”پہلا بحری جہاد“ اور فضیلتِ معاویہؓ: انجینئر مرزا کے اعتراضات کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

”پہلا بحری جہاد“ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور انجینئر صاحب کے اعتراضات:

فضائل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے کہ: ”أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا“ میری امت کا پہلا گروہ جو بحری جہاد کرے گا اس پر جنت واجب ہو گئی (صحیح بخاری : 2924)۔ اس حدیث کے خصوصی مصداق سیدنا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں! کیوں کہ وہ پہلا بحری جہاد آپ ہی کی امارت میں ہوا تھا (صحیح بخاری: 2800)۔ اب کہنے کو تو یہ بہت بڑے اعزاز اور شرف کی بات ہے کہ ایک گروہ کا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنتی کہا ہو، اور اس مبارک لشکر میں صحابہ کرام بھی موجود ہوں۔ مگر مرزا صاحب کو یہ راس نہیں، اور آپ اس سے بھی ناک منہ چڑھاتے ہی نظر آتے ہیں چنانچہ آپ سے سوال کیا گیا کہ:
یہ پہلا سمندری جہاد (اول جیش)………… ”جو پہلا گروہ سمندری جہاد کرے گا“ یہ کس صحابی کو فضیلت دی گئی تھی؟ آپ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”جی اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل تھے کس نے انکار کیا ہے میرے بھائی!“
059-Public Q & A Session & Meeting of SUNDAY- 1:56:33
آپ اس میں مرزا صاحب کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں کس طرح لٹکے ہوئے منہ اور ناپسندیدگی کے ساتھ جواب دیا گیا ہے، اور یہی اگر بات جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوتی تو آپ کا attitude اور انداز بیان کتنا پر جوش اور چہرہ بارونق ہوتا یہ مرزا صاحب کو سننے والے حضرات بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔ خیر یہاں کم سے کم انجینئر صاحب نے اعتراف تو کیا کہ اس فضیلت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شامل ہیں، مگر پھر آپ کا نیا ورژن سامنے آیا کہ آپ اب اسے فضیلت ماننے سے ہی انکار کرتے ہیں اور اس میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چنانچہ ایک جگہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو حدیث ہے اس سے انکار کرتے ہیں!
تو جواب میں فرمایا: ”جھوٹا الزام لگایا انہوں نے! پہلے تو وہ میرا لیکچر لے کے آئیں جس میں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ان احادیث کا انکار کیا ہو، انکار بتائیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صحیح بخاری کے اندر کوئی حدیث آئے اور میں اس کا انکار کر دوں، یہ پاسیبل ہی نہیں ہے۔ سمندری جہاد والی جس حدیث کا وہ ذکر کر رہے ہیں میں نے کس لیکچر کے اندر اس کا انکار کیا ہے؟ ٹائم قیامت تک ہے ہمارا اتنا جگرا ہے ہم جسے بھی ٹائم دیتے ہیں نا قیامت تک کے لیے ٹائم دیتے ہیں، قیامت تک ٹائم ہے وہ میری ویڈیو لے کے آئیں جس میں میں نے بخاری شریف کی اس حدیث کو ضعیف کہا ہو یا میں نے اس حدیث کا انکار کیا ہو۔ اب رہ گئی اس میں فضیلت آنا تو سب سے پہلے تو امام بخاری کے سامنے آپ پروٹیسٹ کریں کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے چیپٹر میں جو فضائل کے اوپر چیپٹر باندھا اور اس کا نام رکھا ”ذکر معاویہ“، اس چیپٹر کے اندر انہوں نے سمندری جہاد والی حدیث کیوں نہیں لی؟ سب سے پہلے تو امام بخاری سے اس کا پروٹیسٹ کریں کہ جو آپ کی عقابی نظریں اس فضیلت کے اوپر پہنچ گئیں، تو امام بخاری سے یہ over look کیوں ہوئی؟ وہ تو ایک ایک حدیث کو درجنوں جگہ کے اوپر ریپیٹ کرتے ہیں، جب جب اس ٹاپک سے ریلیٹڈ آتی ہے چیز! مثلاً حدیث قرطاس جو ہے وہ آخری وقت میں نبی علیہ السلام نے شانے کی ہڈی اور قلم مانگا تھا، یا کاغذ قلم مانگا تھا کہ میں تمہیں وصیت لکھ دیتا ہوں، یہ حدیث امام بخاری کتاب العلم چیپٹر میں بھی لے کے آئے ہیں اس بات کے ثبوت میں کہ علم لکھ کر save کیا گیا منکرین حدیث کے خلاف، اس حدیث کو وہ پھر جا کر نبی علیہ السلام کی وفات والے چیپٹر کے اندر بھی لے کے آئے ہیں کیونکہ وہ آپ کی وفات کے ایشوز ڈسکس ہو رہے تھے اس میں کتاب المغازی ان میں جا کے وہ وفات النبی والا جو چیپٹر ہے صلی اللہ علیہ وسلم! تو یہ سمندری جہاد والی اگر حدیث کا مطلب یہی تھا جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سپیسیفک فضیلت ہے تو حضرت معاویہ کی اس (فضیلت کے باب) میں لے آتے، (مگر) وہ نہیں لے کے آئے، اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کو ان کے حق میں سپیسیفک فضیلت نہیں سمجھتے تھے جنرل فضیلت سمجھتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب ہم نے صحابی مان لیا تو میرے بھائی جنتی مان لیا، بلکہ جس جس کو میں مسلمان بھی مانتا ہوں اسے جنتی مانتا ہوں چاہے وہ بریلوی ہے دیوبندی ہے اہل حدیث ہے شیعہ ہے، میں سب کو مسلمان سمجھتا ہوں سب کو میں جنتی سمجھتا ہوں الحمدللہ! اب رہ گیا کہ جنت تک پہنچیں گے کیسے؟ یہ جو چیز ہے اس کا فیصلہ آخرت کے اوپر جا کے رہنے دیں، کہ کس شخص نے اپنے گناہوں کی سزا بھگت کے جانا ہے کس نے اللہ کی رحمت سے جانا ہے کس نے شفاعت سے جانا ہے، آخرت کا فیصلہ ہم نے یہاں نہیں کرنا۔ وہ تو صحیح مسلم میں حدیث ہے جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے اور اس کے بعد دو نفل پڑھ لے اس پہ جنت واجب ہو جاتی ہے، پوری توجہ کے ساتھ اگر دو رکعت پڑھ لے! تو یہ حدیث بھی پھر آپ سارے مسلمانوں کے اوپر فٹ کریں جنہوں نے دو دو رکعتیں جو ہیں وہ توجہ سے پڑھی ہیں، یقیناً اب اس سے یہ نہیں ہوگا کہ اس نے جو بعد میں کوئی کرتوت کیے ہیں تو وہ اس کے لیے compensation ہو جائیں گے not a toll، غلطیاں اپنی جگہ غلطیاں رہیں گی، کسی شخص کی فضیلت اس کی غلطیوں کا کفارہ کبھی بھی نہیں بن سکتی جب کہ اس شخص کے بارے میں نبی علیہ السلام کی اتنی سخت وعیدیں موجود ہوں صحیح بخاری – 2812– عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی عمار انہیں اللہ اور جنت کی طرف بلا رہے ہوں گے اور وہ جماعت جہنم کی طرف بلا رہی ہوگی…..“
Video: Hazrat Mouviya R.A Ke Leye Jannat Ki Basharat? Phela samandri safar
اس سارے مکالمے میں مرزا صاحب نے بنیادی چار باتیں کی ہیں:
(1) کہ میں نے اس حدیث کو جھٹلایا نہیں، جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔
(2) امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت والے باب میں ذکر نہیں کیا، نا اس سے آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اخذ کی، جبکہ آپ احادیث سے جگہ جگہ مختلف مسائل کا استنباط کرتے ہیں۔ استدلال نا کرنے سے پتہ چلا کہ انکے ہاں بھی یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی سپیسیفیک فضیلت نہیں، بلکہ ایک عام فضیلت ہے جو کہ ہر مسلمان کو حاصل ہے، کہ تمام مسلمانوں نے جنت میں جانا ہے، اور اسکے لیے دلیل یہ بیان کی کہ
(3) صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس نے بھی اچھے طریقے سے دو رکعت نماز پڑھی اس پر جنت واجب ہوگئی۔
(4) اب جنت میں سب نے جانا کیسے ہے کوئی پتہ نہیں، کسی نے اپنے گناہوں کی سزا چکھ کر جانا ہے کسی نے شفاعت کے ذریعے یا کسی نے ڈائریکٹ، کیوں کہ کسی کے بارے میں فضیلت کا ہونا اسکے گناہوں کے کفارے کے لیے کافی نہیں، خصوصی طور پر ایسے شخص کے لیے جس کے متعلق اتنی سخت وعیدیں احادیث میں موجود ہوں۔

امام بخاری رحمہ اللہ کا اسے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں ذکر نا کرنا:

اولاً: تو مرزا صاحب سیدھی سی بات ہے کہ امام بخاری کے مقلد نا آپ ہیں اور نا ہم ہی کسی کے مقلد ہیں، تو پھر آپ کا ہم سے یہ مطالبہ کرنا کہ انہوں نے اسے فضائل میں ذکر کیوں نہیں کیا بنتا نہیں!
