانے كا حكم دينا پانچ مختلف الفاظ سے كتب احاديث ميں مذكور هے. جن الفاظ كے مجموعي معاني اور مدلول كے بارے ميں امام نووي رحمه الله فرماتے هيں :
ان تمام الفاظ كا يهي مطلب هے كه داڑهي كو اس كي حالت پر چهوڑ ديا جائے.
(شرح النووی : 1/129)
سلف كے عمل سے يه ليا جاتا هے كه ان كا عمل اگرچه هماري نسبت بهت اعليٰ درجه فهم و فراست پر مبني تها ليكن انهوں نے كسي كو داڑهي كٹوانے كا فتويٰ يا حكم تو نهيں ديا. جس سے يه ثابت هوتا هے كه وه بهي عمومي طور پر داڑهي كو بڑهانا هي بهتر سمجهتے تهے. علمائے سلف وغيره كے عمل كي طرف مصنف نے اشاره كيا هے، جبكه يه بات مسلمه حقيقت هے كه نبي كريم صلى الله عليه وسلم كي سنت اور فرمان كے مقابل كسي كا بهي عمل يا قول كچه حيثيت نهيں ركهتا.
مصنف نے اگلي سطور ميں ترمذي كي ايك روايت كي طرف اشاره كيا هے جس سے داڑهي كي كانٹ چهانٹ كو نبي كريم صلى الله عليه وسلم كے عمل سے ثابت كرنے كي كوشش كي هے. هم دو روايات قارئين كے سامنے بيان كر كے اس كي استنادي حيثيت اور اس روايت سے استدلال كرنے كے نقصانات سے آگاه كر دينا ضروري سمجهتے هيں. روايت اس طرح هے :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها
”نبي كريم صلى الله عليه وسلم اپني داڑهي مبارك كي طول و عرض سے كانٹ چهانٹ كر ليا كرتے تهے.“
(سنن الترمذی کتاب الأدب: باب ما جاء في الأخذ من اللحية ح : 2762)
اس روايت كو علامه الباني رحمه الله نے موضوع من گهڑت قرار ديا هے.
دیکھئے : السلسلة الضعيفة : 1/456
علامه حافظ زبير على زئي رحمه الله نے بهي اس روايت كو شديد ضعيف قرار ديا هے.
دیکھئے : انوار الصحيفة ص : 269
(ابوالحسن مبشر احمد رباني)
ایسی صورت میں داڑھی اس قدر لمبی ہو جائے گی کہ بے ڈھنگا پن ظاہر ہونے لگے گا اور اس سے داڑھی رکھنے والے کو کوفت بھی ہوگی۔ اس لیے یہ مطلب لینا صحیح نہیں، بلکہ اس کے طول و عرض سے کچھ بال کم کیے جا سکتے ہیں۔
ترمذی کی حدیث یہ ہے :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يأخذ من طول لحيته وعرضها
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی کے طول و عرض سے بال کتر لیا کرتے تھے۔“
ترمذی کتاب الأدب : باب ما جاء في الأخذ من اللحية ح : 2762 – وقال الألباني : موضوع غاية المرام : 110 – ضعيف سنن الترمذي: 525/2924
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ (مترجم)
اور بعض سلف سے بھی ایسا کرنا ثابت ہے۔ قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : داڑھی منڈانا، اس کو چھوٹا بنانا اور ہموار کرنا مکروہ ہے، البتہ جب داڑھی بڑھ جائے تو اس کے طول و عرض میں سے بال کتر لینا اچھا ہے۔
اور ابوشامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو داڑھی منڈاتے ہیں حالانکہ زمانہ قدیم میں مشہور تھا کہ وہ کترواتے تھے۔
فتح البارى : 10-351
اس سلسلہ میں، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اپنے دین کے دشمنوں اور یہود و نصاریٰ جیسے سامراجیوں کی تقلید کرتے ہوئے داڑھی منڈانے لگی ہے۔ اور مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کی تقلید کرتی ہے۔ مسلمان اس بات سے غافل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں ہے :
من تشبه بقوم فهو منهم
”جو شخص کسی قوم کی مشابہت کرے گا وہ اُن ہی میں سے ہوگا۔“
ابو داؤد کتاب اللباس : باب في لبس الشهرة ح : 4031
بہت سے فقہاء کے نزدیک اعفاء اللحیۃ (داڑھی بڑھاؤ) والی حدیث کے پیشِ نظر داڑھی منڈانا حرام ہے کیونکہ حکم اصلاً وجوب پر دلالت کرتا ہے اور خاص طور سے یہ حکم تو کفار کی مخالفت کی علت کے ساتھ ہے اور ان کی مخالفت واجب ہے، نیز سلف رحمہ اللہ میں سے کسی کا اس واجب کو ترک کرنا ثابت نہیں ہے۔ لیکن موجودہ دور کے بعض علماء حالات سے متاثر ہو کر اور عمومِ بلویٰ (عام ابتلاء کی حالت) کے آگے سپر ڈالتے ہوئے داڑھی منڈانے کو جائز کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ داڑھی رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعالِ عادیہ میں سے ہے اور شرعی امور سے متعلق نہیں ہے کہ اس کو عبادت کی حیثیت دی جائے۔
