میلاد، معراج اور شبِ قدر کی محافل: تفسیر نور العرفان کے دلائل کا جائزہ

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

میلاد سے روکنا اللہ کی راہ سے روکنا ہے؟

مفتی نعیمی صاحب سورۃ توبہ (10) کے تحت لکھتے ہیں:

اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں، جو میلاد شریف، ختمِ بزرگان اور دوسرے نیک اعمال سے بلا وجہ لوگوں کو روکتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی راہ سے روکنا ہے، کیونکہ یہ سارے کام اللہ کے لیے کیے جاتے ہیں۔

[تفسیر نور العرفان: ص300-314-985]

❀ جب میلاد اور ختمِ بزرگان ثابت ہی نہیں، تو ان سے روکنا، اللہ کی راہ سے روکنا کیسے؟ بلکہ یہ بدعات ہیں۔ جو دیگر اقوام سے مستعار ہیں، لہٰذا ان سے روکنا، عینِ حق اور مذہبی فریضہ ہے، جیسا کہ علمائے حق روکتے ہیں۔

❀ ہم مفتی صاحب کی زبان میں کہیں گے کہ: "سچے دین کی پہچان ہے کہ وہ سلفِ صالحین کا دین ہو، یہ حضرات ہدایت کی دلیل ہیں۔”

[تفسیر نور العرفان: ص30]

میلاد میں علماء سے وعظ کروانا:

مفتی نعیمی صاحب سورۃ ابراہیم (5) کے تحت لکھتے ہیں:

"میلاد، معراج وشبِ قدر میں علماء سے وعظ کرانا محمود ہے کہ وہ واعظین اللہ کے دن یاد دلاتے ہیں۔” [تفسیر نور العرفان: ص407]

❀ میلاد کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، علمائے کرام نے اسے بدعت کہا ہے۔ انسانوں کے یومِ ولادت اور یومِ وفات میں کوئی خاص عمل مشروع ہوتا، تو اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کے یومِ ولادت اور یومِ وفات کے متعلق ہمیں مطلع فرما دیتے۔

❀ معراج حق ہے۔ نبی کریم ﷺ کو حالتِ بیداری میں جسمانی معراج ہوا۔ کب ہوا؟ اس کا صحیح علم اللہ کے پاس ہے۔ جب ہمیں اس کی صحیح تاریخ ہی معلوم نہیں، تو وعظ کرانا محمود کیسے ہوا؟ تو واعظین اللہ کے دن کیسے یاد دلائیں گے؟ شبِ قدر میں عبادت مشروع اور مستحب قرار دی گئی ہے۔ اس کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے، اس رات بطورِ خاص وعظ کا ثبوت نہیں۔ معلوم ہوا شبِ قدر کے ساتھ میلاد اور معراج کو ملانا درست نہیں۔