دوسرا: یہ کہ کسی بھی حدیث سے استدلال کرنے سے پہلے یہ دیکھنا کہ اس سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ نہیں، اور اگر آپ رحمہ اللہ نے استدلال نہیں کیا تو اس سے وہ استدلال کرنا بنتا ہی نہیں، کیا یہ کوئی فرمان الٰہی ہے؟ یا کسی حدیث میں آیا ہے؟ یا کسی امام و محدث نے یہ اصول پیش کیا ہے کہ اگر کسی حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ کوئی خاص استدلال نا کریں تو وہ استدلال باطل ہوتا ہے؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر آپ ان چکروں میں پڑ کر کیوں عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔
تیسری بات: کہ مرزا صاحب خود کو بابی نہیں بلکہ ماشاء اللہ سے علمی کتابی کہلواتے ہیں، تو پھر امام بخاری نے استدلال کیا ہے یا نہیں، آپ کو اس سے کیا غرض؟ مرزا صاحب خود صحیح بخاری کی کئی احادیث سے جو عجیب و غریب اور بعض اوقات تو باطل استدلال کرتے ہیں، اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا جائے کہ اسلاف میں سے کسی نے یہ استدلال کیا ہے؟ تو آپ بڑا صاف اور شفاف جواب دیتے ہیں کہ جی یہ کوئی شرط نہیں کہ کسی حدیث سے استدلال کرنے کے لیے اسلاف میں سے کسی نے وہ استدلال کیا ہو! تو پھر جب خود مرزا صاحب کا رویہ ایسا ہے تو ہم سے کیوں شکوہ کرتے ہیں؟ اور یہ شرط رکھے ہوئے ہیں کہ بخاری نے اس سے استدلال کیوں نہیں کیا!
چوتھی بات: کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اگر اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا تو انکے ہاں یہ استدلال کرنا غلط ہے؟ جناب! انہوں نے اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال نہیں کیا تو انہوں نے نفی بھی نہیں کی، کہ اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت نہیں نکلتی! تو آپ رحمہ اللہ کے اس اسلوب سے ہم کوئی حتمی فیصلہ کر ہی نہیں سکتے، جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے استدلال نہیں کیا اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے سپیسیفیک فضیلت نہیں۔ آپ کس دلیل کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا کہیں لکھا پڑھا ہے؟ یا کوئی کشف و الہام ہوا ہے کہ امام بخاری کے ہاں یہ فضیلت خاص نہیں۔
پانچویں عرض: یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اگرچہ اس سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ذکر نہیں فرمائی مگر دوسرے کئی محدثین تو اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت قرار دیتے ہیں، اور آپ کے فضائل میں ذکر کرتے ہیں، مثلاً:
امام مہلب رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق فرمایا: ”اس حدیث سے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔“
(شرح صحیح بخاری لابن بطال:107/5)
اور کئی محدثین اور شارحین نے اس حدیث کے تحت آپ رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل فرما کر سکوت اختیار کیا ہے۔
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تحت لکھا: ”اس حدیث میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔“ (التمہید:235/1)
امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ذکر فرمایا: (الشریعۃ:1922)
امام ابوزکریا النووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ”اس میں ان دونوں گروہوں کی فضیلت ہے۔“ (شرح النووي علی مسلم:58/13)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ نے فرمایا:
هذا الحديثُ أصلٌ في تفضيل معاوية۔
”یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بنیادی حدیث ہے۔“
(المسالک:106/5)