لیکن حقیقت میں اعفاء اللحیۃ (داڑھی رکھنا) نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صراحت کے ساتھ حکم بھی دیا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ کفار کی مخالفت کرنا چاہیے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ ان کی مخالفت شارع کے نزدیک مقصود ہے کیونکہ ظاہری چیزوں میں مشابہت کرنے سے باطنی طور پر مودت و محبت اور موالات کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، جس طرح باطن کی محبت ظاہر میں مشابہت پیدا کرتی ہے۔ محسوسات اور تجربات اس پر شاہد ہیں۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے کہ کفار کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی فی الجملہ مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ جس چیز میں کسی خرابی کے مضمر ہونے کا احتمال ہوگا اُس پر حرام کا اطلاق ہوگا۔ کفار کی ظاہری افعال میں مشابہت مذموم اخلاق و افعال کی مشابہت کا باعث ہوگی، بلکہ اندیشہ ہے کہ مشابہت کا یہ سلسلہ اعتقادات تک دراز نہ ہو جائے۔ اس کے اثرات گرفت میں نہیں آسکتے کیونکہ اس سے جو اصل خرابی پیدا ہوتی ہے وہ بظاہر دکھائی نہیں دیتی لیکن اس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔ لہذا جو چیز بھی خرابی کا موجب ہو اس کو شارع نے حرام قرار دیا ہے۔
اقتضاء الصراط المستقيم ص : 28،27
اس طرح ہمارے نزدیک داڑھی منڈانے کے بارے میں تین اقوال ہیں :
◈ پہلا قول یہ ہے کہ داڑھی منڈانا حرام ہے۔ یہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ کا مسلک ہے۔
◈ دوسرا قول یہ ہے کہ داڑھی منڈانا مکروہ ہے۔ یہ قول فتح الباری میں قاضی عیاض رحمہ اللہ کا بیان کیا گیا ہے۔
◈ اور تیسرا قول جواز کا ہے اور موجودہ زمانہ کے بعض علماء اسی کے قائل ہیں۔
مصنف رحمه الله نے كها هے كه بعض علماء داڑهي منڈوانے كو جائز قرار ديتے هيں. جبكه ايسا بالكل نهيں هے. مصنف رحمه الله نے يه بات كهه كر علمي خيانت كا ارتكاب كيا هے. اسلامي تعليمات سے واقف هونے كے بعد كوئي بهي مسلم سكالر داڑهي منڈوانے كو جائز نهيں كهه سكتا. بلكه احاديث رسول، آثار صحابه رضي الله عنهم اور اقوال و اعمال سلف رحمه الله كا مجموعي جائزه ليا جائے تو يه بات روز روشن كي طرح واضح هوتي هے كه داڑهي منڈوانا حرام هے. كسي بهي عالم دين نے اس كو جائز قرار نهيں ديا. داڑهي منڈوانا تو اس قدر قبيح عمل هے كه نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے اس كے مرتكب دو آدميوں سے (جو آپ صلى الله عليه وسلم كو ايران سے ملنے آئے تهے) منه پهير ليا تها. داڑهي منڈوانا عورتوں سے مشابهت هے جبكه عورتوں سے مشابهت كرنا مردوں كے ليے حرام هے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے عورتوں كي مشابهت اختيار كرنے والے مردوں پر لعنت فرمائي هے.
صحیح بخاری کتاب اللباس : باب المتشبهين بالنساء حدیث : 5885 – سنن أبي داؤد کتاب اللباس : باب لباس النساء حدیث : 4097
داڑهي مرد كي شان اور فطري امور ميں سے هے. اس ليے اسے منڈوانا غير فطري عمل اور حرام هے. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
لیکن غالباً سب سے زیادہ معتدل، قرینِ قیاس اور مبنی بر صحت قول کراہت و ناپسندیدگی کا ہے، کیونکہ داڑھی رکھنے کا حکم قطعی طور پر وجوب پر دلالت نہیں کرتا، گو اس کی علت کفار کی مخالفت کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مثل خضاب لگانے کا حکم ہے جس کی علت بھی یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرنا ہے، لیکن بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیاہ خضاب نہیں لگایا کرتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ خضاب لگانا بس مستحب ہے۔ (واجب نہیں)
داڑهي ركهنے كو خضاب لگانے پر قياس كرنا بعيد از عقل بات هے. مصنف رحمه الله نے ايسا هي كيا هے اور اس قياس كے ذريعے داڑهي ركهنے كو وجوب سے گرا كر استحباب كے درجے ميں لانے كي كوشش كي هے. داڑهي كي مقدار ميں اگرچه كسي حد تك اختلاف پايا جاتا هے ليكن اس موقف پر تمام علماء و فقهاء متفق هيں كه داڑهي ركهنا واجب هے. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے داڑهي ركهنے اور مونچهيں كٹوانے كا حكم ديا هے. اور داڑهي صرف كفار كي مخالفت كے نقطه نظر سے نهيں ركهي جاتي بلكه داڑهي بڑهانا امور فطرت ميں شامل هے. جو انسان داڑهي كے وجوب كا منكر هے وه درحقيقت امور فطرت ميں سے ايك فطري امر كا انكار كرتا هے. لهذا درست اور راجح بات يهي هے كه داڑهي ركهنا فرض هے اور اس سے كسي طور انكار نهيں كيا جا سكتا. مصنف رحمه الله نه جانے ايسي بے بنياد باتيں كر كے كيا مقصد حاصل كرنا چاهتا هے. ان باتوں كي كوئي دليل مصنف رحمه الله كے پاس نهيں هے. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
یہ بات صحیح ہے کہ سلف رحمہ اللہ میں سے کسی کا داڑھی منڈانا ثابت نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ ممکن ہے یہ ہو کہ انہیں داڑھی منڈانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی ہو، کیونکہ وہ لوگ داڑھی رکھنے کے عادی تھے۔