تو اس کے باوجود یہ کہنا کہ اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے فضائل معاویہ میں ذکر کیوں نہیں فرمایا، محض سینہ زوری اور حدیث سے فرار ہونا ہے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس مبارک گروہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت سنائی ہے میں اور بھی کئی صحابہ کرام موجود تھے، حتی کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کروائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت بھی سنائی کہ آپ بھی اس لشکر میں شامل ہیں، مگر محدثین نے زیادہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کا ذکر کیوں فرمایا کہ اس حدیث میں آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے؟ ممکن ہے ان کی نظر میں بھی کچھ جہلاء ہوں جو اس سے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا کر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کرتے ہوں۔ واللہ اعلم
چھٹی بات: یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب! صحیح بخاری کے ابواب اور امام بخاری رحمہ اللہ کے طرز استدلال کو سمجھنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے، آپ تو امام بخاری رحمہ اللہ کے ایک حدیث کو کسی جگہ پر ذکر نا کرنے سے ایک رزلٹ نکال رہے ہیں…… جبکہ امام بخاری اور صحیح بخاری کا معاملہ تو اتنا پیچیدہ ہے کہ بعض دفعہ تو امام بخاری رحمہ اللہ کا کسی حدیث کو ایک باب کے تحت ذکر کرنے کی حکمت اور وجہ ہی سمجھ میں نہیں آ رہی ہوتی کہ اس جگہ اس حدیث کے ذکر کرنے سے امام بخاری رحمہ اللہ کی کیا مراد ہے؟ اٹھائیے فتح الباری جسے آپ صحیح بخاری کی سب سے عظیم شرح قرار دیتے ہیں، اور دیکھیں کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جیسا امام، محدث اور فقیہ بھی تھک کر ہاتھ اٹھا لیتا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں لگ سکی کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس حدیث کو اس مقام پر ذکر کرنے سے کیا مراد ہے! تو مرزا صاحب کسی حدیث سے امام بخاری کے استدلال نا کرنے سے کس طرح ایک حتمی بیان دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس مقام پر فلاں حدیث کیوں ذکر نہیں کی؟
ساتواں جواب: یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا ایک خاص انداز اور اسلوب ہے، آپ بہت جگہ ایسا کرتے ہیں کہ ایک حدیث سے کوئی استدلال کرتے ہیں مگر دوسری جگہ اسے ذکر ہی نہیں کرتے جبکہ کوئی شخص ضرورت محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ یہاں فلاں حدیث ذکر کرنا بنتی تھی، مگر ذکر کیوں نہیں کی؟ ہم تو صرف اللہ اعلم ہی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ امام بخاری نے یہ استدلال نہیں کیا لہٰذا یہ استدلال ہی باطل ہے، یا نا ہی کسی فضیلت والی چیز کو کسی خاص مقام پر ذکر نا کرنے سے امام بخاری کی طرف یہ بات منسوب کی جا سکتی ہے کہ انکے ہاں اس سے فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اس کی مثالیں تو بہت سی دی جا سکتی ہیں مگر چونکہ بات فضائل کی ہی ہو رہی ہے تو چند ایک مثالیں فضائل سے متعلقہ ہی بیان کر دیتے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”مجھے (بذریعہ وحی) دکھایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاء کو دیکھا، اور میں نے (جنت میں) قدموں کی آواز سنی پس میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ کہا گیا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں نے ایک محل دیکھا، اس کے سامنے ایک عورت تھی، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے؟ تو کہا گیا: عمر رضی اللہ عنہ کا! میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے تیری (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کی) غیرت یاد آ گئی (اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا)، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا۔“ (صحیح بخاری: 3679)
اب یہ حدیث، اس میں واضح بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب بلال رضی اللہ عنہ کو جنت میں دیکھا تھا۔ صحیح بخاری کی ہی ایک دوسری حدیث میں ہے: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ. فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ، ”اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا عمل بتاؤ، کیونکہ میں نے جنت میں تیرے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی۔“
(صحیح بخاری:1149)
تو اس میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لیے فضیلت تھی مگر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے فضائل بلال والے چیپٹر میں ذکر تک نہیں کیا، جبکہ وہ اس حدیث کو صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل کے تحت لے کر آئے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں حضرت عمر کا محل دیکھا تھا جبکہ بلال رضی اللہ عنہ کو تو آپ نے اپنے آگے حاضر پایا۔ اسکے باوجود بخاری رحمہ اللہ اسے صرف فضائل عمر میں لائے نا کہ جناب بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں، تو اب انکے اس طریقہ کار سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں اس میں حضرت بلال کی فضیلت نہیں تھی، یا سپیسیفیک فضیلت نہیں تھی؟ اس لیے انہوں نے اسے فضائل بلال رضی اللہ عنہ میں ذکر نہیں فرمایا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بلال رضی اللہ عنہ کے فضائل پر باب تو قائم کیا ہے مگر انکی فضیلت میں کوئی مرفوع حدیث لائے ہی نہیں، بس عمر رضی اللہ عنہ کا قول ذکر فرمایا کہ ”ابوبکر ہمارے سردار ہیں، انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا، یعنی بلال رضی اللہ عنہ کو“۔ (صحیح بخاری:3754)
مگر جو حدیث ہم نے ذکر کی وہ مرفوع بھی ہے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑی فضیلت بھی! آگے چلیں:
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سناؤ، میں نے دروازہ کھولا تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ انکے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا، ان کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں (دنیا میں) واسطہ پڑے گا، تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے! جب میں نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔“
(صحیح بخاری:3693)
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث فضائل عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما میں تو درج کی ہے، مگر فضائل ابوبکر میں اس کا کوئی سراغ نہیں۔ تو اب یہ کہا جائے گا کہ ان کے نزدیک یہ حضرت عمر و عثمان کے لیے تو فضیلت تھی مگر حضرت ابوبکر کے لیے نہیں؟ اگر نہیں! تو پھر کیوں مرزا صاحب ”اول جیش“ والی حدیث کو امام بخاری کے اسے فضائل معاویہ میں نا ذکر کرنے پر شبہ پیدا کر رہے ہیں؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں ایک بہت ہی بڑی فضیلت یہ بھی وارد ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بارے میں ارشاد فرمایا: يَا فَاطِمَةُ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ. أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ. ”اے فاطمہ (رضی اللہ عنہا)! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ آپ مومنین عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں۔“ (صحیح بخاری: 6285)۔ صحیح بخاری میں یہ ایک طویل حدیث ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ذکر کر کے مسئلہ تو اخذ کیا ہے، مگر فضائل سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے تحت اسے بالکل ذکر نہیں کیا! اب فیصلہ مرزا صاحب کے سٹوڈنٹس کریں کہ کیا اس میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے یا نہیں؟ اس قدر واضح بشارت کے باوجود اسے فضائل میں ذکر نہیں کیا گیا، کیا امام بخاری رحمہ اللہ اسے انکے حق میں سپیسیفیک فضیلت نہیں سمجھتے تھے؟ اور کیا امام بخاری کے اسے فضائل میں ذکر نا کرنے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب اس سے استدلال کرنا درست نہیں، جی کیوں کہ امام بخاری نے اس سے فضیلت نہیں نکالی؟ ایک عجیب و غریب سا منطق پیش کیا ہے مرزا صاحب نے کہ جو فضیلت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں تم لوگوں کو نظر آ گئی وہ امام بخاری کو نظر نہیں آئی، ان سے وہ اوجھل کیوں رہی، انہوں نے وہ استدلال نہیں کیا جو تم لوگ کر رہے ہو۔ صرف کیا ہے کہ مرزا صاحب نے اسے جھٹلانے کے لیے ایک بہانہ تجویز کیا ہے، اور کوئی بات نہیں۔
اچھا مرزا صاحب نے بہت ہی ہوشیاری سے امام بخاری رحمہ اللہ کا نام لیتے ہوئے حدیثِ قرطاس کی مثال دی ہے، کہ انہوں نے اسے صحیح بخاری میں مختلف جگہوں پر ذکر کر کے مختلف مسائل حل کیے۔ چلیں ہم آپ کی تسلی کے لیے آپ ہی کی دلیل سے اپنا مدعا ثابت کر دیتے ہیں! تو عرض ہے کہ واقعی یہ بات سچ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جگہ جگہ صحیح بخاری میں حسب ضرورت اس حدیث کو ذکر کر کے مسائل کا استنباط کیا، مگر مرزا صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حدیث قرطاس کا اصل موضوع ”وصیت“ ہے، جیسا کہ حدیث شروع ہی اس بات سے ہوتی ہے کہ کاغذ قلم لاؤ میں تمہیں تحریر لکھ دوں، اور پھر اسی حدیث کے اخیر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیتیں فرمائی تھیں جیسا کہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: وَأَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے قریب تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ (صحیح بخاری:3053) مگر یقین کیجیے صحیح بخاری میں وصیت کے چیپٹر میں اس حدیث کا کوئی ذکر تک موجود نہیں، امام بخاری نے صدر باب پر وصیت لکھنے اور کرنے کے جواز یا تاکید کے متعلق روایات ذکر فرمائی ہیں، مگر ان میں اس روایت کا دور دور تک وجود نہیں ہے۔ لیں صاحب! آپ اپنی دی ہوئی مثال میں خود پھنس گئے ہیں، اور اب یہ آپ کی نہیں بلکہ ہمارے مدعے کی دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ جب چاہیں جہاں چاہیں کسی مصلحت کے تحت کچھ ذکر کر دیں یا جب چاہیں اس سے کسی خاص مقام پر استدلال نا کریں، اس سے یہ بات بالکل بھی نہیں کہی جا سکتی کہ انکے نزدیک یہ استدلال ہی درست نہیں، جیسا کہ آپ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیا یہ ایک جنرل فضیلت ہے، اور ہر مسلمان کو حاصل ہے؟

مرزا صاحب کی تمام گفتگو کا جو خلاصہ اور مقصد ہے وہ یہ ہے کہ اس لشکر کے متعلق جو فضیلت وارد ہوئی ہے وہ کوئی سپیسیفیک (خصوصی) فضیلت نہیں بلکہ ایک جنرل (عمومی) فضیلت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل ہے، کہ سب نے جنت میں جانا ہے۔
مرزا صاحب! آپ ماشاء اللہ سے انجینئر ہیں، اور اپنے الٹے سیدھے منطقی تیر آپ اگر اپنی سائنسی فیلڈ میں چلائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیوں کہ سائنس ایک ایسی چیز ہے جس میں ہر دور میں کوئی بندہ اٹھ کر اپنی عقل کی بنیاد پر ایک نئی تحقیق پیش کرتا رہتا ہے، مگر یہ احادیث کا معاملہ اس سے کافی مختلف ہے، یہاں احادیث کو اپنے فہم سے سمجھ کر نئی سے نئی تحقیقات پیش کرنا جو کہ اسلاف کے خلاف ہوں درست نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب اتنے ائمہ اور محدثین نے اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان اور فضیلت قرار دیا ہے، اور کسی نے بھی یہ بات نہیں کی کہ یہ جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا اس لشکر کے متعلق پیشین گوئی اور فضیلت وارد ہوئی ہے یہ انکے لیے سپیسیفیک فضیلت نہیں بلکہ ایک جنرل فضیلت ہے! تو آپ کو کیا حق ہے کہ آپ حدیث کو اپنے مطلب کے مطابق سمجھیں اور ایک غلط فہم لوگوں میں نشر کریں۔
اور رہا مسئلہ کہ اس حدیث میں جو فضیلت وارد ہوئی ہے وہ سپیسیفیک نہیں جنرل ہے، تو یہ مرزا صاحب کی بہت بڑی غلطی ہے۔
اگر حدیث میں مذکور اس لشکر کے لیے جنت کی بشارت کوئی خاص فضیلت نہیں بلکہ جنرل ہے تو پھر حضراتِ عشرہ مبشرہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنتی کہا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی کہا، جناب عمر رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت سنائی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لے کر کئی مرتبہ آپ کو جنتی کہا اور اسی طرح سیدنا جناب علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت سنائی، تو کیا یہاں بھی یہ کہیں گے کہ یہ جنت کی بشارت کونسا کوئی خاص فضیلت ہے بلکہ یہ تو ہر مسلمان کو حاصل ہے، سب نے ایک نا ایک دن جنت ہی میں جانا ہے، اور یہ تو ایک جنرل فضیلت ہے؟ ہرگز نہیں کہہ سکتے! کیوں کہ کسی عام مسلمان کا بھی یہ فہم اور عقیدہ ہے کہ ان ہستیوں کو خاص کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنتی کہا تو یہ فضیلت اس طرح نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ یہ تو ہر مسلمان کو حاصل ہے، کیوں کہ سب نے جنت میں جانا ہے۔ تو پھر جب حدیث میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے اس لشکر کا ذکر آتا ہے تو آپ کس طرح اسے جنرل اور عام فضیلت قرار دے سکتے ہیں؟ لہٰذا جس طرح کسی صحابی کے لیے by name جنت کی بشارت کا ہونا اور کسی عام مسلمان کا جنتی ہونا برابر نہیں، اسی طرح صحابہ کے ایک خاص گروہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنت کی بشارت ملنا، باقی تمام عام مسلمانوں کو جنت کی بشارت ملنے کے مترادف نہیں ہو سکتا۔
اگر آپ کہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم کا تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ اور اس لشکر سے تقابل ہی نہیں بنتا، تو مرزا صاحب ہم یہی بات تو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اگر سابقین و اولین صحابہ کے لیے جنت کی بشارت اور بعد والے صحابہ کے لیے جنت کی بشارت برابر نہیں، تو پھر ایک عام مسلمان کو جو عمومی طور پر جنت کی بشارت حاصل ہے وہ اور جو بشارت ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حاصل ہے وہ کیوں کر برابر ہو سکتی ہے؟ یہی چیز تو سپیسیفیک ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
مرزا صاحب! آپ کا یہ کہنا کہ ”اول جیش من امتی……“ والی فضیلت سپیسیفیک نہیں، کیوں کہ جنت میں تو ساری امت نے جانا ہے، تو یہ آپ کی بہت ہی لاعلمی اور کم عقلی کا نتیجہ ہے! بھئی آپ غور کریں کہ جب ساری امت نے جنت میں جانا ہی ہے اور یہ بشارت ساری امت کو عمومی طور پر حاصل ہے، تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ساری امت سے اس خاص گروہ کو خصوصی طور پر ذکر کر کے جنتی کہنا یہی تو انکے لیے سپیسیفیک فضیلت ہے! ورنہ ساری امت میں سے اس لشکر کو خاص طور پر جنتی کہنے کا کیا مطلب؟
صحابہ کرام کو جگہ جگہ سے اللہ کی طرف سے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے، کہیں کہا کہ یہی فلاح پانے والے ہیں (سورۃ التوبۃ: 88)، کہیں کہا کہ سابقین صحابہ اور ان کے بعد والے صحابہ سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی، اور ان کے لیے اللہ نے جنتیں تیار کر رکھی ہیں (سورۃ التوبۃ: 100)، کہیں فتح مکہ سے پہلے صحابہ اور انکے بعد والوں کے بارے میں کہا کہ ان سب سے اللہ نے خیر و بھلائی کا وعدہ کیا ہے (الحدید:10)، کبھی کہا کہ اللہ نے ان صحابہ سے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے (الفتح:29)۔ مگر اس کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی خاص صحابی یا صحابہ کے کسی خاص گروہ کا خصوصی طور پر نام لے کر جنت کی بشارت سنانا، کیا اب بھی یہ فضیلت جنرل (عام) فضیلت ہے؟ اس سب کے بعد بھی اگر کوئی اسے عام سمجھے اور اشکالات پیدا کرنے کی کوشش کرے تو پھر ہم تو افسوس ہی کر سکتے ہیں بس۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے اس لشکر کے متعلق جس حدیث میں جنت کی بشارت وارد ہوئی ہے، اسی حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ کا وہ لشکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھایا گیا تھا، اور آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور بہت خوش ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری:6263)
اور احادیث میں اس بات کی صراحت بھی موجود ہے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، مگر مرزا صاحب کیا یہ اعزاز پوری امت کے ہر فرد کو حاصل ہے؟ کیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی امت کا ہر ہر فرد دکھایا گیا ہے کہ انہیں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوئے ہوں پھر انکے بارے میں جنت کی بشارت بھی سنائی ہو؟ اگر جواب نہیں ہے، تو پھر کس طرح اس حدیث میں وارد شدہ خصوصی فضیلت اور مسلمانوں کو عمومی طور پر حاصل ہونے والی فضیلت برابر ہو سکتی ہیں؟ کیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کو ان صحابہ کے بارے میں جنرل فضیلت قرار دیا جا سکتا ہے؟
اب اس گفتگو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے والی عام فضیلت کی وضاحت کی ضرورت تو نہیں رہتی جو کہ ہمارے صاحب نے دلیل کے طور پر پیش کی۔ اگر ہر کوئی نماز پڑھ کر جنت حاصل کر سکتا ہے، تو کیا وہ لشکر کے لوگ جس کے متعلق حدیث میں بشارت آئی ہے نماز نہیں پڑھتے تھے؟ تو عمومی فضیلت میں تو وہ پہلے ہی سے شامل تھے مگر اختصاص کے ساتھ بذریعہ وحی انکا ذکر کیا جانا اور پھر جنت کی بشارت دینا، یہی تو ان کے لیے سپیسیفیکلی فضیلت ہے، مگر کیا کریں کہ جب کوئی ہٹ دھرمی پر اتر آئے اور جان بوجھ کر حق جھٹلائے۔

مرزا صاحب کی گفتگو کا آخری حصہ:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں مروی فضیلت کو اچھی طرح سے مشکوک تو بنا لیا، اب کوئی گنجائش باقی نا رہ جائے اور کہیں تنقید کا دروازہ نا بند ہو جائے اس لیے مسئلے میں مزید رنگ بھرے گئے۔ سوال تو فضیلت کے متعلق تھا کہ آپ اسکا انکار کرتے ہیں، جو کہ آپ نے اس ویڈیو میں بھی کیا، پھر اسکے بعد ان باتوں کا کیا مقصد تھا جو کی گئیں؟ کیا سائل نے یہ سوال کیا تھا کہ کسی کے متعلق فضیلت کا ہونا اس کے برے اعمال کا کفارہ بنتا ہے یا نہیں؟ یہ تو مسئلہ ہی الگ ہے مرزا صاحب، اور عنوان سے بالکل ہٹ کر ایک بے مقصد سی بات ہے، بھلا کس نے کہا ہے کہ کسی کے متعلق فضیلت اس کی غلطیوں کا کفارہ بن جاتی ہے؟ ہم تو بس آپ کی اس بات کا جواب دے رہے ہیں جو آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کچھ بھی ثابت نہیں، اور جب ہم ثابت کریں تو آپ اس پر بھی بس نہیں کرتے اور بجائے تسلیم کرنے کے اس میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ اور رہی بات صحیح بخاری -2812- کا نام لے کر اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں وعید قرار دینا تو اس کی حقیقت کو بھی ان شاء اللہ اپنے مقام پر واضح کیا جائے گا۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کرتے چلیں کہ اول تو اس حدیث میں کسی فرد واحد کے لیے کوئی وعید ہے ہی نہیں، اگر ہو بھی تو ذرا سوچیں کہ جب بات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بشارت کی ہو رہی ہے تو انہیں فوراً وعید یاد آ گئی لیکن کبھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ یہ وعید والی حدیث بیان کر رہے ہوں اور اس بشارت والی حدیث کی طرف بھی توجہ دلائی ہو! بلکہ اسے تو کبھی بیان کرتے ہی نہیں۔ جبکہ یہ بھی تو صحیح بخاری ہی کی حدیث ہے؟ اب اس کے پیچھے مشن حق گوئی ہے یا کچھ اور، اس کا فیصلہ آپ کے سپرد ہے۔